جنگی طیارہ تباہ ہونے کے بعد اسرائیل کی شام میں جوابی فضائی کارروائیاں

11 فروری 2018 (11:41)

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے شام میں گذشتہ 30 برس کے دوران سے بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔اسرائیلی دفاعی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی دارالحکومت دمشق کے قریب کم سے کم 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ سنہ 1982 کی لبنان جنگ کے بعد شام کے خلاف اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔اسرائیلی دفاعی فورسز کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ انھوں نے بقول ان کے شام میں ایرانی اہداف کو بھی نشانہ بنایا ہے۔یہ حملہ شام میں ایک اسرائیلی طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد کیے گئے ہیں۔یہ طیارہ شامی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد شامی طیارہ شکن حملے کا نشانہ بنا۔دوسری جانب امریکہ اور روس نے شام میں ایران کی حامی فورسز کے خلاف اسرائیل کی سرحد پار سے کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔روس کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے پرہیز کرنا چاہیے جو ایک نئے علاقائی تنازع کا باعث بنے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فون پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو سے بات کی اور شام میں فضائی حملوں پر تبادل خیال کیا۔جبکہ اس موقع پر اسرائیلی رہنما نتن یاہو نے کہا کہ ان کا ملک ایران کی جانب سے شام میں فوجی طاقت میں اضافے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گا۔امریکہ نے بھی اس کے بقول ایران کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر خدشات کا اظہار کیا۔اسرائیل کے مطابق ایف 16طیارے کو شام کی سرزمین سے طیارہ گرانے والی توپوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز گر گیا۔دوسری جانب شام اور ایران نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرون نے اسرائیلی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔طیارے کے دونوں ہواباز طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور اب ان کا ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔