اسلام آباد‘ واشنگٹن تعاون خطے میں امن کیلئے ضروری ہے‘ امریکی نائب وزیر خارجہ: فریم ورک تیار کرنا ہو گا‘ احسن اقبال

11 فروری 2018

واشنگٹن (آئی این پی‘ صباح نیوز ) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھرپور کوششوں اور لازوال قربانیوں کے بعد ملک میں امن اوراقتصادی استحکام بحال کردیاہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی لائحہ عمل کاحصہ ہے ، پاکستان میں امن کیلئے افغانستان میں قیام امن ناگزیر ہے، جبکہ امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون نہایت ضروری ہے۔ وزیرداخلہ احسن اقبال اورنائب امریکی وزیرخارجہ جون سلیوان کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات ہو ئی جس میں دونوں رہنمائوں نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اورخوشحالی کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ملاقات میں فریقین نے دوطرفہ مجموعی تعلقات اور علاقائی امور سے متعلق معاملات پربات چیت کی ۔ اس موقع پر وزیرداخلہ نے امریکی وزیرخارجہ کودہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں سے آگاہ کیا ۔احسن اقبال نے کہابھرپور کوششوں اور لازوال قربانیوں کے بعد ملک میں امن اوراقتصادی استحکام بحال کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی لائحہ عمل کاحصہ ہے جو ملک میں امن وخوشحالی کومدنظر رکھتے ہوئے وضع کیاگیا۔پاکستان میں امن کیلئے افغانستان میں قیام امن ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور امریکہ کو خطے میں امن کیلئے ملکر کام کرناچاہیے ۔ جون سلیوان نے کہاکہ خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون نہایت ضروری ہے ۔احسن اقبال نے کہا خطہ میں امن کے لیے پاکستان اور امریکہ کو فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فریم ورک کی تیاری میں پاکستان اورامریکہ دونوں کے سکیورٹی خدشات کا خیال رکھنا چاہیے۔انہوںنے کہا دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت حاصل کی گئیں۔ پاکستان نے امن حاصل کرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کی۔ہم آئندہ نسلوں کو پرامن پاکستان دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ احسن اقبال نے کہا افغانستان میں امن اور سلامتی پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔بعض علاقائی عناصر افغانستان میں امن بحالی کی کوششوں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ امریکی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ بعض علاقائی عناصرافغانستان میں عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا ہے پاکستان کی مدد کے بغیر امریکہ القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔پاکستان کو اس وقت کوئی خاطر خواہ امریکی فوجی اور غیر فوجی امداد نہیں مل رہی۔ غیر فوجی امریکی امداد حکومت پاکستان کو نہیں ملتی بلکہ یو ایس اے ایڈ کے ذریعے براہ راست این جی اوز کو جاتی ہے۔ بنیادی طور پر مسئلہ افغانستان کا مستقل حل فوجی نہیں سیاسی ہے، جو گروپس مذاکرات کے لئے میز پر آسکتے ہیں ان کو مراعات دی جائیں۔ امریکہ ملٹری آپریشنز پر بہت زیادہ انحصار کرر ہا ہے، وہ سیاسی عمل کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی گنجائش نکالے۔ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں جغرافیائی سیاسی اور سٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اور امریکہ کو خطے میں امن واستحکام کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر پاکستان انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ فراہم نہ کرتا تو امریکہ کے لئے القاعدہ کو شکست دینا مشکل ہوجاتا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت کوئی خاطر خواہ امریکی فوجی اور غیر فوجی امداد نہیں مل رہی، غیر فوجی امریکی امداد حکومت پاکستان کو نہیں ملتی بلکہ یو ایس اے ایڈ کے ذریعے براہ راست این جی اوز کو جاتی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ باہمی تعلقات کو منقطع کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان روابط میں مزید کمی آجائے گی اور مستقبل میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ جہاں سیکیورٹی آپریشن ناگزیر ہیں وہ کئے جائیں تاہم امریکہ کی یک طرفہ فوجی کارروائی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔آن لائن کے مطابق احسن اقبال نے واشنگٹن میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا امریکہ پاکستان کیساتھ عزت وقار کیساتھ پیش آئے،بات چیت کے عمل کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔بھارتی حکومت پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات میں بہتری نہیں چاہتا،پاکستان اور امریکا کے درمیان مربوط بات چیت کے عمل سے ہی دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ہمیں امید ہے یہ عمل جلد شروع ہوجائے گا۔انہوں نے امریکہ پر زور دیتے ہوئے کہا آپ پاکستانی قوم کو عزت و قار کیساتھ زہر کا پیالہ دیں گے تو پی لیں گے، لیکن سختی اور دباؤ کیساتھ شہد کا پیالہ بھی دیں گے تو وہ نہیں پیئں گے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا پاکستان بھی امریکی امداد کو بحال کرنے کی خواہش نہیں رکھتا، اسلام آباد نے بغیر کسی بیرونی مدد کے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی اور آگے بھی اسے جاری رکھ سکتا ہے۔