سپریم کورٹ کے حکم پر جاتی عمرہ ، گورنر، وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت شہر بھر میں سکیورٹی کے نام پر لگائی رکاوٹیں ختم، یقین دلاتا ہوں شفاف انتخابات کرائیں گے: چیف جسٹس

11 فروری 2018 (21:36)

 چیف جسٹس ثاقب نثار‘ مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ نے لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاﺅن ایچ 96‘ دفتر ایچ 180 ماڈل ٹاﺅن‘ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی رہائش گاہ جاتی امراءسمیت گورنر ہاﺅس‘ آئی جی آفس‘ پاسپورٹ آفس‘ ایبٹ روڈ اور گارڈن ٹاﺅن ‘جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ جوہر ٹاﺅن‘ جامع مسجد القادسیہ چوبرجی‘ ایوان عدل‘ جامعہ الحسنین‘ منہاج القرآن‘ سابق گورنر سلمان تاثیر کی رہائش گاہ کی سڑکوں سے رکاوٹیں رات بارہ بجے تک ہٹا کر صبح ساڑھے نو بجے سپریم کورٹ رجسٹری کے رجسٹرار کو رپورٹ جمع کروانے کے احکامات آئی جی پولیس پنجاب کو دیئے ہیں، عمل نہ کرنے کی صورت میں انہیں اگلے روز اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی تاہم عدالت کی ہدایت پر تمام رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ مزید برآں چیف جسٹس پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں بنائے گئے کمشن کی رپورٹ کی روشنی میں اقدامات اٹھا کر اس کی رپورٹ تین ہفتے میں رجسٹری فاضل عدالت کے پاس جمع کروانے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ صاف پانی کیس‘ سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے معاملے میں لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کررہا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر ان کی کابینہ کے ارکان رانا ثناءاللہ خان‘ منشاءاللہ بٹ‘ بیگم ذکیہ شاہ نواز‘ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا‘ رانا مشہود احمد خان‘ وزیراعلیٰ کے مشیر خواجہ احمد حسان‘ لارڈ میئر لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید سمیت دیگر مسلم لیگی ارکان سمیت وکلاءکی بڑی تعداد موجود تھی۔ چیف جسٹس نے سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو ڈانٹ پلائی اور انہیں کہا کہ شاہ سے زیادہ وفادار بننے کی کوشش مت کریں‘ خطرہ کس کو نہیں ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ مجھے دھمکیاں نہیں مل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزدل قومیں راستے بند کرتی ہیں۔ ایسا ہی ہے تو وزیراعلیٰ کے گھر پر توپچی بٹھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ نے کبھی ہمیں تو نہیں پوچھا کہ آپ کو کوئی ”تھریٹ“ ہے۔ ہمارے پاس کوئی ڈی ایس پی آتا ہے اور مجھے اور میرے ججوں کے بارے میں ”تھریٹ“ کا پوچھتا ہے لیکن ہم اسے کہتے ہیں اللہ خیر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ خادم اعلیٰ عوام کی خدمت کررہے ہیں‘ نیک نیتی کے ساتھ کام کررہے ہیں تو اوپر بیٹھا اللہ ان کی حفاظت کرے گا۔ آپ شاہ سے زیادہ شاہ پرست کیوں بن رہے ہیں۔ ایسا ہی ہے تو پہلے زمانے میں سکے کی دیواریں ہوا کرتی تھیں ان کے گھر کی دیواریں بھی سکے کی بنوا دیں تاکہ گولی ان سے نہ گزر سکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ شہبازشریف نے آئی جی پولیس سے کہا کہ رکاوٹیں ہٹا دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رات بارہ بجے تک نہ ہٹائیں تو پھر آپ اسلام آباد آ جائیں اور ہم دیکھیں گے آپ کس طرح آئی جی پولیس رہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ رکھنا بھی چاہیں گے تو آپ نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ چیف جسٹس کو سکیورٹی کیوں نہیں دی۔ کیا چیف جسٹس کو تھریٹ نہیں ۔ رینجرز نے 20 رینجرز بھیج دیئے‘ چھت پر کھڑے ہو جائیں گے۔ میں نے کہا نہیں اس سے محلے داروں کو پریشانی ہو گی۔ دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلی پنجاب سے استفسار کیاکہہ کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟۔ وزیر اعلی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور بولے جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، اگر میں کچھ بولا تو حکم عدولی ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکم عدولی نہیں کر سکتے، آپ ایک لیڈر ہیں، میں جانتا ہوں آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں۔ ایک آپ ہی تو ہیں جو عدالت کا احترام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے بطور وزیراعلی شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالت میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کی آمد پر مشکور ہیں۔ میاں صاحب عوامی شخصیت بنیں اور عوام میں آئیں۔ پولیس اہلکاروں نے کیوں آپ کو ڈرا کر رکھا ہے۔ ہم جانتے ہیں آپ ہماری بہت عزت کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب آپ یہ بات اپنی پارٹی کو بھی سمجھائیں۔ یقین دلاتا ہوں ہم منصفانہ اور شفاف الیکشن کروائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ اگلے وزیر اعظم آپ ہوں گے۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ آپ میری نوکری کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ اس پر کمرہ عدالت میں لوگوں نے قہقہے لگائے۔ چیف جسٹس نے کہا ہم نہیں آپ کے ہی کچھ لوگ آپ کی نوکری کے پیچھے پڑے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تین دفعہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ نے صاف، شفاف الیکشن کروانے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے مسائل میں سپریم کورٹ آپ کی معاونت کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے درجنوں ترقیاتی منصوبوں سمیت کول پاور پلانٹ لگائے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا کول پاور پلانٹ کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رہے ہیں۔ ہر پراجیکٹ پر اربوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں، ہم اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں کہ کم لاگت میں اس کو کیسے پورا کریں۔ چیف جسٹس نے صوبائی وزیر رانا مشہود کی جانب سے روسٹرم پر آکر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے کان میں سرگوشی کرنے پر سرزنش کی۔ چیف جسٹس نے گندا پانی دریائے راوی میں پھینکنے کے انکشاف پر وزیراعلیٰ پنجاب کو وضاحت کے لئے طلب کیا تھا کہ گندے پانی کی نکاسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ اپنے وسائل سے پاور پراجیکٹس شروع کئے ہیں۔ میگاپراجیکٹس میں اربوں روپے بچائے۔ جمہوریت کے استحکام اور ملکی بقاءکیلئے عدلیہ کی آزادی ضروری ہے۔ عوامی مسائل کے حل کیلئے انتھک کام کیا۔ تشہیر کی بجائے عوامی خدمت پر توجہ دی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز اور ڈی جی رینجرز کے گھر کے باہر کھڑی رکاوٹوں کو بعد میں دیکھیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رات تک رکاوٹیں ہٹا دی جائیں اور ہوم سیکرٹری حلف دیں کہ رات تک تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں گی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری ہوم نے کہا کہ رکاوٹیں دھمکیاں ملنے کی وجہ سے لگائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مجھے دھمکیاں نہیں ملتیں، وزیراعلیٰ کو ڈرا دھمکا کر گھر میں نہ بٹھائیں اپنی فورسز کو الرٹ کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ وزیر اعلی عوامی آدمی ہیں اور انہیں کہنا چاہئے شہباز شریف کسی سے نہیں ڈرتا۔ چیف جسٹس نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرح آپ نے بھی عدالت آکر اچھی روایت قائم کی۔ ہم آپ کے مشکور ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ سے استفسار کیا کہ کیوں وزیراعلی صاحب ہم ٹھیک کہہ رہے ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان معاملات کا مقصد سیاست کرنا نہیں۔ عدلیہ اور انتظامیہ مل کر عوامی حقوق کا تحفظ کریں۔ سماعت کے دوران صوبائی وزیر رانا مشہود کے روسٹرم پر آنے پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعلی کےساتھ آنے والے وزراءسن لیں عدالت میں پھرتیاں نہ دکھائی جائیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جاتی امرا‘ گورنر‘ وزیراعلیٰ ہاﺅس اور دیگر اہم عمارتوں کے باہر سے رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ ہمیں تین ہفتے کی مہلت دی جائے۔ ہم پورا ایک منصوبہ تشکیل دے کر عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میاں صاحب آپ نے اتنے بڑے بڑے منصوبے بنا لیتے ہیں تو صحت اور تعلیم جو معاملہ ہے۔ امید ہے یہ کام بھی آپ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ نے کر کے دکھانا ہے۔ عدالت آپ کی معاونت کرے گی جہاں رکاوٹ ہو گی۔ عدالت آپ کے ساتھ کھڑی ہے لیکن یہ کام آپ نے کرنے ہیں۔ اس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے یقین دہانی کروائی کہ یہ عوامی نوعیت کے منصوبے ہیں۔ ان پر جلد عملدرآمد ہو گا۔ صرف تین ہفتوں کی مہلت دی جائے۔ ایک مکمل پلان مرتب کر کے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ واقعی شہباز شریف پنجاب میں ترقیاتی کام کر رہے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی شہبازشریف اسی طرح کام جاری رکھیں گے۔