مارکیٹ کمیٹی گوجرہ کی ناقص کارکردگی

11 فروری 2018
مارکیٹ کمیٹی گوجرہ کی ناقص کارکردگی

مکرمی! مارکیٹ کمیٹی گوجرہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے عملہ کو مبینہ طور پر مارکیٹ فیس کے نام پر وصولیوں کے ٹارگٹ دیئے گئے ہیں جس کو پورا کرنے کے لئے عملہ نے غلہ منڈی اور سبزی منڈی کے بعد اپنا دائرہ کار پوری تحصیل میں بڑھا کر کریانہ بیکری اور سویٹ وغیرہ کی دوکانوں سے بھی مارکیٹ فیس کی وصولی کا مبینہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے گلی محلوں میں بھی عملہ اب داؤ لگا رہا ہے غلہ منڈی میں زرعی جنس کے بغیر کوئی ٹرک داخل ہو جائے تو سو سے ایک سو پچاس روپے وصول ہو رہے ہیں جبکہ وصولیوں کے مقابلے میں تاجروں کو سہولت کا ریٹرن زیرو نکسی آب کی نالیاں ہوں زرعی اجناس کے ’’پھڑ‘‘ ہوں سب آڑھتی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر و مرمت کرواتے ہیں جبکہ صفائی کا بھی انتہائی ناقص انتظام ہے کسی زمانہ میں زمینداروں اور مزدوروں کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام ہوتا تھا عرصہ سے یہ سلسلہ بند ہو چکا اب تو واٹر سپلائی کی ٹینکی بھی گرنے کے قریب ہے اور کسی وقت بھی حادثہ کا موجب ہو سکتی ہے مارکیٹ کمیٹی اس کو گرانے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی مارکیٹ کمیٹی کے عملہ کا کام اگر محض وصولیاں کرنا ہی ہے کوئی فلاح و بہبود نہیں تو بے کار ادارے کا کیا فائدہ۔ مارکیٹ فیس بند کر دیں غلہ منڈی کی صفائی کا انتظام بھی تاجر خود ہی کر لیں گے۔ (زاہدرؤف کمبوہ…غلہ منڈی گوجرہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ)