پیپلز پارٹی ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ چاہتی ہے‘ فاروق نائیک

11 فروری 2018

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سابق چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزیر قانون سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی برائے جج صاحبان نے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی تھی تاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 175-A اپ ڈیٹ کیا جاسکے اور ان کا تقرر بطور کنوینر ذیلی کمیٹی کیا تھا۔ ذیلی کمیٹی نے ملک کی تمام بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز بشمول صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسل کے ساتھ ساتھ معروف قانون دانوں سے اس بارے مشاورت کی۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل اس مشاورت کے بعد ایک بل کا مسودہ تیار کیا گیا جس میں ان تمام بار کونسلوں اور بار ایسو سی ایشن کے سینئر عہدیداروں کی آراء شامل کی گئیں بعد میں یہ بل پارلیمانی کمیٹی برائے جج صاحبان کے سامنے پیش کیا گیا جس نے متفقہ طور پر یہ بل منظور کر لیا۔ اس کے بعد اس بل کو اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو بھیجا گیا تاکہ حکومت اس بل پر پیشرفت کرے اور اسے پارلیمنٹ سے منظور کرائے۔ وزارت قانون کی جانب سے اس بل پر کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور اس بات کی بھی کوئی کوشش نہیںکی گئی کہ بل کو پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو نوجوانی کی عمر میں ریٹائر نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت جبکہ وہ ملک اور قوم کی گرانقدر خدمات سرانجام دے سکتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ یہی طریقہ کار دیگر اداروں جیسا کے پولیس سروس وغیرہ میں بھی اختیار کیا جائے۔ ان سینئر اہلکاروں کا 60 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد سالانہ کی بنیادی پر طبی جائزہ لیا جائے تاکہ ان کی صحت کارکردگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو پرکھا جا سکے۔ اگر وہ اپنی فٹنس ظاہر کر دیں تو ان سے درخواست کی جائے کہ وہ قوم کے لئے مزید کام کریں۔