قصور: ایمان قتل کیس‘ جعلی مقابلہ کرنے والے 2 انسپکٹروں کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ

11 فروری 2018

قصور(نمائندہ نوائے وقت )ایمان فاطمہ قتل کیس میں جعلی مقابلہ میں ہلاک ہونے والے مدثر کے کیس میں جے آئی ٹی ٹیم نے انسپکٹر ریاض عباس اور انسپکٹر حاجی محمد یونس کو مقدمہ میں نامزد کر کے انکا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ عدالت سے حاصل کر لیا ہے ۔فروری 2017میں پانچ سالہ ایما ن فاطمہ کو کسی نا معلوم ملزم نے اغوا کیا اور زیادتی کے بعد قتل کر کے نعش کو ایک زیر تعمیرمکان میں پھینک دیا ، پولیس تھانہ صدر نے اس قتل کیس میں مدثر نامی نوجوان کو مبینہ پولیس مقابلہ میں ہلاک کر کے دعوہ کر دیا کہ یہی ایمان فاطمہ کا قاتل ہے اور اسنے اپنا جرم قبول کر لیا ہے تاہم جب زینب قتل کیس کے ملزم عمران کو گرفتار کیا تو اس نیدوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے ایمان فاطمہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے قتل کر دیا تھا اور ملزم عمران کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی ایمان فاطمہ کے ساتھ جب میچ ہو گیا تو آئی ٹی ٹیم نے ابتدائی طور پر پہلے چھ ملزمان جن میں سب انسپکٹر محمد علی، اے ایس آئی تنویر احمد اور محمد شریف سمیت چھ ملازمان کو اپنی حراست میں لیکر تفتیش شروع کر دی۔ جے آئی ٹی ٹیم نے انسپکٹر ریاض عباس اور حاجی یونس کو مدثرکیس میں باقائدہ گرفتار کر کے قصور میں علاقہ مجسٹریٹ محمد شاہد کی عدالت میں پیش کر کے انکے جسمانی ریمانڈ کے لئے درخواست کی تو عدالت نے انہیں چار روزکا ریمانڈ دے دیا تھا اور اب دوبارہ مجسٹریٹ کی عدالت سے ریاض عباص اور یونس ڈوگر کا 10روزہ ریمانڈ لے لیا گیا ہے ۔