15لاکھ حق مہر کا مطالبہ‘ انکار پر جھگڑا تھپڑوں، مکوں کا آزادانہ استعمال باراتی دلہن کے بغیر لوٹ گئے

11 فروری 2018

وزیرآباد (نا مہ نگار)حق مہر کی رقم کا تنازعہ دلہن اور دولہا والے آپس میں دست وگریباں ،تھپڑوں ،مکوں اورٹھڈوں کا آزادانہ استعمال،شادی ہال میدان جنگ بن گیا۔ اطلاع پا کرپولیس کی بروقت کاروائی۔ دو لہا اور اس کاوالد دولہن کے بھائیوں سمیت قریبی رشتہ دار وں کو حراست میںلے لیا ۔بارات دولہن کے بغیر واپس لوٹ گئی۔ وزیرآباد کے نواحی موضع کوٹ نورا کے رہائشی ذوالقرنین کی بارات مقامی شادی ہال میں آئی ۔بارات کا زبردست استقبال کیا گیا بینڈ باجے پر بھنگڑے ڈالے گئے تاہم نکاح کے وقت دولہن والوں نے 15لاکھ روپے حق مہر لکھوانے کا مطالبہ کیا۔ دولہا کے والد نے مہر کی رقم لکھنے سے انکار کر دیا۔واقعہ کی اطلاع پولیس تھانہ صدر کو دی گئی جنہوں نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے دولہا اور اس کے والد ،دولہن کے بھائیوں سمیت قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا اور بارات بغیر دولہن کے واپس لوٹ گئی ۔