نیا عالمی معاشرہ اور معاشی استحکام!

11 جولائی 2015
نیا عالمی معاشرہ اور معاشی استحکام!

ادھر دنیا کے افق پر نئی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ دعویٰ تو یہ بھی ہے کہ دنیا علاقائیت کاشکار ہو چکی ہے۔ یورپ میں یورپی یونین فروغ پا رہی ہے تو امریکہ نے کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ نیفٹا تشکیل کرلیا ہے۔ دوسری طرف یورپین کو آپریشن آرگنائزیشن یعنی ’’ایکو‘‘ اور سائوتھ ایشین ریجنل کواپریشن یعنی ’’سارک‘‘ بھی پر تول رہے ہیں۔ کم ترقی یافتہ ممالک سے درآمدات میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ صرف خام مال کی درآمد کی اجازت ہے۔ مینو فیکچررز کی راہیں مسدود ہیں یعنی تحفظاتی ڈیوٹیاں کم اور ڈیویلیوایشن کا دور دورہ ہے جس سے مہنگائی زیادہ اور ملازمت کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں، مقامی باشندے ملازمت کیلئے بیرون ملک نقل مکانی کررہے ہیں مقامی سرمایہ باہر منتقل ہو رہا ہے۔ اب حقیقی معنوں میں امریکہ سمیت دنیا بھر میں کہیں بھی آزاد معیشت یعنی فری اکانومی نہیں۔ علاقائیت سر اٹھا رہی ہے۔ حال ہی میں جب امریکہ نے ڈبلیو ٹی او کے اصول نظر انداز کرتے ہوئے یورپی یونین سے گوشت کی درآمد میں کمی کرنا چاہی تو یورپی یونین نے امریکہ سے کیلے کی درآمد پر ڈیوٹی میں اضافہ کردیا، امریکہ اپنی مقامی صنعت کو تحفظ دیتا ہے تو برطانیہ اپنی صنعت وحرفت کو جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ایسا نہیں ہے۔ اگر ’’ین‘‘ کمزور ہوتا ہے یعنی جاپانی کرنسی کی قیمت کم ہوتی ہے تو جی ایٹ یعنی دنیا کے آٹھ بڑے ممالک متحد ہو کر جاپان سے درآمدات پر پابندی لگا دیتے ہیں تاکہ ان ممالک کی صنعت کاری متاثر نہ ہو۔
ترقی پذیر ممالک میں ٹیکنالوجی اور سماجی انفراسٹرکچر کی کمی ہے جو آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی اور ورلڈ بینک برٹن ووڈ معاشی نظام میسر نہیں کرتا۔ لہٰذا موجودہ مسائل کا حل یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور ترقی یافتہ ممالک سرمایہ اور صنعت وحرفت میں ایک دوسرے سے مربوط ہو جائیں تاکہ دنیا میں سماجی اور معاشی طور پر استحکام پیدا ہو اور صحیح خطوط پر ترقی ہو۔ آج دانشور سوال کررہے ہیں کہ جنگ عظیم کے بعد مارشل پلان اور برٹن ووڈ سسٹم مالیاتی نظام دنیا میں مختلف تہذیبوں میں سماجی اور اقتصادی ہم آہنگی کس حد تک پیدا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
نیا عالمی معاشی نظام
فری ٹریڈ اور گلوبلائزیشن یعنی آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او اور ورلڈ بینک کی معاشی پالیسیوں کی آڑ میں وہی غلطیاں نہیںدہرانا چاہئیں۔ چند سڑکیں ، ہسپتال اور سکول بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے جبکہ دوسری طرف دولت ترقی یافتہ ممالک میں واپس منتقل کرنے سے پروٹیکشنزم اور علاقائیت کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کیلئے ان اداروں کے پاس ڈیولیوایشن اور کسٹم ڈیوٹیاں کم کرنے کے علاوہ کوئی موثر اقدام نہیں جس سے معیشت منجملہ بہتر ہو ۔ اس کے برعکس ان امور سے انویسٹمنٹ اور پیداوار کم ہوتی ہے اور ادھر درآمدات زیادہ اور برآمدات کم۔ کم سے کم سال بسال پاکستان کا تجربہ یہی ہے۔ اکیسویں صدی میں ایک اور نظام ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ دنیائے زمانہ کی ضرورت کے تحت اجاگر ہوا ہے۔ اس کے تحت تمام ممالک کی بقاء اسی میں ہے کہ وہاں معاشی، سیاسی اور سماجی استحکام پیدا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ معقول سرمایہ کی دستیابی، ٹیکنالوجی اور صنعت وحرفت سے یہ ممالک ترقی کر سکیں۔ یہ صنعت ہی ہے جو اشیاء پیدا کرتی ہے۔ ہنر میں اضافہ کرتی ہے اور روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہے۔ صنعت کی ترقی سے خسارے کی سرمایہ کاری ، عدم تجارتی توازن اور افراط زر میں کمی ہوتی ہے۔ ان مسائل سے تمام ترقی پذیر ممالک دو چار ہیں۔ صنعت کے لئے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی تربیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے بغیر عالمی امن اور خوشحالی خام خیال ہے۔
ادھر سرمایہ کی فراہمی ترقی پذیر ممالک کے لئے مشروط اور اضافی قیمت کے ساتھ دینے کارجحان ہے ٹیکنالوجی کی بھی کمی ہے ۔ اگر دستیاب ہے تو ٹیکنیکل فیس، رائلٹی اور ماہرین کے کثیر معاوضہ کی وجہ سے اس کی لاگت قوت خرید سے باہر ہے۔ دوسری طرف جاپان جیسے ملک نے مقامی صنعت کے فروغ کو ہی ترجیح دی ہے چونکہ اعلیٰ تکنیکی صنعتی ہر خطے یا ملک میں قائم نہیں کی جا سکتیں تو ضروری ہے کہ ملک کی مقامی پیداوار اور دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔ یعنی جو چیز مقامی طور پر بن سکتی ہو وہ باہر سے نہ منگوائی جائے۔ اس طرح ہر ملک کے اپنے وسائل بھرپورا استعمال ہو سکیں گے۔
عالمی مربوطگی
فری ٹریڈ اور گلوبلائزیشن کے فائدے اور نقصانات اپنی جگہ لیکن کسی بھی ملک کی آزادی اور قومی توقعات کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح سے عالمی مفادات میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہوگی۔ ملکی اور غیر ملکی میں تمیز کرنا ہوگی۔ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ میں تمیز کرنا ہوگی۔ نئے اور پرانے نظام میں تمیز کرنا ہوگی، وگرنہ عالمی امن اور خوشحالی ناممکن ہوگی۔ بقول ورلڈ بینک کے صدر وولفنسن کے مقامی ملکیت اور شمولیت کے بغیر مطلوبہ نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے، وہ دن گزر گئے جب ترقی واشنگٹن یا کسی اور مغربی دارالحکومت میں بند کمروں میں ہوتی تھی یہ مشورہ مشعل راہ ہونا چاہیے!
کچھ عرصہ پہلے تک ممالک ایک دوسرے کی امداد کرتے رہے ہیں لیکن اب یہ رجحان ختم ہوگیا ہے۔ مالی امداد دینے والے ممالک امداد کے بجائے تجارت کی بات کرتے ہیںاور کڑی شرط لگاتے ہیں۔ ہر ملک اپنی سیاسی، معاشی وسماجی آزادی کا خواہش مند ہے۔ترقی یافتہ ممالک کی معیشت مضبوط ہے کیونکہ وہاں سرمایہ محفوظ اور تکنیکی تحفظ ہے، ان دنوں ترقی پذیر ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ڈیوٹی کی شرحوں یعنی ٹیرف کو بدلنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، ادھر ترقی پذیر ممالک کے ہاں سمگلنگ بھی زور پکڑ رہی ہے جو کہ ترقی یافتہ ممالک سے جنم لیتی ہے۔ کرپشن بڑھ رہی ہے۔ اس سے نہ صرف کم ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے بلکہ وہاں بے روزگاری اور محرومی کے تاثرات جنم لے رہے ہیں، کیا یہ انسانیت کی خدمت ہے! اگر سیاسی، معاشی اور سماجی ہم آہنگی مہیا نہیں ہوگی تو ملک کے باشندے اور ملک اپنی شناخت کھودیں گے۔ گلوبلائزیشن اور اچھے نظم ونسق کے حوالے سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ بہر حال جس ملک نے قومی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے گلوبل پالیسیاں اپنائی ہیں وہاں کچھ کامیابی ضرور ہوئی ہے۔ جاپان اور فرانس کا نام ان ممالک میں شامل ہے۔ معقول سیفٹی نیٹ کے بغیر جہاں گلوبلائزیشن کی پالیسیوں کو اپنایا گیا ہے وہاں سماجی اور اقتصادی بہتری نہیں ہوئی۔ انڈیا نے قومی ترجیحات کے ساتھ ساتھ گلوبلائزیشن پر عملدرآمد کیا ہے۔ نتیجتاً وہاں گلوبلائزیشن کے اثرات صنعت کی بہتری میں نظر آتے ہیں۔ ہندوستانی نژاد نوبل پرائز یافتہ امر تاسین کا مشورہ بھی یہی ہے دوسرے ممالک کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ بہر حال ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے باہمی اتحاد کے بغیر سیاسی اور اقتصادی بہتری نہیں ہو سکتی ہے۔ یورپی یونین اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی سیاسی، سماجی واقتصادی بے چینی ایک اور سرد جنگ کو جنم دے گی، ادھر روس لاطینی امریکہ اور ایشیا میں بھی یہی صورت حال ہے لہٰذا ذمہ دار اقوام کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حالات کو بہتر بنانے اور اختلافات ختم کرنے کے لئے جلد سے جلد قدم اٹھائیں، قومی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی الحاق ہی سے صورت حال بہتر ہوسکتی ہے، لہٰذا آئی ایم ایف ، ڈبلیو ٹی او، ورلڈ بینک معاشی نظام یعنی فری ٹریڈ اور گلوبلائزیشن جسے اصطلاح عام میں ’’واشنگٹن کنسین سس‘‘بھی کہتے ہیں عالمی معاشرے یا معاشی استحکام کا ضامن نہیں بن سکا۔ کلنٹن کے بعد بش اور اب دیگر اکابرین کے لئے اس عمل پر غور کرنا ضروری ہے۔ وگرنہ دنیاوی توازن قائم نہیں ہوگا تو دنیاوی امن وامان بھی قائم نہیں ہوگا جس سے ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ خود پس جائیں گے۔
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
…………………(ختم شد)