لیلۃ القدرکی تلاش

11 جولائی 2015

ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی رقم طراز ہیں:۔رمضان المبارک کی ایک رات جو آخری عشرہ کی کوئی طاق رات ہے لیلۃ القدر ہے، اس میں قیام اورعبادت کا اجر ہزار مہینوں سے زائد ہے ، قرآن مجید کی سورہ قدر اس رات کی عظمت کا الہامی اعلان ہے۔ ارشادپروردگار ہے:’’اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا ، مہربان ہے۔ بے شک ہم نے اس کو یعنی قرآن مجید کو قدر کی رات نازل کیا، آپ نے کیا سمجھا کہ قدر کی رات کیا ہے ، قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے اورروح اترتے ہیں ہر کام میں سلامتی ہے، فجر طلوع ہونے تک۔‘‘(سورہ القدر )
لیلۃ القدر کی فضیلت تو سورۃ مبارکہ کے ہرکلمہ سے عیاں ہے، ایک ہزار مہینوں سے بہتر کہ ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے، ہزار کی تحدید بھی ضروری نہیں کہ عربوں میں ’’الف‘‘یعنی ہزار سے بڑھ کر کوئی گنتی کاکلمہ نہ تھااس لئے نہ ختم ہونے والی گنتی سے بھی بڑھ کر اجر کا اعلان ہوا، فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ رحمت عام کی گھڑی ہے اورروحیں آتی ہیں کہ آج کی رات ہر قسم کی حد بندیوں سے آزادی کی ہے، یہ بھی کہاگیا کہ اس سے روح الامین یعنی جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں کہ وہ بھی آتے ہیں، یہ سب سماں ان کے رب کی اجازت سے ہے، یہ لمحات ہمہ خیر ہیں، مکمل سلامتی کی یہ گھڑیاں طلوع فجر تک کائنات کو پیغام امن و سلامتی دیتی ہیں، اس ہمہ فضیلت رات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل یہ تھا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہہ بندکو مضبوط کرلیتے (عربی محاورے میں اس سے مراد مکمل تیار ہونے کے ہیں)اپنی رات کو زندہ رکھتے یعنی رات جاگتے اوراپنے گھر والوں کو بیدار کرتے ‘‘۔(صحیح بخاری )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیںکہ آپ نے ارشادفرمایا: ’’جس نے لیلۃ القدر میں قیام کیا،ایمان کے ساتھ اورجزاء کے یقین کے ساتھ تو اس کے پہلے تمام گناہ بخش دیئے گئے۔‘‘(صحیح بخاری)
اس رات کی برکات کے حوالے سے باران رحمت کی کیفیات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ کس طرح تمام فضا اورسجدہ گاہیں سیراب ہوگئیں ، یہ ان شب بیداریوں کی برکتیں تھیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر ہر صاحب نظر ولی حتیٰ کہ عام اُمتی بھی اس رات کی تلاش میں رہے ہیں ، یہ تلاش صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بڑی شدت سے تھی اسی لئے روایات میں اس کی نشاندہی کے متعدد آثار ملتے ہیں۔(عقائد وارکان)