نثار کی پریس کانفرنس، اکثر پارٹی رہنمائوں کا اظہار ناپسندیدگی‘ سیاسی حلقوں میں ہلچل

11 فروری 2018

لاہور (فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما چودھری نثار کی پریس کانفرنس سے نہ صرف مسلم لیگ(ن) کے اندر بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے اندر ایک بہت بڑا طبقہ چودھری نثار کی پریس کانفرنس پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہا ہے اور اس مرحلے پر ان کے خیالات کو پارٹی کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دے رہا ہے لیکن پارٹی میں یقینا بہت سے لوگ چودھری نثار کے بھی ہم خیال ہیں۔ سیاسی حلقوں کی رائے ہے کہ مسلم لیگ(ن) میں دراڑ پڑ گئی ہے اور پارٹی میں تقسیم کا آغاز ہوگیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ(ن) کے بعض سینئر رہنمائوں نے اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر کہا کہ چودھری نثار یقینا ناراض ہیں لیکن وہ مسلم لیگ(ن) کی پیٹھ میں چھرا ہرگز نہیں گھونپیں گے‘ نہ ہی وہ کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ جائیں گے اور نہ ہی آنے والے انتخابات میں کسی اور سیاسی جماعت کے ساتھ اشتراک عمل کرکے اپنے ہم خیال ساتھیوں کو الیکشن لڑوائیں گے۔ ان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ چودھری نثار چاہتے ہیں کہ پارٹی کے سینئر لوگوں کو ان کا حق ملے۔ اس سلسلے میں ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو وہ جولائی میں ہونے والے عام انتخابات آزاد حیثیت سے لڑ سکتے ہیں۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے بہت سے دیگر ممبران قومی وصوبائی اسمبلی بھی آزاد حیثیت میں الیکشن میں جاسکیں گے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی چودھری نثار اور ان کے ہم خیال مسلم لیگ(ن) کے خلاف نہیں جائیں گے‘ البتہ پارٹی کے اندر پریشر گروپ کی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔