ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے کی تازہ عالمی درجہ بندی‘ پاکستان ساتویں نمبر پر ہے

11 فروری 2018

کراچی (بی بی سی) کراچی کی کچی آبادی ریڑھی گوٹھ میں اپنے کچے مکان میں بیٹھا عمر دابلا اپنے ماہی گیری کے جال کو پیوند کر رہا ہے۔ سمندر اس کے کیچڑ سے بھرے صحن سے زیادہ دور نہیں ہے۔ سمندر دھیمے مزاج میں ہے، اسی لیے عمر کا صحن قدرے خشک ہے۔ عمر موسمِ سرما کے سورج کے مزے لوٹ رہا ہے، اور ہاتھ میں چاقو پکڑے تیزی کے ساتھ جال کا خراب حصہ کاٹ رہا ہے۔ عمر کی سیاہ جلد واضح طور سورج کی تپش برداشت کرتی اور ان کے محنت کش ہاتھ لکڑی کی طرح سخت ہو چکے ہیں، مگر ان میں حرکت سمندر سے آتی ٹھنڈی ہوا کی طرح خوشگوار اور حسین ہے۔دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہونے کی وجہ سے عمر کو سمندر کے بغیر کسی قسم کی زندگی کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ بہت سے مچھیروں کی طرح وہ خود کو سمندر کا بیٹا کہتا ہے۔ عمر کا کہنا ہے کہ ’ترشیاں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور گاؤں چھوٹا ہوتے ہوتے جزیرہ بن گیا ہے۔ ہمارے مکان زیادہ تر وقت زیرِ آب رہتے ہیں۔ وہ مقام اب قابلِ رہائش نہیں ہے۔ ہم جال نہیں بْن سکتے، کھانا نہیں بنا سکتے۔ جب ہمارے بچے نمکین پانی میں کھیلتے ہیں تو انھیں بیماریاں لگتی ہیں۔‘گزشتہ سال عمر ترشیاں چھوڑ کر ریڑھی گوٹھ منتقل ہو گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلی بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی کروا سکتی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے کے خطرے کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ریڑھی گوٹھ سے چند کلومیٹر دور کراچی کا سپر ہائی وے شہر کے تیز پھیلاؤ کی علامت بن گیا ہے۔ سڑک کے پار سندھ آباد نامی ایک عارضی گاؤں بن گیا ہے جہاں چھ ہزار خاندان شدید غربت میں رہ رہے ہیں۔یہ گاؤں اگست 2010 میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد وجود میں آیا۔ اس سیلاب میں ملک کا تقریباً پانچواں حصہ زیرِ آب آ گیا تھا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ اس سیلاب کو پاکستان کی تاریخ میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔سیلاب کے بعد اس عارضی رہائشی کیمپ جو اب ایک گاؤں کی شکل اختیار کر گیا ہے، سیلاب کے بعد 26 ہزار خاندانوں کی پناہ گاہ بنا تھا۔ روشن مائی کا خاندان ایک میں سے ایک تھا۔اس کیمپ میں نہ کوئی سکول ہے، نہ ہسپتال، نہ پانی کا کوئی نظام اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی ایندھن ‘مگر روشن مائی کہتی ہیں ان کے پاس جانے کو کوئی اور جگہ نہیں ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں قحط، سیلاب، شدید گرمی کی لہریں، سمندری کٹاؤ، سمندری پانی سے آلودگی، اور گلیشیئر کی جھیلوں کے پھٹنے کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔اس سے ہزاروں لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں نے کراچی کا رخ کیا تھا اور وہ شدید غربت میں گزر بسر کر رہے ہیں‘مگر ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 73 افراد جن میں عورتیں اور بچے، صرف سڑک پار کر کے پانی لانے کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر لوگ ایسی جگہوں سے آئے ہیں جہاں انھیں تیز یا بھاری ٹریفک کی عادت نہیں۔پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مسئلے کا اندازہ ہے مگر یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اسے اکیلا حل نہیں کر سکتا۔اس ملک کو 40 ارب ڈالر سالانہ صرف اثرات سے نمٹنے کے لیے اور 14 ارب ڈالر تبدیلیاں لانے کے لیے درکار ہیں۔ ہمارے پاس یہ پیسے نہیں ہیں۔یہ صنعتی ممالک کا بنایا گیا گند ہے اور اسے پاکستان جیسے ممالک بھگت رہے ہیں۔ اس بحران سے نمٹنا اور لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔