باڑ کی تنصیب، پاک افغان سرحد پر پہلی بار آمد و رفت کو منظم کردیا گیا

11 فروری 2018

میران شاہ (سہیل عبدالناصر) پاک افغان بارڈر کو دہشت گردوں کیلئے ناقابل رسائی اور ناقابل عبور بنانے کیلئے باڑ کی تعمیر، سنسنرز ، وکیمروں کی تنصیب سمیت انسانی اور الیکٹرانک نگرانی کے نظام کی تکمیل کیلئے رات دن کام ہو رہا ہے اور اب تک نصب کی گئی باڑ اور نگرانی کے نظاموں کی بدولت، قیام پاکستان کے بعد پہلی بار سرحد کے ان حصوں پر آمد و رفت کو منظم کر دیا گیا ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان سرحد ،ایک نادیدہ لکیر کے بجائے عملی طور پر وجود میں آ چکی ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا صدر مقام میران شاہ مواصلاتی انفراسٹرکچر، نئی تعمیرات، سکولوں ، باغوں اور یونس خان سٹیدیم کی بدولت ایک جدید شہر کا روپ دھار چکا ہے جہاں کثیر المنزلہ پلازے زیر تعمیر ہیں۔اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے میران شاہ،پاکستان، ایران، افغانستان، وسط ایشیاء اور روس کو باہم منسلک کر کے خشکی کا گوادر ثابت ہو سکتا ہے ۔ وفاقی دارلحکومت کے صحافیوں نے آئی ایس پی آر کی دعوت پر شمالی وزیر ستان کا دورہ کیا اس موقع پر انہیں پاک افغان بارڈر پر قائم قلعے اور باڑ کی تنصیب کا معائنہ بھی کرایا گیا ۔ٹوچی سکائوٹس کے کمانڈنٹ اور بعد ازاں اعلیٰ فوجی افسر نے الگ الگ بریفنگ دیں اور بتایا گیا کہ مجموعی طور پر شمالی وزیر ستان سمیت پاک افغان بارڈر پر 160کلومیٹر تک باڑ لگا دی گئی ہے۔750بارڈر قلعے اور پوسٹیں تعمیر کی جانی ہیں جن میں سے140مکمل جبکہ15زیر تعمیر ہیں ،جدید مانیٹرنگ سسٹم سے سرحد کے اطراف نقل حمل کا جائزہ لیا جاتا ہے جبکہ باڑ کی تنصیب سے غیر قانونی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ،شمالی وزیر ستان میں تعلیم ،صحت اور سڑکوں کے درجنوں منصوبے مکمل ہو گئے ۔ ، شمالی وزیر ستان کا علاقہ میران شاہ دہشت گردوں کا گڑھ قرار دیا جاتا تھا ، فوج نے جانوں کی قربانی پیش کرکے اس علاقے کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے ۔ ساڑھے پندرہ ہزار فٹ بلندی تک چیک پوسٹیں تعمیر کی گئیں ،آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں سے شمالی وزیر ستان کو محفوظ بنا دیا گیا ،یہی وجہ ہے کہ 90فیصد آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس ہو چکے ہیں ،ایجنسی میں کوئی نو گو ایریاز نہیں رہا ،مقامی آبادی کی مکمل بحالی کا عمل جاری ہے، 284سکولوں میں سے 169شمالی وزیر ستان میں بنائے گئے جبکہ 6آرمی پبلک سکول،382واٹر سپلائی سکیمیں ،سٹیٹ آف آرٹ ،سویٹ ہوم سمیت خواتین کے ووکیشنل ٹرنینگ سینٹر تعمیر ہوئے ہیں،پولیو ویکسینیشن سو فیصد تک کی گئی ہے ، میران شاہ کی80ہزار میں سے70ہزار کی آبادی واپس آ چکی ہے۔ غلام خان کراسنگ پوائنٹ سے جلد ہی تجارت شروع ہو گی ،توقع ہے کہ پانچ سو ٹرک روانہ دوطرفہ تجارت میں حصہ لینگے ، میران شاہ معاشی جنکشن ثابت ہو گا ،گوادر سے سینٹرل ایشاء اور پھر ماسکو تک یہ مختصر روٹ ہے بہترین روڈ نیٹ ورک بنایا جا رہا ہے ،شمالی وزیرستان کی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں ،سیاحت کو فروغ ملا ،کھیل کے میدان آباد ہو گئے ہیں ،مقامی آبادی کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔ آبادی کے ساتھ بدسلوکی کا تاثر غلط ہے جسے دشمن ملکوں کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی فوج کی واپسی نہیں چاہتی ۔ تبدیلی کا یہ علامت ہے کہ ووکیشنل تربیت کے سات میں سے چار مراکز لڑکیوں کیلئے ہیں اور صرف میراں شاہ میں عمدہ معیار کے ساتھ سکول و کالج کام کر رہے ہیں۔ سرحد پر باڑ سے متصل سڑک کی تعمیر بھی جاری ہے جس کی بدولت انتہائی دور افتادہ علاقے بھی معاشی اور سماجی ترقی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ جہاں سڑک نہیں وہاں فوجی جوان تعمیراتی سامان کندھوں پر اٹھا کر پہنچا رہے ہیں لیکن تعمیراتی کام میں کوئی خلل نہیں آنے دیا گیا۔ 2611کلومیٹر طویل پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے ، اس منصوبے پر کل 56 ارب روپے لاگت آئے گی۔ باڑ کی تنصیب سے غیر قانونی نقل و حرکت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے ، جبکہ یہ کام دسمبر 2019 میں مکمل کر نے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔پاکستان بارڈر کی نگرانی کے حوالے سے نہایت سنجیدہ ہے یہی وجہ ہے ہر ڈیڑھ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک قلعہ تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے درمیان چھوٹی چوکیوں کا قیام اس کے علاوہ ہے ، اس کے مقابلے میں افغانستان میں ان پوسٹوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کم ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس جانب سے دہشت گرد بارڈر کراس کرنے کے واقعات سامنے آتے ہیں ، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں سے شمالی وزیر ستان کو محفوظ بنا دیا گیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر 16 نوٹیفائیڈ روٹس کے علاوہ سینکڑوں ان نوٹیفائیڈ روٹس موجود ہیں ، اب تک 2 نوٹیفائیڈ بارڈر کراسنگ روٹس جو چمن اور تورخم پر واقعہ ہیں کو بائیومیٹرک شناخت سسٹم سے لیس کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر دو روٹس غلام خان اور کارلاچی کو اس سسٹم سے لیس کرنے کا عمل جاری ہے ۔جبکہ باقی روٹس کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ تیار کیا جا ئے گا ، اس کے لیے 73 ایف سی ونگز تشکیل دے جا نے ہیں ، جن میں سے 29 ونگز تشکیل دے جا چکے ہیں جبکہ مزید 14 ونگز جلد قائم کر دئیے جائیں گے ۔