کندیاں: 14 سالہ بچی زیادہ مقدار میں ادویات کھلانے سے جاں بحق، ورثا کا ڈاکٹر کیخلاف احتجاج

11 فروری 2018

کندیاں(نامہ نگار)محکمہ صحت کی طرف سے علاج معالجے کی پریکٹس پر پابندی کے باوجود پرائیوٹ کلینک کے ناتجربہ کار ڈاکٹرنے غلط علاج کر کے 14سالہ بچی کو موت دے دی حالت غیر ہو جانے پر بچی کو لاہور لے جانے کا مشورہ، لاہور کے ہسپتال میں بچی دم توڑ گئی۔ ورثا کا ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ۔ کندیاں کے محلہ حیات آباد کے اسحاق اور ممتاز نے کہا کہ اسکی 14سالہ بیٹی خدیجہ بی بی مرگی کے مرض میں مبتلاتھی وہ اسے علاج کیلئے پر ائیویٹ کلینک الشفاء ہسپتال کندیاں میں ڈاکٹر سید سرفراز کے پاس لے گئے، ڈاکٹر نے اسے بیک وقت 9 ٹیکے لگا دیئے جس کے3دن بعد بچی کو خون کی الٹیاں شروع ہوگئیں اور اسکی حالت بگڑ گئی، بچی کو لاہور لے جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج پر ڈاکٹر نے دوائیوں کی پر چیاں (پریسکرپشن) پھاڑ دیں اور ہسپتال سے نکال دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچی کو زیادہ مقدار میں ادویات کھلادی گئیں جسکی وجہ سے اسکی حالت بگڑ گئی۔ متاثرہ بچی کے والدین نے ڈاکٹر کے اس غیر ذمہ دارنہ رویہ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر سید سرفراز خود ذہنی مریض ہے۔ محکمہ صحت نے اس پر علاج معالجے کی پر یکٹس پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن اسکے باوجود وہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ انہوں وزیر اعلیٰ پنجاب، سیکرٹری صحت، کمشنر سرگودھا ڈویژن، ڈی سی او میانوالی اور محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر متعلقہ او رنا تجربہ کار ڈاکٹر کیخلاف فوری مقدمہ درج کر کے کاروائی کی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کی زندگیوں کو بچایا جائے۔