ہفتہ ‘23 ؍ رمضان المبارک ‘ 1436ھ ‘ 11 ؍ جولائی 2015ء

11 جولائی 2015

تحریک انصاف ڈی جے بٹ کے بعد ٹینٹ سروس کی بھی نادہندہ نکلی 90 لاکھ کے بل میں سے 40 لاکھ کی ادائیگی، 46 لاکھ باقی ہیں
عمران خان نے دھرنے کیلئے بڑا بجٹ رکھا ہوا تھا۔ اسکے بڑے انتظامات کرنے کا شہرہ تھا۔ لیکن اصل حقیقت تب کھلی جب 14 اگست کو مارچ لاہور سے چل کر اسلام آباد پہنچا تو اسلام آباد میں سیف اللہ نیازی نے نہ تو اتنے بڑے مجمعے کیلئے واش روم بنائے تھے نہ ہی انکے رہنے کیلئے کوئی خاص انتظام تھا مجمع اسلام آباد کی سڑکوں کو گندا کرتا رہا اور خان صاحب دہائیاں ہی دیتے رہے۔ آزادی مارچ میں کچھ لوگوں کے دن واقعی پھر گئے ہیں۔ بعض تو کھکھ پتی سے لکھ پتی بھی بن گئے عمران کے دھرنے کیلئے بقول شیخ رشید لوگوں نے دل کھول کر چندہ دیا بلکہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ جب میں یورپ میں گیا تو لوگوں نے مجھے اس قدر پیسے دیئے کہ میں وہ پیسے پاکستان لانے سے ڈرنے لگا کہ کہیں ایف آئی اے مجھے گرفتار نہ کر لے۔ اگر اتنی زیادہ رقم اکٹھی ہوئی تو پھر ڈی جے بٹ کے بعد ٹینٹ والوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں ابھی تک پے منٹ نہیں کی گئی یوں لگتا ہے کہ دھرنے سے صرف وڈیروں کے دن پھرے ہیں ورنہ عام کارکن تو خسارے میں ہی رہا ہے۔ علامہ قادری کے پاس اس قدر پیسہ تھا کہ انکی آج تک کسی نے شکایت نہیں کی۔ اگر عمران خان کی طرح انہوں نے بھی یہ پیسے اپنی جیب یا فنڈ سے دینے ہوتے تو کب کے کنگال ہو چکے ہوتے۔ دھرنا ختم کرتے وقت انکے کارکنان دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ انہیں دھرنے ختم ہونے سے زیادہ اپنی دھاڑی ختم ہونے کا غم تھا۔ علامہ کے دھرنے میں تو کارکنوں کے بھی وارے نیارے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی خوب مال دیا گیا۔ تین وقت کی روٹی سے لیکر جیب خرچ تک باقاعدگی سے ملتا ۔
وہاں پر پراڈو مافیا مزید مال دار ہوا ہے۔ عمران خان نے ارکان اسمبلی کی دھرنے والی تنخواہیں واپس کرنیکا اعلان کیا ہے۔ جناب تنخواہیں واپس کرنیکی کی بجائے ان سے قرض اتاریں ٹینٹ والوں کو دیں۔ ویسے بھی رمضان میں زکوۃ کافی اکٹھی ہوگئی ہو گی اسے بھی استعمال کر لیں کیونکہ باقی فنڈز تو جہاں جانے تھے چلے گئے اب ان مزدوروں کا کیا قصور ہے؟
…٭…٭…٭…٭…
رمضان کے آخری عشرے میں عوام گرانفروشوں کے ہاتھوں لٹ گئے۔
رمضان شروع ہوتے ہی گدا گروں کی چاندنی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر چوک اور چوراہے پر عوام ان کی محتاجی دیکھ کر انکی مٹھی بھر کر اپنی اخروی کامیابی سمیٹتے ہیں۔ اگر وہاں سے فارغ ہوں تو رمضان بازاروں میں گرانفروشوں کی زنبیلیں بھرنا پڑتی ہیں۔ حکومت نے تمام فروٹ منڈیوں پر انتظامی عملہ مقرر کر رکھا ہے لیکن دکاندار عملے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ رمضان سے قبل 15 روپے کلو فروخت ہونیوالا آلو اب 38 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ہر سبزی میں 10 روپے سے لیکر 100 روپے تک خود ساختہ اضافہ کر لیا گیا ہے۔ دکاندار سمجھتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اکثر گاہک پریشان حالی میں ایک مخصوص قسم کی نیم نابینا سی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی لئے انکے ساتھ ہر قسم کی ٹھگی لگائی جا سکتی ہے بعض مکار تو اوپر سے روزہ دار نظر آتے ہیں مگر اندر سے مکمل بے روزہ ہوتے ہیں۔ یہ گھٹیا لوگ عام طور پر بگلا بھگت بنے ایک طرف متوجہ ہوتے ہیں مگر کانی آنکھ سے صرف گاہک کی حرکتوں کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں‘ ان سے بچنا چاہیے۔
…٭…٭…٭…٭…
عید پر پنجاب کی اہم تنصیبات کی سکیورٹی سخت، وی وی آئی پی افراد کو عید گاہوں میں نماز نہ پڑھنے کی ہدایت
دہشت گردوں سے محفوظ رہنے کیلئے اب ہر شخص کو اپنے گھر میں ہی مسجد تعمیر کر لینی چاہیے لیکن اگر دہشت گرد وہاں بھی گھس آئے تو پھر کیا کریں گے اس لئے حکومت سے گزارش ہے کہ وہ دہشت گردی پر ہی قابو پا لے تاکہ عوام مسجدوں میں جا کر نماز تو ادا کر لیں۔ انسان باقی تمام نمازیں تو گھر میں پڑھ لے گا لیکن نماز جمعہ اور نماز عیدیں کیلئے تو مسجد یا عیدگاہ میں جانا پڑیگا۔ اب حکومت نے جن وی آئی پیز کو خطرے سے آگاہ کیا ہے وہ اپنے گھروں میں اب عید گاہ بھی بنا لیں اس لئے انہیں بڑے گھر بنانا ہونگے۔ بڑے گھروں کیلئے زیادہ پیسے چاہئیں اور پیسوں کیلئے کرپشن کرنا پڑیگی۔ معاملہ پھر آ جا کر خزانے کی تباہی پر ہی ختم ہو گا۔ اس لئے حکومت وی آئی پیز کو مشورے دینے کی بجائے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر کرے تاکہ ہر کوئی اپنے جان و مال کی فکر چھوڑ کر روٹی روزگار کی فکر کرے اور غربت میں بھی کمی واقع ہو۔ اگر حکومت یہ کام کرتی ہے تو پھر سڑکوں پر دمادم مست قلند ہو گا نہ ہی چوکوں چوراہوں اور مارکیٹوں میں لاشیں گرینگی۔ عوام اپنا پیٹ کاٹ کر سرکار کو تنخواہوں کا پیسہ دیتے ہیں۔ لہذا سرکار اسکے بدلے عوام کو ریلیف بھی تو دے ۔ وارننگ جاری کرنا کوئی اصول نہیں۔
…٭…٭…٭…٭…
سرکاری زمینیں واگزار کراکے بے گھروں میں مفت پلاٹ بنا کر تقسیم کریں گے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر
یہ پلاٹوں کی سیاست کشمیری سیاست دانوں اور حکمرانوں کے گٹے گوڈوں میں بیٹھ گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے قیام کے بعد وہاں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت نے پہلے تو کشمیری مہاجرین کو گھر بنانے کیلئے پلاٹ دینے کا اعلان کرکے بے وقوف بنایا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور کشمیری مہاجر ووٹر بے وقوف بنتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر ذرا بلوچستان میں مقیم کشمیریوں کے پلاٹوں کا حشر دیکھ لیں 65 برس گزر گئے ان کو ملنے والے پلاٹوں میں سے آدھے سے زیادہ حکومت آزاد کشمیر کے من پسند ہڑپ کر گئے اور باقی رہے سہے پلاٹوں پر موجودہ حق پرست ایم ایل اے کی نظر ہے۔ کیا ان کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ ویسے یہ پلاٹوں کی تقسیم کا درد ہمارے حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے آخری عرصے میں ہی کیوں اٹھتا ہے۔آزادکشمیر کی مختصر سی ریاست کے طفیل ان سیاست دانوں نے جو کچھ کمایا وہ ان کی سات پشتوں کیلئے کافی ہے۔ ورنہ جس ریاست میں سڑکیں موٹرسائیکل اور رکشہ چلانے کیلئے تنگ پڑتی ہوں وہاں سرشام پراڈو، پجارو اور لینڈ کروزر کی بھیڑ بھاڑ ان نودولتیؤں کے سرشام مشاغل کا پتہ دیتی ہیں۔