لوڈشیڈنگ کا واحد حل کالاباغ ڈیم ہے‘ اسی سال فیصلہ ہو جائیگا: شجاعت

11 جولائی 2015

لاہور (آن لا ئن)چودھری شجاعت  نے کہا ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلہ کا واحد حل کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہے جس کا اسی سال فیصلہ ہو جائے گا، مسلم لیگ ن ناکام ہو چکی ہے، چودھری پرویز الٰہی کی قائم کردہ ریسکیو 1122 کیلئے بھیک مانگنے والے اب ہسپتال بھی ٹھیکے پر دے رہے ہیں، عوامی مسائل کے حل کیلئے مسلم لیگوں سمیت تمام اپوزیشن کا اتحاد ضروری ہے۔ وہ یہاں میڈیا کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے نوازشریف مودی ملاقات کے حوالے سے کہا بھارتی وزیراعظم ذہنی طور پر مسلمانوں کیخلاف ہیں، انہیں مبارکاں دینے والوں کو اسی وقت کہہ دیا تھا پہلے مودی کا موڈ دیکھ لو۔ فوج کی نیت ٹھیک ہے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنی مقبولیت سے ہٹ کر پاکستان بارے سوچتے ہیں کراچی میں سیاسی مصلحتوں کے باعث اب تک آپریشن نہیں ہو سکا تھا، کراچی اپریشن اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا، ضرب عضب سے دہشت گردی کم ہوئی ہے، آپریشن میں تاخیر سے ہلاکتوں کے ذمہ دار جنرل کیانی ہیں جن کو اپنی ٹرم میں توسیع کی فکر تھی۔ حکومت اور فوج اگر ایک پیج پر ہیں تو کتابیں جدا ہیں، پاکستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ باضابطہ طور پر اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہئے۔ ق لیگ کے خلاف 2013ءمیں دھاندلی کے باوجود وہ چوتھی بڑی جماعت تھی۔ کرپشن میں ملوث تمام چھوٹی یا بڑی مچھلیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے نیب کی لسٹ میں شامل 150 کیسز کا بارہ گھنٹے کے اوپن ٹرائل کے بعد فیصلہ سنا دیا جائے۔ میں نے اور اس سے پہلے 1981ءمیں میرے والد چودھری ظہور الٰہی شہید نے جھوٹے الزامات پر برطانوی اخبارات سے مقدمات جیتے اور ہرجانہ وصول کیا جبکہ نوازشریف منی لانڈرنگ کے الزام پر بی بی سی کے خلاف میرے مشورہ پر بھی عدالت نہیں گئے اب الطاف حسین کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے۔ تمام ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان سے اچھے تعلقات نہایت ضروری ہیں اور اس کیلئے پاکستان کو پہل کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہئے، پاکستان بالخصوص بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے خلاف ہماری حکومت کو بے ضابطہ طور پر بھی اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہئے۔ عوام مسائل کے حل کیلئے نیک نیتی ضروری ہے دوسروں کی جگہ اپنی تختیاں لگانے اور سابق حکومتوں پر الزام لگانے کی بجائے اپنی کارکردگی بہتر کرنی چاہئے صرف ایک روٹ کے مسافروں کیلئے جنگلہ بس پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے ہسپتالوں، سکولوں اور عوامی فلاحی منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔
چودھری شجاعت