نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کے بل کی ترمیم کیساتھ منظوری

11 جنوری 2018

اسلام آبا د(نوائے وقت نیوز) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا ہے کہ جدید دور کے چیلینجز سے نبٹنے کیلئے پاکستان کو جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی نے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کے بل کا تفصیلی جائزہ کے بعد متعدد ترامیم کے ساتھ بل منظور کر لیا ۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان سیف اللہ کی صدارت میںپارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر ز محمد اعظم خان سواتی ، حاجی مومن خان آفریدی ، لیفٹینٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ، پروفیسر ساجد میراور سردار فتح محمد محمد حسنی کے علاوہ وزیر سائنس ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین ، سیکرٹری سائنس ٹیکنالوجی یاسین مسعود، چیئرمین ایچ ای سی ، چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل ، ریکٹر نسٹ، چیئرمین نیشنل ٹیکنالوجی کونسل و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میںوفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ممالک بے شمار ترقی حاصل کر چکے ہیں اگر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میںکھڑا کرنا ہے تو ملک میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ دینا ہوگا۔ ملک میں پہلے نیوٹیک کے ذریعے ڈپلومہ ہولڈر تیار کیے جارہے ہیں اس یونیورسٹی کے قیام سے ڈگری پروگرامز،ماسٹر اور پی ایچ ڈی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کرائی جائے گی جس سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگااور بیرون ممالک بھی ہنرمند افرادی قوت کی بہت زیادہ طلب ہے اس سے ملک و قوم دونوں کو فائدہ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایک شپ یارڈ ہے ، بنگلہ دیش کے پاس ایک تھا اب26 ہو چکے ہیں ۔ انڈیا کے پاس 150 اور چین کے پاس ایک ہزار سے زائد شپ یارڈ ہیں ۔ پاکستان کو موجودہ جدید تقاضوں کے مطابق ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 1950 میں80 فیصد نوکریاں غیر ہنر مند افرا د کو مل جاتی تھیں اب 90فیصد ہنر مند افراد کو نوکریاں ملتی ہیں ۔ ملک میں 3900 اداروں کے ذریعے تین لاکھ بچے ووکیشنل تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ انجیئرنگ میں تھیوری 80 سے89 فیصد ہوتی ہے جبکہ ٹیکنالوجی میں تھیوری 40 سے60 فیصد ہوتی ہے باقی پریکٹیکل ہوتا ہے ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں ٹیکنالوجی کی تعلیم کے فروغ کیلئے نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام کے بل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اورمتعدد ترامیم کے ساتھ بل منظور کر لیا گیا ۔قائمہ کمیٹی کو بل کی تفصیلات سے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا صدر پاکستان یونیورسٹی کے چانسلر ہونگے ۔آرمی چیف چیئرمین بورڈ آف گورنر ہونگے ۔ بورڈ آف گورنر 17 ممبران پر مشتمل ہوگا ۔ قائمہ کمیٹی نے متعدد ترامیم کے بعد بل کی منظوری دے دی ۔ سینیٹر سردار فتح محمد حسنی نے کہا کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر مملکت نے نیشنل ٹیسٹنگ سروسز ، کامسیٹس اور پاکستان سٹینڈر کوالٹی کنڑول اتھارٹی ریگولیشن جیسے اداروں پر بے شمار الزامات عائد کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا ۔انہوں نے کہا قائمہ کمیٹی الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں متعلقہ اداروں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے کیلئے ایجنڈے میں شامل کر کے متعلقہ اداروں کو طلب کرے جسے کمیٹی نے منظو ر کر لیا ۔