زینب کیس: پنجاب پولیس نے اچھی کارکردگی دکھائی، آئی جی کا شکریہ: جسٹس ثاقب

11 فروری 2018

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ اپنے نامہ نگار سے) سپریم کورٹ نے زینب قتل ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زینب کے قاتل کو پکڑنے میں پنجاب پولیس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی۔ آئی جی پنجاب نے رپورٹ پیش کی جس پرعدالت نے اطمینان کااظہارکیا۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں پیش کی،جس میں بتایاگیاہے کہ ملزم عمران کاریمانڈ ختم ہونے پر اسے جوڈیشل کردیاگیاجبکہ ملزم کاڈی این اے میچ کر گیا اور اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔ تفتیش کسی دباؤکے بغیرمیرٹ پرکی گئی جبکہ ٹرائل کورٹ میں جلدازجلد ٹرائل مکمل کرلیا جائیگا۔ رپورٹ میں بتایاگیاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کویقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سکولوں کے باہرگشت بڑھا دیا۔ ڈولفن پولیس کو موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے از خود نوٹس کیس نمٹانے پر آئی جی پنجاب پولیس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جس طرح پولیس نے تفتیش کی ہے اس پر عدالت کو پورا اطمینان ہے اور ہم مشکور ہیں کہ آئی جی پنجاب نے اس معاملہ میں انتہائی قابلیت اور مہارت کا کام کیا ہے۔ چیف جسٹس نے درندہ صفت ملزم کی گرفتاری پر آئی جی پنجاب پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کیس کی روزانہ سماعت کا حکم دیا ہے اور سات روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے اس پر عملدرآمد کروایا جائے۔ دوسری جانب زینب قتل کیس کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی۔ مرکزی ملزم عمران پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی تاہم عدالت نے ملزم کے چالان کی کاپیاں اس کے وکیل کو دیتے ہوئے فرد جرم کے لیے سماعت کل 12فروری تک ملتوی کردی ہے، گواہوں کو بھی اسی روز طلب کر لیا گیا ہے۔ ملزم عمران کے وکیل مہر شکیل ملتانی نے عدالت سے استدعاکی کہ مقدمے کے چالان کی نقول کا مطالعہ کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملزم عمران نہ صرف زینب قتل کیس بلکہ دیگر کیسز کا بھی مرکزی ملزم ہے۔