پنجاب کے مختلف شہروں میں پتنگ بازی‘ بچے سمیت دو افراد ہلاک

11 فروری 2018

پنجاب کے مختلف شہروں میں پتنگ بازی جاری‘ فیصل آباد میں 9 سالہ بچہ اور نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ فیروز والا میں پتنگ سازی کا کارخانہ پکڑا گیا۔ 5 پتنگیں برآمد۔ گوجرانوالہ سے 2 پتنگ باز گرفتار۔ لاہور میں کریک ڈاؤن۔ وزیراعلیٰ کا سخت نوٹس۔ ایس پی راول‘ ڈی ایس پی سٹی معطل۔ فیصل آباد میں بھی کئی پولیس اہلکار معطل ۔
سپریم کورٹ کی طرف سے پتنگ بازی اور ڈور سازی پر قانوناً پابندی عائد ہے۔ اسکے باوجود پنجاب کے مختلف شہروں میں پتنگ سازی کا کاروبار جاری ہے۔ کئی جگہ کھلے بندوں پتنگوں اور قاتل ڈور کی خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں اسی دھاتی ڈور کے بجلی کے تاروں میں الجھنے سے ایک 9 سالہ بچہ کرنٹ لگنے سے اور ایک نوجوان گلے پر ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے ان واقعات کا سخت نوٹس لینے پر راولپنڈی اور فیصل آباد میں متعدد پولیس اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ قانوناً پابندی کے باوجود پتنگیں اور ڈور کی تیاری کا کام کس طرح چل رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کام انتظامیہ اور پولیس کی ملی بھگت یا غفلت سے ہو رہا ہے۔
لاہور میں پولیس کے کریک ڈاؤن میں فیروز والا میں پتنگ بنانے والا کارخانہ پکڑا گیا جہاں سے 5 ہزار پتنگیں برآمد ہوئی ہیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے۔ ورنہ ایسے کئی کارخانے لاہور سمیت مختلف شہروں میں چوری چھپے کام کر رہے ہیں۔ جب پتنگ اور ڈور فروخت ہو رہی ہو تو پھر پتنگ بازی کس طرح رک سکتی ہے۔ اس کا علاج یہی ہے کہ انتظامیہ پتنگ سازی اور پتنگ بازی پر پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرائے اور کسی سے کوئی رعایت نہ برتے۔