پاکستان کے ہمشایہ ممالک سے تعلقات غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے خراب ہوئے: اسفند یار

11 فروری 2018

پشاور(بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے خراب ہیں ،اور خطے میں امن کیلئے ملک کی خارجہ وداخلہ پالیسیاں نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نشتر ہال پشاور میں ملگری وکیلان کے صوبائی کنونشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ، اسفندیار ولی خان نے ملگری وکیلان کی ضلعی و صوبائی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی ، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پانامہ پر ہونے والا شور صرف نواز شریف پر آ کر تھم گیا ہے حالانکہ پانامہ پیپرز میں اور بھی کئی نام تھے ، انہوں نے کہا کہ احتساب سے کوئی بھی مستثنی نہیں اور سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر مجھ پر ایک پیسہ کی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں ، اسفندیار ولی خان نے نقیب اللہ محسود کی شہادت کو پختونوں کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ راؤ انوار نے صرف نقیب اللہ کو نہیں سہراب گوٹھ میں سینکڑوں بے گناہوں کو شہید کیا ، انہوں نے ایک بار مطالبہ کیا کہ راؤ انوار کو گرفتار کیا جائے تو وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھنے والوں کے نام بھی بتائے گا،مشال واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور جس قوم میں برداشت ختم ہو جائے وہ ترقی نہیں کر سکتی ، انہوں نے کہا کہ قانون جب ہجوم کی پناہ لینا شروع کر دی تو ملک میں ایک نیا فساد شروع ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ کسی ہجوم کو سزا و جزا کا اختیار حاصل نہیں ،کہا کہ ملک کی مجموعی صورتحال ٹھیک نہیں تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہیں جس کی بنیادی وجہ نان سٹیک ایکٹرز کی مداخلت ہے، انہوں نے کہا کہ کیا حکومت ان نان سٹیک ایکترز کے سامنے بے بس ہے؟ انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ و داخلہ پالیسیاں تبدیل کئے بغیر صورتحال میں بہتری نہیں آ سکتی،انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور جب تک اٹوٹ انگ اور شہ رگ کی ضد ختم نہیں ہو گی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کچھ لو کچھ دو کے تحت حل کئے جا سکتے ہیں،اسفندیار ولی خان نے فاٹا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بنائی گئی کمیٹی سفارشات کی منظوری میں ناکام رہی جو انتہائی افسوسناک ہے، انہوں نے کہا فوری طور پر فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بلوچستان کے پختونوں کیلئے کوششیں کریں گے اور پاکستان کے پختونوں کی ایک وحدت بنانے کیلئے تحریک چلائی جائے گی، انہوں نے کہا کہ قوم کے تمام مسائل کا حل باچا خانی میں ہے باچا خان نے چالیس برس قبل افغان جہاد کو فساد کانام دیا تھا اس وقت ان پر طرح طرح کے فتوے لگائے گئے، تاہم آج رد الفساد کے بعد ان کی باتوں کی تقلید کی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی بقا ، امن اور نفرت سے پاک ماحول فراہم کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق کا مطاہرہ کرنا ہوگا۔