سندھ کی بدقسمتی اسے منشیوں پر چھوڑ دیا گیا ہے: جسٹس گلزار

11 فروری 2018

کراچی (وقائع نگار) سپریم کورٹ نے ایم ڈی اے سے 98 ملازمین کی کے ڈی اے میں واپسی سے متعلق اور 17 ماہ کی تنخواہ ادا نہ کرنے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری تنخواہیں جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ اگر آج چیک جاری نہ کیئے گئے تو چیف سیکریٹری، اکانٹنٹ جنرل سندھ و دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ عدالت نے پیر کو عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا اور کہا جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیئے کہ افسروں کا اے سی 5 منٹ کیلئے خراب ہوجائے تو دنیا الٹ دیتے ہیں۔ اس صوبے کی بدقسمتی ہے کہ صوبے کو منشیوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے ریماکس دیتے ہوئے کہا 17 ماہ سے تنخواہیں نہیں دیں شرم آنی چاہئے۔ حکومت نے عدالت کے سخت آرڈر سے بچنے کے لیئے اکانٹنٹ جنرل کا دفتر کھول دیا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالتی حکم پر ملازمین کو چیک فوراً جاری کررہے ہیں جو پیر کو کیش ہوجائیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیئے ہم ابھی سندھ حکومت کے اکانٹس منجمد کردیتے ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے ریماکس دیئے 17 ماہ کی تنخواہ نہیں دے سکے کچھ تو شرم کریں۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیر گھمرو نے کہا کہ سندھ حکومت نے سمری منظور کر لی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 17 ماہ کی تنخواہ نہ ملے تو ایماندار آدمی بھی کرپٹ ہوجاتا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ دو دن کے اندر اندر ادائیگیاں ہو جائیں گی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیئے کیا آپ نے ہمارا فیصلہ نہیں پڑھا۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آپ اکانٹنٹ جنرل کو بلا لیں۔ جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ ہم کیوں بلائیں۔ جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا وقت دے رہیں ہیں بتائیں ورنہ سندھ حکومت اکائونٹس منجمند سمجھیں۔ وقفے کے بعد ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا پیر تک تنخواہیں جاری کردیں گے۔ عدالت نے اکائونٹنٹ جنرل سندھ فوری طور پر طلب کرلیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیئے کہ اگر اکائونٹنٹ جنرل سندھ نہ آئے تو وزیراعلی سندھ کو طلب کرلیں گے۔ 5 منٹ میں بتائیں ورنہ سخت حکم دیں گے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 17 ماہ سے تنخواہیں نہیں دیںکیا مذاق ہے۔ جسٹس گلزار نے کہا سندھ میں ہو کیا رہا ہے۔ ابھی بتائیں ہم اس معاملے پر وزیراعلی کو بھی طلب کرسکتے ہیں۔