سنائیں کیا ٹرمپی داستانیں

11 فروری 2018

وقفے وقفے سے مسلم ملکوںکے امن میں اب تو
طوفان ایک اٹھا دیتی ہے امریکی پالیسی
مسلم ہیں آباد جہاں بھی اس دنیا میں سب کے
دل میں آگ لگا دیتی ہے ، امریکی پالیسی
جب سے اعلی ٰ حضرت ٹرمپ صاحب امریکہ کے صدر بنے ہیں۔ امریکی پالیسیوں میں نئے سے نئے طوفان اٹھا رہے ہیں۔ ٹرمپی اسرائیل نوازی نے اسرائیل کے پڑوسی مسلمان ممالک میں سیاسی زلزلاہٹ پیدا کر رکھی ہے۔ ٹرمپائی بیانات اتنے زیادہ ایران مخالف ہیں کہ ایرانیوں کے سینے میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ ظالمانہ رویہ ٹرمپ صاحب نے پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے کیونکہ ٹرمپ صاحب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اشاروں پر کھیل رہے ہیں اور اپنے ہر پاکستان مخالف بیان میں الزام لگا رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردیاں کرنے والے ظالموں کو پاکستان نے پناہ دے رکھی ہے۔ درحقیقت ٹرمپ کے پیٹ میں یہ درد پڑا ہوا ہے کہ سترہ برس گزر جانے کے باوجود امریکی اور افغانی افواج افغانستان میں موجود دہشت گردوں پر قابو پانے میں ناکام چلی آرہی ہیں۔ جدید ترین اسلحہ اور بمبار جہازوں کی کارروائیوں کے باوجود افغانستان کے نصف علاقے پر طالبان کا قبضہ چلا آ رہا ہے اور تمام تر جنگی حکمت عملی اور کارروائیوں کے بعد بھی انہیں کامیابی کی کوئی صورت دکھائی نہیں رہی۔ امریکہ افغان جنگ کی کھائی میں یوں گرا ہوا ہے کہ نکلنے کی کوئی ترکیب کارگرنہیں ہو رہی لہذا ٹرمپ یہ کررہا ہے کہ …؎
داغ ناکامی چھپانا چاہتا ہے اس طرح
دھمکیاں وہ دے رہا ہے روز پاکستان کو
افغانستان میں امریکی ناکامیوں کا بھید ایک امریکی سینٹر نے کھولتے ہوئے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ افغان جنگ کی وجہ سے ایک ایسی سیاسی کھائی میں پھنسا ہوا ہے کہ اس کھائی سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایشیائی سیاست کی نگرانی کرنے والے اعلیٰ ترین اہلکار رینڈل شریور نے افغانستان میں ہونے والے امریکی جنگی اخراجات کی تفصیل کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ پانچ ارب ڈالر سالانہ افغان فوج پر خرچ کر رہا ہے جبکہ تیرہ ارب ڈالر افغانستان میں موجود امریکی افواج کے اخراجات پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کی معاشی حالت برقرار رکھنے کے لئے 78کروڑ ڈالر مہیا کئے جا رہے ہیں۔ افغانستان میں افغان افواج کی مدد کے لئے سولہ ہزار امریکی فوجی افغان سرزمین پر پھنسے ہوئے ہیں اور طالبان کے ساتھ لڑائی میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی لاشیں جب امریکہ پہنچتی ہیں تو وہاں کہرام مچ جاتا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ سارے امریکی عہدیداروں کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے امریکی عوام اور دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے کی جانے والی تنقیدی آگ نے صدر ٹرمپ کو ’’ٹرمپلا‘‘ کر رکھ دیا ہے …؎
سنائیں کیا ٹرمپی داستانیں
وہ غصے میں ٹرمپلائے ہوئے ہیں
اب آتے ہیں پاکستان کی دلیرانہ پالیسی کی طرف۔ پاکستانی حکومتیں تقریباً نصف صدی سے امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو نبھائے چلی آ رہی ہیں اور امریکی شہ پر روس جیسے عظیم ملک کو ٹکڑوں میں تقسیم کروا چکی ہیں۔ پاکستانی افواج اپنی بے مثال کارکردگی کے سبب دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ جب سے ٹرمپ صاحب امریکہ کے صدر بنے ہیں وہ تب سے ہی بھارت کے ساتھ اپنی دوستی کو فروغ دے رہے ہیں اور پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور اہمیت کو نظرانداز کئے جا رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ پاک چائنا تجارتی کاریڈور ہے۔ پاکستان حکومت نے عرصہ دراز کے بعد امریکہ کی پالیسیوں کو اپنانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت امریکی شرائط پر مالی امداد کو نامنظورکرتی ہے۔ دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے حکومت پاکستان اور پاکستانی افواج کے جتنے اخراجات ہوئے ہیں امریکی امداد اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ امریکہ کے صدر اور وزراء پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کے جھوٹے الزام لگا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج کے باہمی اشتراک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور اب جو دہشت گردانہ دھماکے خال خال ہو رہے ہیں۔ ان کے پیچھے بھارت اور افغانستان کے ہاتھ دستانوں میں چھپے ہوئے ہیں جب کہ ثبوت حکومت پاکستان پوری دنیا کے سامنے پیش کر چکی ہے۔ پاکستانی وزیر احسن اقبال نے ایک بین الاقوامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے امریکی الزامات سے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان سے بہتر تعلقات کی بدولت ہی امریکہ افغانستان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ افغانستان میں ممکنہ جنگ کی صورت میں امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوگا۔ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں 60 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے اور 120ارب ڈالرکا نقصان اٹھایا ہے جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ 8 فروری کے دن یورپی یونین ملٹری کمیٹی کے چیئرمین میخائل کوسترا کوس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا واضح اعتراف کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ خطے میں امن کا قیام پاکستانی حمایت کے بغیر ناممکن ہے کاش کہ امریکی صدر ٹرمپ بھارتی سازشی جال سے نکل کر حقائق کا ادراک کریں تاکہ امریکی فوج جو تقریباً پچیس سالوں سے افغانستان میں پھنسی ہوئی ہے سازشی جال سے باہرنکل سکے …؎
پھنسی ہے اور چکرائی ہوئی ہے
نیا ہر روز کرتی ہے بہانہ
نکل پاتی نہیں مچھلی ٹرمپی
پڑا ہے جال اس پر مُودیانہ!