لاہور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس، خوش آمدید

11 فروری 2018
لاہور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس، خوش آمدید

کسی ملک میں جب کسی بھی سطح پر سسٹم مستحکم ہو جائے تو آب رواں کی طرح تبدیلیوں کا احساس تک نہیں ہوتا اور اعلیٰ منصبوں پر لوگ آتے جاتے ہیں اور خلق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ عدلیہ کی سطح پر چیف جسٹس صاحبان کی تقرریوں کا ایک نظام وضع ہو چکا ہے۔ چنانچہ معمول کے مطابق جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب منصور علی شاہ کو سپریم کورٹ کے جسٹس کے طور پر منتخب کر لیا گیا تو ان کی جگہ سینئر ترین جسٹس جناب جسٹس یاور علی کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا منصب عطا کر دیا گیا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کے اس منصب پر فائز ہونے والے 46 ویں جسٹس ہیں۔ کاش ملک کے تمام بڑے اداروں میں اعلیٰ مناصب کے لئے ایسا ہی نظام وضع ہو جائے۔ سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ نے ایک پُرجوش، باہمت اور عدل پسند چیف جسٹس کی حیثیت سے عدلیہ میں مثبت تاثرات رقم کئے ہیں۔ بنچ و بار میں ذمہ داری کا احساس اجاگر کیا۔ جدت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ انقلابی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی اور وکلاء کے وقار کے ساتھ ساتھ ججوں اور خاص طور پرلیڈی ججوں کو ملازمت کے حوالے سے تحفظ کا احساس دلایا۔ لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس جناب یاور علی عدل و انصاف کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ متوازن مزاج کے حامل نئے چیف جسٹس کے آنے پر وکلا نے مجموعی طور پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن وکلا کا منتخب نمائندہ پلیٹ فارم ہے چنانچہ چیف جسٹس جناب یاور علی کے حلف اٹھانے کے اگلے روز ہی بار نے ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی۔ یہ ایک بھرپور اور نمائندہ تقریب تھی۔ جس میں کلیدی خطاب نئے چیف کا تھا، تقریب میں لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جناب جسٹس انوار الحق اور دیگر فاضل جج صاحبان کے ساتھ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ بہادر علی خان اور بار کے صدر چودھری ذوالفقار علی اور دوسرے عہدیدار موجود تھے۔ نئے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی تقریب میں آمد پر وکلا نے کھڑے ہوکر بھرپور تالیوں سے استقبال کیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری ذوالفقار علی نے اپنے خطاب میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ بنچ اور بار کے مابین چھوٹے موٹے اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب نئے چیف جسٹس کے دور میں بنچ اور بار کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور خلق خدا کو انصاف کی فراہمی کا عمل اور تیز ہو گا۔ استقبالیہ میں سب کی نظریں نئے چیف جسٹس پر جمی تھیں۔ انہوں نے اپنی جچی تلی تقریر میں واضح کیا کہ اب بنچ اور بار کی اہمیت گاڑی کے دو پہیوں سے بھی آگے نکل چکی ہے اور اب بنچ اور بار ایک جسم کے دو حصے ہیں۔ دو بازو ہیں جو بالکل برابر کی اہمیت کے حامل ہیں۔ اب ان دونوں کا مقصد خلق خدا اور سائلین کو انصاف کی فراہمی ہے۔ اس بڑے مقصد کے لئے دونوں کو زیادہ سے زیادہ کام کرنا ہے۔ مقدمات کے التوا کے سلسلے کو ختم کرنا ہے اور جلد فیصلے کرنا ہیں مگر اس کے لئے وکلا کا کردار اہم ہے اور یہ بڑا کام وکلا کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے صحیح کہا ہے کہ اس وقت ہمارے معاشرے کو آگے لے جانے اور خلق خدا کے دکھ درد دور کرنے کے لئے انصاف کی فوری فراہمی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ بہت سے جرائم اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے واقعات اس لئے رونما ہوتے ہیں کہ لوگ انصاف کی تاخیرسے گھبرا جاتے ہیں۔ اس حوالے سے نئے چیف جسٹس نے بھی سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جناب منصور علی شاہ کی طرح خلق خدا کو جلد انصاف فراہم کرنے کے جذبے کا اظہار کیا ہے جسے سچ کی آواز قرار دیا جا سکتا ہے۔ نئے چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ بار کے کیبنٹ روم، سپورٹس کمپلکس اور میاں سعید حسن لائونج کا بھی افتتاح کیا۔ وکلا برادری نے جس محبت اور پیار سے نئے چیف جسٹس کو خوش آمدید کہا ہے اور نئے چیف جسٹس نے بھی جس طرح وکلا برادری کو انصاف کی باڈی کا برابر کا بازو قرار دیا ہے جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کے دور میں وکلا اور عدلیہ میں محاز آرائی کی کسی بھی حوالے سے نوبت نہیں آئے گی اوروطن عزیز میں انصاف کا عمل زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔ اس وقت تو عدلیہ پر روٹین سے ہٹ کر بھی سیاسی اور معاشرتی مسائل کا بوجھ آن پڑا ہے اور ریاستی انتظامی مشینری کی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لئے بھی عدلیہ کو بہت سا وقت دینا پڑ رہا ہے۔ اللہ کرے سارے ادارے صحت مند روایات کو اپنائیں ا ور عدالتوں کا بوجھ بھی کم ہو۔