جونئیر کرکٹ میں کوچز کی تعیناتی پر سرفراز، اسد،اکرم اور علی ضیاء کا نقطہ نظر!!

11 فروری 2018
جونئیر کرکٹ میں کوچز کی تعیناتی پر سرفراز، اسد،اکرم اور علی ضیاء کا نقطہ نظر!!

پاکستان انڈر نائینٹین ٹیم عالمی کپ کا سیمی فائنل ہاری، بھارت کی ٹیم ورلڈکپ جیت گئی۔ بھارتی ٹیم کی کوچنگ سٹاف کے سربراہ نامور بلیباز راہول ڈریوڈ تھے بھارت کی عالمی کپ میں کامیابی کے بعد ہمارے ہاں یہ بحث جاری ہے کہ ہم جونئیر لیول پر ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو نوعمر کرکٹرز کی کوچنگ ذمہ داری کیوں نہیں دی جاتی۔
اس حوالے سے مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ماہرین کے نزدیک پاکستان کرکٹ بورڈ کے بعض آفیشلز چند نامور کرکٹرز یا پھر اس سطح پر خدمات دینے والے سابق کرکٹرز کو کام کرنیکا موقع نہیں دینا چاہتا۔ بعض کہتے ہیں کہ ہمارے نامور کرکٹرز اس سطح پر کام کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لیتے اکثریت کی توجہ کا مرکز قومی ٹیم کی ذمہ داریوں میں ہے۔ فاسٹ باولر سرفراز نواز کہتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ میں بیٹھے چند سابق کرکٹرز نہیں چاہتے کہ کوئی اچھا کام کرنیوالا آگے آئے یا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ملکر کام کرے۔جو بھی اچھا کام کرتا ہے اندر بیٹھے افراد کا گروپ انکے خلاف متحد ہو کر کام رکوا دیتا ہے۔ ایک مرتبہ ٹیلنٹ ہنٹ کا ایک کامیاب منصوبہ شروع کیا اس سے فائدہ نوجوان کرکٹرز کو ہونا تھا اسکو مکمل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔ اگر کسی کو ساتھ ملاتے بھی ہیں تو اسے کام کرنے میں مکمل آزادی نہیں دی جاتی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایلیٹ پینل میں شامل سابق پاکستانی امپائر اسد روف کا کہنا ہے کہ میں گریگ چیپل اور ٹونی گریگ جیسے عظیم کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں بچوں کی کوچنگ کرتے دیکھا ہے کوچنگ کی اصل ضرورت اور افادیت اسی سطح پر ہے کسی بھی کھلاڑی کی خامی کو ابتدا ہی میں دور کر کے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ہم اسکے برعکس کام کرتے ہیں جہاں ٹاپ لیول کی کوچنگ درکار ہے وہاں وقت گذارنے والے فیصلے کرتے ہیں اور جہاں آپ کسی کی تکنیک اور خامیوں کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا وہاں دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے ہیں یہ پیسے اور وقت کا ضیاع ہے۔ ہمیں ٹاپ کرکٹرز کی خدمات جونئیر سطح پر لینی چاہییں۔ ٹیسٹ آف سپنر اکرم رضا کا کہنا ہے کہ بورڈ کو اس سلسلے میں جو کرنا چاہیے وہ نہیں کر رہا ہو سکتا ہے کہ کچھ کرکٹرز کام نہ کرنا چاہتے ہوں لیکن جو سابق کرکٹرز نوجوانوں کی کوچنگ میں دلچسپی لیتے ہیں انکی خدمات کیوں حاصل نہیں کی جاتیں۔ راہول ڈریوڈ کو عزت ملی کیونکہ اس نے یہ محسوس کیا کہ جو اسکو کرکٹ نے دیا ہے وہ اپنے ملک کو کیسے واپس کر سکتا ہیبیہی وجہ تھی کہ اس نے انڈر نائینٹین ٹیم کی کوچنگ سنبھالی۔ ہمیں بھی ایسے کرکٹرز کو جونئیر لیول پر ذمہ داری دینی چاہیے۔ جسکا جو کام ہے جو جس کام کا اہل ہے اسے وہ ذمہ داری دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ کامیابی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے لیکن ساری کامیابی صرف ایک کامیاب کرکٹر کو ہیڈ کوچ مقرر کرنے سے ہی ممکن نہیں ہے۔اگر ساری ٹیموں میں بھی ٹاپ کرکٹرز ہیڈ کوچ ہوں بھی کامیابی تو صرف کسی ایک کو ہی ملنی ہے۔
علی ضیائ￿ کہتے ہیں کہ ٹاپ کرکٹرز کا جونئیر لیول پر کام کرنا بہت اچھی بات ہے۔ اگر انڈر نائینٹین ٹیم کامیاب ہوتی ہے تو یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ لیکن عالمی کپ جیتنے کا کریڈٹ صرف کسی بھی نامور کرکٹر کی کوچنگ کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر ٹیم میں اچھے کھلاڑی نہ ہوں تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ پاکستان دو ہزار چھ میں انڈر نائینٹین ورلڈکپ جیتا اس وقت بھی کوچ منصور احمد تھے۔ چند سال قبل میں ٹیم لیکر عالمی کپ کھیلنے گیا ہم فائنل ہارے اس وقت دیگر ٹیموں کی کوچنگ عظیم کھلاڑی کر رہے تھے لیکن فائنل پاکستان کی ٹیم نے کھیلا۔ اس مرتبہ بھی ہم سیمی فائنل کھیلے لیکن بہت کام کرنا باقی ہے اس سطح پر باصلاحیت کرکٹرز کو تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ منصور رانا کہتے ہیں کہ ٹیم باصلاحیت کرکٹرز پر مشتمل تھی بھارت کیخلاف ہونیوالی غلطیوں اور اس دن پلئیرز کا اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم نہ کرنے کی وجہ کامیاب نہیں ہو سکے اگر ماضی کا کوئی بڑا کرکٹر راہول ڈریوڈ کیطرح جونئیرز کی کوچنگ کرنا چاہتا ہے تو مجھے یا کسی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہانا چاہیے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نچلی سطح کی کرکٹ پر خاص توجہ دے۔ یہ سلسلہ پاکستان انڈر نائینٹین ٹیم کے بجائے ڈسٹرکٹ کی سطح پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ہی کوچز اور منتظمین ٹیلنٹ کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ باصلاحیت کھلاڑیوں کو پسند ناپسند کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ کوچز اپنے فلسفے سے نوعمر کرکٹرز کو سائیڈ لائن کر دیتے ہیں یہی سلسلہ بڑھتے بڑھتے پھر اوپر تک آتا ہے۔ جہاں تک تعلق بڑے کرکٹرز کا چھوٹوں کی کوچنگ کرنیکا ہے تو اس معاملے میں پی سی بی حکام کو بھی بڑے بھائی کا کردار ادا کرنیکی ضرورت ہے۔ اگر کوئی بڑا کھلاڑی اس سطح ہر کام کرنا چاہتا تو اسکی حوصلہ افزائی اور کام کرنے میں آزدی دینی کی ضرورت ہے۔ ہمارے کرکٹرز کو بھی انا کے خول سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا جو کچھ ملک نے انہیں دیا ہے اسے واپس کرنیکا یہ ایک اچھا طریقہ ہے بارش کا پہلا قطرہ کون بنے گا اسکا فیصلہ وقت کرے گا اور یہ وقت کب آئے گا جب بورڈ حکام اور ٹاپ کرکٹرز اس مسئلے پر ایک صفحے پر ہونگے۔۔۔۔