افضل گورو کی پانچویں برسی

11 فروری 2018

محمد افضل گورو کو 9 فروری 2013ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں خاموشی سے پھانسی دے کر وہیں دفن کر دیا گیا۔ ان پہ الزام تھا کہ انہوں نے13دسمبر2001ء کو دہلی میں پارلیمان کی عمارت پہ خونی حملے میں معاونت کی تھی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ9/11کے امر یکہ پہ حملوں کے بعد دہشت گردی کے خلاف بھر پور جنگ شروع ہوگئی تھی جس میں امر یکہ اور نیٹو ممالک کی فوجوں نے افغانستان پہ بھرپور حملہ کردیاتھا۔پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی پوری کوشش تھی کہ مغرب کا نزلہ پاکستان پہ بھی گرے اور اسے بھی دہشت گر دملک قرار دے کر اس پہ حملہ کیا جائے اور مزہ چکھا یا جائے۔ چونکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بن گیا لہذا بھارت کو مایوسی ہوئی۔چانکیائی چال چلتے ہوئے بھارت نے13دسمبر 2001ء کو خود ہی اپنی پارلیمان کی عمارت پہ حملہ کروایا۔ پانچ مسلح حملہ آور ایک نجی گاڑی میں داخل ہوئے، جس پہ پارلیمان اور وزارت داخلہ کے اسٹکر نصب تھے۔ حملہ آوروں کے پاس پارلیمان کے جعلی انٹری پاس بھی تھے۔ پارلیمان کے احاطے میں داخل ہوکرحملہ آوروں نے فائر کھول دیا جسکے نتیجے میں 8 محافظ اور ایک مالی بحق ہوگئے۔ پانچوں حملہ آور بھی عمارت میں داخل ہونے سے قبل ہی ہلاک کردئے گئے۔ پولیس نے حملے کے بعد بغیر کسی تاخیر کے اعلان کیا کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔ ثبوت کے طور پہ بتایا گیا کہ ان کے پاس پاکستان کے جاری کردہ شناختی کارڈ تھے ۔ حملہ آوروں کے صرف پہلے ناموں کا انکشاف ہوا پورا نام عدالت میں مقدمے کے دوران بھی نہیں بتایا گیا۔ پویس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملہ آوروں کی گاڑی دھما کہ خیز مادے سے بھری تھی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ حملہ آوروں نے دھماکہ کرنے سے پہلے ہی اپنی جان دے دی کیونکہ اگر دھماکہ ہوتا تو بھارتی پارلیمان کے متعدد ارکان بشمول نائب صدر اس حملے میں جاں بحق ہوسکتے تھے۔
چونکہ یہ بھارت کا ٹوپی ڈرامہ تھا لہٰذا کسی کی بھی جان کوکوئی خطرہ نہ تھا۔ بھارتی حکومت نے پارلیمان پہ حملے کو عذر بنا کر اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد پہ لاکھڑی کیں تاکہ بھرپور حملہ کرکے پاکستان کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے قبل ہی ہتھیار ڈالنے اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا جائے۔ افسوس کہ بھارتی سورمائوں کی حکمت عملی خاک میں مل گئی کیونکہ پاکستان نے اپنی بری ، بحری اور فضائی فوجوں کو بھارتی حملے سے قبل ہی نہ صرف مستعد کر دیا بلکہ دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا جس کے پیش نظر بھارتی حوصلے پست ہوگئے۔ پاک ،بھارت فوجیں دس ماہ تک ایک دوسرے کے روبرو جنگ کے لئے تیار کھڑی رہیں۔ بھارت کا خیال تھا کہ چونکہ امر یکہ اور دوسری مغربی طاقتیں افغانستان میں مشغول ہوں گی۔ لہٰذا وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کو نظر انداز کر دیں گی۔ اس کے برعکس مغرب بخوبی اس حقیقت سے واقف تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہیں اور کوئی بھی مہم جوئی پورے خطے کو جوہری جنگ کے مضراثرات کی لپیٹ میں لے سکتی ہے،خاص طورپر جب ایک لاکھ سے زائد مغربی فوجی افغانستان میں تعینات تھے۔ مغرب نے بھارت پہ دبائو ڈالا کہ وہ اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد سے ہٹالے تاکہ جنگ کاخطرہ ٹل جائے۔ابتداء میں بھارت اپنی آن کی خاطر ڈٹا رہا لیکن جلد ہی اسے پر یشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کی حالت میں مسلسل رہنے کی وجہ سے بھارتی فوج کو سراسیمگی کا سامنا ہوا۔ بے چینی کے باعث بھارتی سپاہی مشتعل ہوکر کبھی اپنے افسروں پہ حملہ کرتے اور کبھی خودکشی کرلیتے، بہت سے بھارتی فوجی بھگوڑے بھی ہوگئے۔ اتنی تعداد میں فوجیں تعینات کرنے کی وجہ سے بھارت کو معاشی اعتبار سے بھی بوجھ اٹھانا پڑ رہا تھا۔ تیسرے یہ کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر سے بھارتی کمرشل طیاروں کی پرواز پر پابندی لگا دی جس کا خمیازہ بھارتی حکومت کی برادشت سے باہر تھا لہٰذا اسے دس ماہ بعد کڑوا گھونٹ پی کر اپنی فوجوں کو واپس بلانا پڑا۔دوسری جانب بھارتی پارلیمان کی عمارت پہ حملے کے24 گھنٹوں بعد ہی سری نگر سے محمد افضل گورو کو گرفتار کر لیا گیا۔ دہلی سے یونیورسٹی میں عربی کے پروفسیر ایس اے آر گیلانی، افضل گورو کے کزن شوکت گورو اور ان کی اہلیہ افشاں گورو کو بھی حملے میں معاونت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ محمد افضل گورو سوپور ڈسٹرکٹ بارہ مولا مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے سری نگر کے جہلم میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ ایک سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک اور کشمیری دوست کے کہنے پہ آپ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کرانے کی خاطر جہاد کشمیر میں شامل ہوگئے اور گوریلا جنگ کی تربیت بھی حاصل کی۔ جلد ہی آپ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت سے بد دل ہوگئے اور جہاد کو خیر باد کہتے ہوئے1993 میں سیکورٹی فورسز کے روبرو خود کو پیش کیا۔ سیکوریٹی فورسیز نے کچھ عرصہ انہیں پابند سلاسل رکھا۔ سخت تفتیش کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ افضل گورو میڈیکل کی تعلیم جاری نہ رکھ سکے آپ نے بی اے کرنے کے بعد ادویات کی ایک فرم میں ملازمت اختیار کر لی اور اپنی محنت سے وہ فرم کے مینجر ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد انکی شادی ہوگئی۔مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کوئی حملہ ہوتا، افضل گورو کو گرفتار کرکے ان سے تفتیش کی جاتی جس کے دوران انہیں شدید جسمانی اذیت بھی دی جاتی اور یہ دھمکی دی جاتی کہ اگر انہوں نے بھارتی سیکوریٹی فورسز کے ساتھ تعاون نہ کیا تو ان کے گھر والوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتا پڑے گا۔ افضل گورو کے روز شب اضطراب میں گزرتے۔دسمبر 2001 کے پہلے ہفتے میں بھارتی پویس کے ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے افضل گورو کو بلاکر حکم دیا کہ وہ ایک شخص کو دہلی لے کر جائیں اور خاموشی سے وہاں اس کی رہائش کا بندوبست کریں۔ افضل گورو کویہ معاملہ مشکوک لگا تو وہ ہچکچائے لیکن ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے انہیں دھمکی دی کہ اگروہ انکار کریں گے تو انکے گھر والوں کو ایذا دی جائے گی۔ بادل نخواستہ افضل گورو اس شخص کولے کر دہلی روانہ ہوگئے اور وہاں اسے خاموشی سے ٹھہرایا۔ افضل گورو نے 2006ء میں ’’کارواں‘‘ رسالے کے مدیر دنود جوشی کو انٹرویودیتے ہوئے بتایا کہ دہلی میں قیام کے دوران وہ شخص مسلسل دیوندر سنگھ کے ساتھ موبائل فون پہ رابطے میں تھا۔ 12دسمبر2001ء کواس شخص نے افضل گورو کو35,000روپے دئے اور کہا کہ آپ کا کام ہوگیا اب اپنے گھر چلے جائیں۔ 13دسمبرکو افضل گورو سرینگر کے لئے روانہ ہوئے۔15کو سرینگر سے سوپور کے لئے بس پہ سوار ہونے سے قبل انہیں بس اڈے سے گرفتار کرلیا گیا۔دہلی لاکر افضل گورو پہ جب مقدمہ چلایا گیا تو انہیں اپنے دفاع کی خاطرکوئی وکیل بھی مہیا نہیں کیا گیا ۔ سرکاری وکیل کارویہ انتہائی جارحانہ تھا۔ جو ثبوت افضل گورو کے خلاف پیش ہوئے، ان میں یہ تھا کہ جس شخص کو انہوں نے دہلی لاکر ٹھہرایا تھا وہ حملہ آوروں کا سرغنہ تھا۔ دوسرے افضل گورو کا لیپ ٹاپ پیش کیا گیا جسے پویس نے تحویل میں لیتے وقت سیل نہ کیا تھا جبکہ اس میں سے سارا ڈیٹا مٹا کر صرف ان جعلی پاس کی تصاویر تھیں جو حملہ آور لے کر پارلیمان کی عمارت میں داخل ہوئے تھے۔ اور زی ٹی وی کی ایک کلپ تھی جس میں پارلیمان کی عمارت دکھائی گئی تھی۔ حملہ آوروں کے موبائل فون سے مبینہ طورپر ایک سم بھی ثبوت کے طورپرپیش کی گئی کہ یہ نئی سم افضل گورونے4دسمبر2001 کو خرید کر حملہ آور کو دی تھی۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ یہ سم یکم نومبر2001 ء سے چالو تھی۔ ان تمام پھسپھسے ثبوت کے پیش نظر محمد افضل گورو کو سزائے موت سنائی گئی جسکو سناتے وقت خود سپریم کورٹ نے اعتراف کیا کہ ثبوت ناکافی ہیں لیکن قوم کے غم وغصہ اور اسکے ضمیر کو سکون دینے کی خاطر افضل گورو کوسزائے موت سنائی جاتی ہے بی جے پی اور کانگریس دونوں کا مطالبہ تھا کہ افضل گورو کو فوری طورپر پھانسی دی جائے ۔9 فروری2013ء کو افضل گورو کے خاندان کو ان سے آخری ملاقات کا موقع دئے بغیر تختہ دار پہ لٹکا دیا گیا۔قانون کی جس طرح سے دھجیاں اڑائی گئیں۔ اس سے بدتر کوئی اور مثال نہیں ملتی۔بھارت پاکستان پہ کلبھوشن یادو کے معاملے میں تنقید کرنے سے نہیں تھکتا۔ وہ خود موازنہ کرے کہ پاکستان نے جس طرح اس کی والدہ اور اہلیہ کو اس سے ملاقات کا موقع فراہم کیا وہ قابل تحسین ہے۔ دوسری جانب بھارت نہتے کشمیریوں پہ ظلم وستم کا پہاڑ توڑنے سے نہیں رکتا۔