کرپشن پر وزیر گرفتار، خیبر پی کے احتساب کمیشن کی قابل تقلیدمثال

11 جولائی 2015
کرپشن پر وزیر گرفتار، خیبر پی کے احتساب کمیشن کی قابل تقلیدمثال

خیبر پی کے کے احتساب کمیشن نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے سابق صوبائی وزیر معدنیات محمود زیب سمیت نو افراد کو انہی الزامات کے تحت علیحدہ علیحدہ مقدمات میں حراست میں لیا ہے۔
خیبر پی کے میں احتساب کمیشن چند ماہ قبل تشکیل دیا گیاتھا۔یہ اسکی غیرجانبداری کاثبوت ہے کہ اسے صوبائی وزیر کی مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملے تو اسے بھی دھرلیا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ ضیاء اللہ آفریدی پی ٹی آئی کے مضبوط ترین کارکن ہیں لیکن کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ نیب کے ہاتھوں گرفتار وزیر معدنیات کو استعفیٰ دینا پڑیگا۔احتساب کمیشن کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے اسی مقدمے میں ڈائریکٹر جنرل محکمہ معدنیات کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔دوسری طرف قومی احتساب بیورو نے بھی خیبر پی کے میں کارروائی کرتے ہوئے سابق وزیر معدنیات نوابزادہ محمود زیب کو نو اعلیٰ افسروں سمیت گرفتار کیا ہے۔ قومی احتساب بیورو اسی طرح ان ایکشن ہوتا تو گزشتہ دنوں 150 میگا کرپشن کے کیسوں میں محض لسٹ نہ پیش کی جاتی۔ کرپٹ لوگوں کیخلاف کی گئی کارروائی کا ریکارڈ پیش کیا جاتا۔ غیر جانبدارانہ اور شفاف احتساب مصلحتوں اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ خیبر پی کے حکومت نے دوسرے صوبوں اور مرکزی حکومت کیلئے ایک قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔ نیب اور احتساب کے دیگر اداروں کو بھی خیبرپختونخواہ کے احتساب کمیشن کی طرح عملی طور پر خود محتار بنانے کی ضرورت ہے۔