شریعت میں مقصود"پردہ" ہے،خواتین کیلئے برقع لازم نہیں، سعودی عالم دین

11 فروری 2018

ریاض(آئی این پی) سعودی عرب میں سینئر علماء کمیٹی کے رکن شیخ ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے کہا ہے کہ خواتین کیلئے برقع پہننے کی پابندی لازم نہیں اس لیے کہ شریعت میں مقصود "پردہ" ہے، خواہ وہ برقع کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے، عالم اسلام میں90فیصد باوقار خواتین برقع کا استعمال نہیں کرتیں بلکہ دیگر چیزوں کے استعمال سے پردہ کرتی ہیں۔ شیخ المطلق نے اپنے اس موقف کا اظہار عرب چینل "ندا الاسلام" کے پروگرام "جمعہ اسٹوڈیو" میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہم دین دار اور دعوت الی اللہ انجام دینے والی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو دیکھتے ہیں کہ وہ برقعے کا استعمال نہیں کرتی ہیں (بلکہ دیگر طریقوں سے پردہ کرتی ہیں)، یہ اس بات کی اچھی دلیل ہے کہ خواتین کو برقعے کی پابندی کی ضرورت نہیں۔ سینئر علما کمیٹی کے رکن نے واضح کیا کہ برقع ایک طرح کا "پردہ" ہے اور یہ اس جلباب میں داخل ہے جس کا حکم اللہ تعالی نے خواتین کو قرآن کریم (سورہ الاحزاب آیت 59) میں دیا۔ شیخ المطلق کے مطابق عورت پردے کے لیے برقعے کو سر پر رکھے یا کندھے پر یا کسی اور طریقے سے پردہ کرے اس میں کوئی حرج نہں۔