عالمی امن کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ

11 جولائی 2015

وزیر اعظم میاںمحمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کر رکھی ہے، وہ پوری دنیا میںبھی قیام امن کو یقینی بنائے گی۔
اس بات میںکوئی شک نہیں کہ نائن الیون کے حوادث میں پاکستان کا کوئی شہری ملوث نہیں تھا مگر جو عملی صورت پیدا ہوئی وہ یہ تھی کہ ہماری سرزمین دہشت گردی کا مرکز اور میدان جنگ بن گئی۔ ہم مشرف کو مطعون کرتے ہیں کہ اس نے کسی سے مشورہ کئے بغیر پاکستان کو امریکی جنگ میں جھونک دیا مگر مشرف کو منظر سے ہٹے آٹھ برس ہونے کو ہیں،اور پاکستان اب بھی وار آن ٹیرر کا سرگرم کردار ہے۔مشرف کے پاس نہ پارلیمنٹ تھی، نہ اس نے اپنی کابینہ تک سے مشورہ کیا لیکن اگر اس کا فیصلہ غلط تھا، جیسا کہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے تو اس کے جانے کے بعد نہ زرادری نے اور نہ اب نواز شریف نے اس جنگ سے قدم پیچھے ہٹائے ہیں، اس لئے نہیں ہٹائے کہ آہستہ آہستہ یہ جنگ پاکستان کی سلامتی کے لئے ضروری ہو گئی۔ہمارے ملک کے چپے چپے میں دہشت گردوںنے کاروائیاں کیں اور اب تک ستر ہزار افراد کو شہید کر دیا گیا ہے، فوج تو ان کا نشانہ ہے ہی، عام آدمی بھی ان کے خود کش حملوں سے محفوظ نہیں اور کسی جگہ بھی نہیں، نہ مسجد میں، نہ چرچ میں ، نہ امام بارگاہ میں، نہ تعزیے کے جلوس میں، نہ عید میلادالنبی ﷺ کے جلوس میں، نہ جنازے میں، نہ دکان میں، نہ مدرسے میں ، نہ مارکیٹ میں، ہر طرف موت کی دہشت چھائی رہی اور ہمیں اس کا مقابلہ ہر صورت میں کرنا تھا، یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی یا کسی کو پاکستان کے وجود سے پر خاش تھی، وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے مگر ہمیں اپنا دفاع تو ہر حال میں کرنا تھا، ہم نے سوات پر قبضے کے خلاف فوجی آپریشن کیا اور فاٹا میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے اب ضرب عضب کے نام سے ا ٓپریشن جاری ہے جس کی کامیابی کی دلیل یہ ہے کہ ہم وزیری مہاجرین کی واپسی، خواہ جزوی ہی سہی، کے قابل ہو گئے ہیں اور شاید اس عمل کو تیز کرنے کے لئے اگر مالی وسائل کی کمی ہے تو اس کو دور کرنے کے لئے آرمی چیف اور وزیر خزانہ کی جمعرات کی ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ اور نیٹو کی بہت بڑی طاقت بھی بارہ برس سے سرگرم عمل ہے مگر اسے وہ کامیابی نہیں ملی جو پاک فوج نے حاصل کی ہے اور بیش بہا قربانیاں دے کر کی ہے۔پاکستان کی اس کامیابی پر عالمی طاقتیں دنگ رہ گئی ہیں اور ہمارے آرمی چیف کو اب چین، امریکہ ، روس، اور برطانیہ تک میں اعلی پروٹوکول دیا جاتا ہے، یہ عزت پاک فوج کی بھی ہے اور پاکستان کی پوری قوم کی بھی ہے جس نے جان اور مال کی قربانیاں دے کر اور اپنے پختہ عزم پہ قائم رہ کریہ فقید المثال کامیابی حاصل کی ہے، پاکستان کی دفاعی قوت کادنیا نے لوہا مان لیا ہے اور جو ملک ہمیں زیر و زبر کرنے کے لئے پس منظر میں رہ کر سازشیں کر رہے ہیں ، انہیں بھی معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان الحمد للہ تر نوالہ نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ دنیا کے لئے کیوں اہم ہے، اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔وہ یہ ہے کہ فاٹا کا علاقہ عالمی دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، یہاں سے چین اور روس تک مار کی جاتی ہے، ازبک، عرب اور کئی اقوام کے دہشت گرد وںنے اس علاقے میں مورچہ لگا رکھا ہے ، ان کا خیال تھا کہ یہ علاقہ آج تک کوئی بھی فتح نہیں کر سکا ، مگر پاک فوج نے اس نظریئے یا واہمے کو غلط ثابت کر دکھایا ہے، ضرب عضب میںہمارے ٹروپس نے دا دشجاعت دی، جانوں کی قربانی پیش کی اور ان کے اہل و عیال نے کمال صبر و ضبط سے کام لیا، یہاں سے وقتی طور پرگھر بار چھوڑنے والوںنے بھی کوئی شور نہیں مچایا اور ملک میں قیام امن کی خاطراپنے مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔
مشرف نے ایک بار واویلا کیا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی ہو، اسپین میں، چین میں ، روس میں، برطانیہ میں ، کھرا پاکستان کے فاٹا کے علاقے تک پہنچتا تھا جس سے ہم بدنام ہو رہے تھے اور دنیا ہمیں الزام دیتی تھی کہ ہم نے دہشت گرد پال رکھے ہیں۔چین کے صوبے سنکیانگ میں تو بار بار دھماکے ہوتے تھے اور چینی صدر نے غصے میں کہاتھا کہ قراقرم کی چوٹیوں پرسیمنٹ اور فولاد کی دیوار آسمان کی بلندیوں تک کھڑی کر دی جائے۔ مگر اب دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو گئی ہے اور اقوام عالم کو سکون کی نیند سونے کا موقع ملا ہے۔ اس کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے اور اسی حقیقت کی طرف وزیر اعظم نے اشارہ کیا ہے۔
مگر دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا نے ہمارے نقصانات کو پورا کرنے کی طرف دھیان نہیں دیا، شاید وہ سمجھتی ہے کہ یہ سب ہمارا فرض تھا، کیسے ہمارا فرض تھا، ہم نے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کا نقصان اٹھایا۔ ہماری معیشت زیر و زبر ہو گئی، ہمارے پاس بچوں کی تعلیم ، بیماروں کے علاج، اور گھروں اور صنعتوں کے لئے بجلی ناپید ہو گئی ، آج ہم پانچ ہزار میگا واٹ شارٹ فال کا شکار ہیں، ہمارے ہاں اندھیروں کا راج ہے، لوگ فاقے برداشت کر نے پر مجبور ہیں۔الٹا ہمیں طعنہ دیا جاتا رہا کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا ہے اور افغان مجاہدین کی سرپرستی کرر ہا ہے۔ بھلا افغان مجاہدین سے پاکستان کو کیا پرخاش تھی، وہ ہمیں نہیں چھیڑ رہے تھے، وہ ان کے خلاف مصروف پیکار تھے جنہوںنے ان کے ملک پر قبضہ جمایا تھا اور اگر پاکستان نے ان کے ساتھ پنجہ نہیں لڑایا تو آج اسی بنا پر افغان حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر رہاہے ،ا ن مذاکرات میں دوسری عالمی قوتیں بھی شریک ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف افغانستان میں امن آئے گا بلکہ خطے میںبھی استحکام پیدا ہوگا۔
دنیا کو اس امر کا بھی احساس کرناہوگا کہ ایک تو پاکستان کے معاشی نقصانات کا ازالہ کرے اور دوسرے افغان امور میں بھارت کو ٹانگ لڑانے کی اجازت نہ دی جائے، بھارت کو افغانستان سے کیا سروکار، اس کا کوئی مفاد اس ملک سے وابستہ نہیں لیکن اسے کابل کا تھانیدار بنانے کی سازش ہو رہی ہے جس سے پاکستان کو بجا طور پر خدشہ لاحق ہے کہ بھارت نے اس ملک میں قدم جما لئے تو وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو فروغ دے گا۔ اور اب تک کاسارا کیا کرایا دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔
وزیر اعظم اہم تریںعالمی کانفرنسوں میں شریک ہو رہے ہیں، انہیں پاکستان کے ان خدشات سے دنیا کو کما حقہ آگاہ کرنا چاہئے۔چین کی حکومت کے ہم شکر گزار ہیں کہ اس نے بھارتی پروپیگنڈے پر کان نہیں دھرے اور لکھوی کے مسئلے کو سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا، چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی خلوص اور پائیدار اصولوںپر مبنی ہے۔
مقام شکر ہے کہ آج پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی اختلافی رائے نہیں۔ یہی قومی اتفاق رائے اس جنگ میں حقیقی کامیابی کا ضامن ہے۔