اہل کشمیر سے یکجہتی کا دن

11 فروری 2018
اہل کشمیر سے یکجہتی کا دن

مکرمی! کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ مانا جاتا ہے قائداعظم نے جب 1947 میں پاکستان حاصل کیا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ طے پایا لیکن ہندوستان کے عوام اور سرکار سے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور اسی دن سے کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا جوکہ آج آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔انسانیت کی بے حرمتی اور بے جا ظلم و ستم قانونی حقوق کی خلاف ورزی اور زیادتیاں آج بھی انڈین حکومت کی طرف سے جاری و ساری ہیں آج بھی ہمارے کشمیری بہن بھائی غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں اور پھر سے کسی محمد بن قاسم کا انتظار کر رہے ہیں۔ 2016 کے سیلاب سے 55 لاکھ سے زائد کشمیری بری طرح متاثر ہوئے مگر بھارت نے اس نازک آزمائش کے موقع پر بھی بدترین امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ خود متاثرین کی مدد کی اور نہ کسی ریلیف ادارے کو مدد کرنے کی اجازت دی۔آج بھی بھارتی جیلوں میں ہزاروں کشمیری نوجوان اور سیاسی قائدین بند ہیں۔کشمیری تین نسلوں سے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں۔اور ان کی ہر نسل اس بات سے اچھی طرح باخبر ہے کہ ان کے پاس پانے کے لیے آزادی کے سوا کوئی راستہ نہیں اور کھونے کے لیے ایک جان ہے۔ہر سو وہ بھی وطن کے لیے قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان کے حوصلے جوان ہیں۔ جس کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور بہت جلد ’’کشمیر بنے گاپاکستان…انشااللہ‘‘!! (شگفتہ حیاء ترمذی…اسلام آباد)