رائو انوار کے ماتحت ایک اور جعلی پولیس مقابلے کا انکشاف

11 فروری 2018
رائو انوار کے ماتحت ایک اور جعلی پولیس مقابلے کا انکشاف

کراچی (آن لائن) سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے ماتحت ہونے والے ایک اور جعلی پولیس مقابلے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جس میں 18 سالہ جنید ابڑو کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں جعلی پولیس مقابلے کا ایک اور مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق سندھ کے شہر قمبر شہداد کوٹ کے علاقے میرو خان سے تعلق رکھنے والا 18 سالہ جنید ابڑو نیو کراچی کی گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اسے 25 دسمبر کو نیوکراچی سے پکڑا گیا اور اگلے روز سائٹ سپر ہائی وے پولیس نے مقابلے کے نام پر مار دیا۔ اہل خانہ کے مطابق پولیس نے جنید ابڑو اور اس کے ساتھ مارے گئے افراد پر ڈاکو ہونے کا الزام لگایا۔ جنید ابڑو اگر ڈاکو تھا تو اس کی موت قطعی طور پر مقابلہ ظاہر نہیں کر رہی اسی بنا پر عدالتی احکامات کے بعد آئی جی سندھ نے سی ٹی ڈی سندھ کو پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔سی ٹی ڈی کے سربراہ ثنا اللہ عباسی نے ایس پی پرویز چانڈیو پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جنہوں نے دونوں فریقین کو طلب کرکے زبانی موقف سنا ہے۔اس موقع پر جنید ابڑو کے لواحقین عینی شاہدین اور متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کو باقاعدہ بیان ریکارڈ کرانے کے لئے کل پیر کی صبح اپنے دفتر طلب کیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے دوران جنید ابڑو کے اہل خانہ نے دو تصاویر حکام کے سامنے پیش کی ہیں۔ ایک تصویر میں جنید ابڑو زخمی حالت میں زندہ نظر آرہا ہے جبکہ دوسری تصویر نعش کی ہے جس کے چہرے پر گولیاں لگی ہیں جو زخمی تصویر میں نہیں۔