امیر مقام کی یقین دہانی پرنقیب محسود کے قتل کیخلاف دھرنا ختم

11 فروری 2018

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ)وزیراعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے ہفتہ کو نیشنل پریس کلب کے باہر نقیب اللہ محسود کے قاتل کی گرفتاری کے مطالبہ کے لئے جاری دھرنا میں شرکت کی اور مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی اس موقع پر قبائلی عمائدین اور شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ پختونوں کا بھی نمائندہ ہوں۔ نقیب اللہ محسود کا قتل پوری پختون قوم کے ساتھ زیادتی ہے۔ امیر مقام نے کہا کہ پوری دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پختون پر امن قوم ہے اور پر امن دھرنے کے شرکاء نے اپنے صبر سے یہ بات ثابت کر دی ہے جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں نے ملک کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں جو موجودہ حکومت ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جسکی وجہ سے ملک میں قیام امن ممکن ہوا ہے۔ امیر مقام نے یقین دلایا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے گا اور رائو انوار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ مائنز ختم کرنے کے بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں اور مانز کے زخمیوں اور شہداء کے لواحقین کو معاوضے دیئے جائیں گے اور نقیب اللہ محسود کے نام سے ان کے گائوں میں کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ قبائلی عمائدین کے نمائندے منظور مشتین نے کہا کہ انجینئر امیر مقام نے حکومت کی طرف سے تحریری یقین د ہانی کرا دی ہے اور ایک ماہ کے اندر مطالبات پورے کرنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں اور پر امن طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو دوبارہ دھرنا دیں گے۔ منظور مشتین نے کہا کہ 71 لاپتہ افراد کو رہا کرایا گیا ہے باقی ماندہ کی رہائی کے لئے 10 مارچ تک مہلت دی گئی ہے۔ امیر مقام نے دھرنا ختم کرنے پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔