معیشت کی بہتری کی عالمی مالیاتی اداروں کی مضحکہ خیز رپورٹس

11 جولائی 2015

I.M.F.اور ورلڈ بینک کی پاکستانی معیشت کی بہتری کی رپورٹ صرف دکھاوا اور حقائق کے برعکس ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اپنے قرضوں سمیت پاکستان کی معیشت کو بہتر قرار دے رہے ہیں ۔ان کا مقصد قرضے لینے والے حکمرانوں کو تحفظ دینا ہے اور اپنے منافع کو یقینی بنانا ہے۔ اس طرح کی غلط رپورٹیں صرف اور صرف کرپٹ مافیا‘ کمیشن مافیا اور قرضہ معافی مافیا کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے جاری کی جاتی ہیں۔ جن کا حقائق سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ 1999ء میں بھی انہی حکمرانوں کے دور میں I.M.F.اور ورلڈ بینک کی جانب سے روزانہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی خبریں آتی تھیں لیکن جنرل مشرف نے اقتدار میں آکر 3 سال میں پاکستانی معیشت کو سنبھالا اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر عالمی قرضہ لئے بغیر 18ارب ڈالرہوگئے جس سے انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کو قبل ازوقت ادائیگی کرکے ملک کی جان چھڑائی۔ جنرل مشرف کے دور میں انٹرسٹ ریٹ 3-4% تھا اور معیشت حقیقی ترقی کی منازل طے کررہی تھی۔
بہرحال عالمی مالیاتی اداروں کو اس طرح کی رپورٹ جاری کرتے وقت یہ بھی بتانا چاہئے کہ موجودہ حکومت کے قیام کے تقریباً ڈھائی سال میں حکومت نے کتنا غیر ملکی قرض لیا ہے؟ اور اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر میں سے اگر لیا گیا قرض نکال دیا جائے تو پھر حقیقی طور پر ملکی معیشت کی کیا پوزیشن واضح ہوتی ہے؟ ایسا اس لئے نہیں کیا جاتا کیونکہ اس طرح کی رپورٹس کے اجراء سے ایک تو یہ بات واضح ہو جائیگی کہ ان عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا آخر اس ملک کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان؟ اور ساتھ ہی ساتھ ان کے پسندیدہ حکمران (جو قرض لیتے ہیں) انکی اصل کارکردگی بھی عوام کے سامنے عیاں ہوجائیگی کیونکہ قرض لیکر ملک چلانا تو کوئی مشکل کام نہیں۔ اصل کارکردگی تو قرض لئے بغیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنا اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کرنا ہے جس کی اب تک کسی جمہوری حکومت سے کوئی امید نہیں ہے۔
فی الحال تو حقیقی طور پر پاکستانی معیشت بہتر نہیں ہوئی اور نہ ہی اسکی مستقبل قریب میں کوئی امید ہے کیونکہ غیر ملکی قرض لیکر ملک چلایا جارہا ہے لیکن لوڈشیڈنگ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا چلاجارہا ہے۔ اگر ہماری معیشت اتنی ہی بہتر ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیوں ممکن نہیں ہورہا؟ اگر معیشت اتنی ہی مستحکم ہوچکی ہے تو ڈالر کی قیمت کیوں کم نہیں ہورہی؟ مارک اپ کی شرح کیوں 3-4%نہیں کی جارہی؟ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارک اپ کی شرح 3-4% کردی جائے تو ملک کی معیشت میں زبردست استحکام آئیگا اور کاروباری افراد سرمایہ کاری کریں گے جس سے بے روزگاری میں کمی ممکن ہوسکے گی۔ اگر شرح سود موجودہ سطح پر رہی تو کاروباری افراد مہنگے قرض کی وجہ سے سرمایہ کاری سے اجتناب کرتے رہیں گے جس سے کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہوتی چلی جارہی ہیں۔ اگر حکومت مارک اپ کی شرح کم کرے تو یقینی طور پر معاشی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوگالیکن حکومت نے تو اس تھوڑے بہت چلنے والے کاروبار کو بھی جمود کا شکار کردیا ہے اور بجٹ میں ہر بینک ٹرانزیکشن پر 0.6% ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرکے تاجروں اور صنعتکاروں کو عجب مشکل کا شکار کردیا ہے اور بجٹ کے نفاذ کے بعد سے لوگوں نے کاروباری سرگرمیاں تقریباً روک دی ہیں اور جن کی بھی بینکوں میں رقوم پڑی تھیں وہ مرحلہ وار نکال رہے ہیں کیونکہ اس قدر بھاری ٹیکس کا نفاذ معیشت شکن اقدام ہے جس کو فوری طور پر واپس لینا چاہئے تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں بہتری آسکے۔ اس ظالمانہ فیصلے کی مکمل واپسی میں جس قدر تاخیر ہوگی‘ ملکی معیشت کو اس کا اتنا زیادہ نقصان ہوگا۔
صنعتکار وں کی حکومت کو ویسے بھی عوام کا کوئی درد نہیں بلکہ انکی تمام پالیسیاں صنعتکاروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے تشکیل پاتی ہیں۔ انہوں نے انڈسٹری کو بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی قرار دیا ہے تاکہ صنعتکاروں کے منافع میں زبردست اضافہ ہوسکے لیکن عوام کو گھریلو استعمال کیلئے بجلی اور گیس دستیاب نہیں ہے اور شدید گرمیوں کے موسم میں بھی کراچی میں سی این جی کی ہفتے میں 2-2 دن مسلسل بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔پنجاب میں تو سرے سے سی این جی دستیاب ہی نہیں ہے۔ حالانکہ اگر حکمران عوام سے مخلص ہوتے تو انڈسٹری کو گیس دینے کے بجائے تھرمل پاور اسٹیشنز کوچلاتے اور لوڈشیڈنگ میں ممکنہ حد تک کمی لائی جاتی اور انڈسٹری میں لوڈشیڈنگ کرکے گھریلو صارفین کو ریلیف دیتے۔
پاکستان کی اصل معاشی ترقی تو چین کے ساتھ ہونیوالے معاہدوں پر جلد ازجلد عملدرآمد سے ممکن ہے اور چین کیساتھ اقتصادی راہداری سمیت اہم منصوبوں کی تکمیل کے بعد حقیقی طور پر پاکستان کی معیشت ترقی کی تیز رفتار منازل طے کریگی اور ملک میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا کیونکہ چین نے نقد رقوم قرض کے طور پر دینے کے بجائے پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری کی ہے اور میگا پروجیکٹس کی تعمیر میں چین کے بینک براہ راست سرمایہ کاری کرینگے جس سے ان منصوبوں میں کرپشن (کمیشن مافیا) کے کم امکانات ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان منصوبوں میں بروقت تکمیل بھی ممکن ہوسکے گی اور چین کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے سمیت بھاری سرمایہ کاری کا اعلان پوری پاکستانی قوم پر اعتماد کا اظہار ہے اور حکمرانوں کو چاہئے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے دروازوں پر کشکول لہرانے کی بجائے چین کے ساتھ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ممکن بنائیں اور پاکستان کی اصل ترقی کا راز بھی انہی منصوبوں کی تکمیل میں مضمر ہے۔