تحفظ ناموس رسالتﷺ بل ‘ کشمیر اسمبلی کا احسن اقدام

11 فروری 2018

ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کی بنیاد ہے جس پر پورے دین کی منزل تعمیر ہوتی ہے اگر یہ محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ اور مضبوط ہے عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ پورے دین کا تحفظ ہے اس لیے رسالت مآبﷺ کے بعد کسی کو نبی مان لیا جائے تو اندھیرے میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے 1973میں آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے ممبر کشمیر اسمبلی میجر ریٹائرڈ سردار ایوب کی طرف سے پیش کردہ قرارداد جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا تھا اس وقت مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان اور ان کے ساتھیوں میںموجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی والدہ بیگم حیدر خان اور چچا راجہ لطیف خان بھی شامل تھے، سخت مزاحمت کا سامنا کرناپڑا تھا پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت کا شدید دبائو تھا کہ قرارداد پاس نہ ہو لیکن قرارداد پاس ہوگئی۔ سعودی عرب سمیت پوری اُمت مسلمہ نے حوصلہ افزائی کی تھی اور بعدازاں اس کا اثر پاکستان میں بھی پڑا اور شدید کشیدگی کے بعد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے قادیانیوں کے خلاف قانون سازی کرنا پڑی اور اُن کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔ 45 سال بعد پھر یہ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اور پاکستان مسلم لیگ کو حاصل ہوا۔ 2017 میں ممتاز عالم دین اور ممبر کشمیر اسمبلی پیر رضا علی بخاری اور ممبر اسمبلی راجہ محمد صدیق نے دو الگ الگ قراردادیں پارلیمنٹ میں پیش کیں جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے حوالے سے نافذ شدہ قانون من وعن آزاد کشمیر میں بھی نافذ کیا جائے اور اس ضمن میں قانون سازی کی جائے جو کہ اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کر لی گئی تھی۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس قرارداد کی روشنی میں ہدایات جاریں کیں اور کمیٹی تشکیل دے دی جس نے 6فروری کو آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حوالے سے مسودہ پیش کیا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر شاہ غلام قادر نے کی۔ وزیر قانون راجہ نثار خان نے عبوری آئین کی (بارہویں ترمیم) 2018کی رپورٹ پیش کی اور مسودہ پڑھ کر سنایا۔ اس ضمن میں اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ قائد ایوان اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے پوری پارلیمنٹ مسلم لیگی قیادت اور کشمیری قوم کو مبارک باد دی کہا کہ اس قانون کی منظوری سے مسلم اور غیر مسلم کی مکمل نشاندہی کر دی گئی ہے آزاد کشمیر کا ایکٹ 1974پوری ریاست کے لیے نہیں ہے جب کشمیر کا فیصلہ ہو گا اس موقع پر جداگانہ قانون لاگو کیا جائے گا۔ قادیانی آئین کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے معاملات کو چلا سکیں گے اس آئین سازی سے ریاست جموں کشمیر کی قیادت اور اقوام متحدہ کی قرار دادیں متاثر نہ ہوں گی اور نہ ہی اس سے تحریک آزاد کشمیر پر فرق پڑے گا اب قادیانیوں کو الگ شناخت اختیار کرنا ہو گی۔ وہ مسلم عبادت گاہوں کو استعمال نہ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ نبی پاکﷺ کو آخری نبی تسلیم کریں اور دل وجان سے ان کا احترام کریں جوایسا نہیں کرے گاوہ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جہاد کا اعلان ریاست کی ذمہ داری ہے کوئی فرد واحد ایسا اعلان نہیں کرسکتا، اﷲ تعالیٰ اور رسالت مآب ﷺ کی خوشنودی کے لیے عقیدہ ختم نبوت آئین کا حصہ بنایا ہے اور دینی تعلیم اور نئی نسل کی کردارسازی کے لیے نصاب میں بھی شامل کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ دنیا میں مذہب کے نام پر غالب اکثریت کے ساتھ قادیانی جال بچھا دیئے گئے۔ انہوں نے قانون سازی پر قائد ایوان اور اراکین اسمبلی کو مبارکباد دی اور اقلیتوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ایوان سے راجہ نثار علی خان، پیر رضا علی بخاری، افتخار حسین گیلانی، ناصر حسین ڈار، سردار عبدالخالق وصی، راجہ محمد صدیق، عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر نجیب نقی سمیت دیگر اراکین نے بھی خطاب کیا اور راجہ فاروق حیدر خان اور سپیکر شاہ غلام قادر اور پورے ایوان کو مبارکباد دی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رکن کشمیر اسمبلی اور تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری غلام محی الدین دیوان نے کہا کہ ناموس رسالتؐ بل بلاشبہ اراکان پارلیمنٹ اور حکومت کا کارنامہ ہے اور میں سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مزید کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں شق شامل کرنے اور سپریم کورٹ سے نااہل ہونے کے بعد سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے حق میں کشمیر اسمبلی کا قرارداد پاس کرنا قابل مذمت ہے۔ ایسا نہ کیا جاتا تو اچھا تھا اس پر مسلم لیگی ممبران اسمبلی نے بھی احتجاج کیا اور کہا کہ اس موقع پر ایسے اختلافی باتوں کا ذکر نہ کیا جاتا تو اچھا تھا قائد ایوان راجہ فاروق حیدر خان نے بھی بڑی برداشت اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم فوراً اپنی والدہ محترمہ سعیدہ خانم صاحبہ اور والد راجہ حیدر علی خان کی قبر پر گئے اور فاتحہ خوانی کی۔ بعدازاں میڈیاسے بات کرتے ہوئے فاروق حیدر خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ یاسین کی طرف سے اختلافی تقریر کے باوجود یوم یکجہتی کی وجہ سے خاموش رہے۔ ہم نے سابقہ دور میں آصف زرداری کی آمد کے موقع پر حکومت سے پورا تعاون کیا تھا لیکن اس بار اپوزیشن کا رویہ مثبت نہ تھا۔ افسوس ناموس رسالت بل پاس کرنے کے موقع پر پیپلز پارٹی نے حصہ نہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سردا عتیق احمد خان کشمیر کی تحریک سے نابلد ہیں ان کے اقلیتوں کے بارے میں تحفظات بلا جواز ہیں بل میں ایسی کوئی بات نہ ہے جس سے اقلیتوں کو مشکلات کا سامنا ہو۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے حال اور ماضی کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور آصف زرداری کو پورے ملک کا ناسور قرار دیا 6فروری 2018ء کا دن آزاد ریاست جموں کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بڑا اہم اور یادگار رہے گا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور ان کی کابینہ ارکان پارلیمنٹ ممبران کشمیر کونسل اور پوری مسلم لیگ مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے ایمان افروز کارنامہ انجام دیا رسالت مآبﷺ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا بلاشبہ ان سب نے اپنی دنیا وآخرت کے لیے قابل قدر کام سرانجام دیا ان کو رسالت مآبﷺ کی شفاعت ضرور نصیب ہو گی اس سلسلہ میں ریاستی میڈیا کا کردار بھی قابل تعریف رہا جس وقت پارلیمنٹ بل پاس کر رہی تھی۔ پریس گیلری میں میڈیا کی کثیر تعداد موجود تھی اور اس اچھے عمل کی تعریف بھی کی پوری ریاست پاکستان اور اُمت مسلمہ میں خوشی، محبت اور عقیدت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔