پدماوتی ،،کیا اب فلموں کے ذریعے بھی تعصب پھیلایا جائے گا

11 فروری 2018

تاریخی فلمیں ہمیشہ سے عوام میں ایک غیر معمولی کشش رکھتی ہیں اسی لیئے دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بجٹوں کی بنائی ہوئی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے والی بادشاہوں اور شہزادوں اور ملکاوں کی کہانی پیش کرنے والی یہ فلمیں اکثر بہت مقبول ہوتی ہیں اور باکس آفس پر اپنے بنانے والوں کو بڑا پیسہ کماکر دیتی ہیں۔آج کل ایسی ایک فلم "پدماوتی " کا بہت چرچہ ہے۔جو بھارت کے ایک منجھے ہوئے ہدایت کار سنجھے لیلہ بھنسالی نے بنائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ دنیا میں کامیاب بزنس کر رہی ہے۔ لیکن شروع ہی سے یہ فلم متنازع رہی ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں اور ہندو راج پوتوں کے درمیان جنگ کی ایک افسانوی داستان کو فلم کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ علاﺅ الدین خلجی ،خلجی خاندان کے ایک مشہور مسلمان بادشاہ تھے جنہوں نے تیرہویں صدی میں ہندوستان پر حکومت کی۔اس افسانوی کہانی میں ایک کردار رانی پدماوتی کا ہے جو چت توڑ کے رانا رتن سنگھ کی دوسری رانی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ کہانی کی تفصیلات میں جانے کے بجائے۔جس چیز پر حیرت ہے وہ یہ ہے کہ لیلہ کو فلمی دنیا کے ہدایت کاروں میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔خاص طور پر ان کی فلمی تکنیکی مہارت بڑی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ پدماوتی کو اگر اس زاویئے سے دیکھا جائے کہ انہوں نے اس زمانے کے راج پوتوں کے رسم و رواج اور کلچر کو دکھانے میں جتنی محنت کی ہے وہ فلم کے ہر سین میں دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس فلم میں دو چیزیں ،تخلیقی کام اور تاریخی فلمیں بنانے والوں کے لیئے توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔اگر پدماوتی ایک فکشنل رومانوی کردار ہیں تو قطاً خلجی تاریخ کا ایک حقیقی باب ہیں۔ان کا دور خلجی خاندان کے مضبوط ترین حکمرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح ان کے کردار کو پیش کیا گیا۔ اس میں قطن کوئی گہرائی نظر نہیں آتی۔کہانی لکھنے والے اور ہدایت کار کی تمام تر توجہ انہیں ایک وحشی اور ظالم شخص دکھانے پر مرکوز رہی ہے۔ فلم دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ علاﺅالدین خلجی کوئی بادشاہ تھے اور وہ بھی ہندوستان جیسے بڑے ملک کے۔اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں کی کردارکشی کی جائے تو یقینا اس میں فلم ساز کامیاب نظر آتے ہیں۔تاہم یہ کوئی قابل تحسین کامیابی نہیں ہے کیوں کہ تاریخ بھی اپنی جگہ موجود ہے اور علاﺅالدین کا دور بھی۔علاﺅالدین خلجی نے ایک بڑے حکمران کی حیثیت سے اپنے دور میں جنگیں بھی لڑیں اور ایک وسیع سلطنت کا انتظام بھی چلایا۔ جس طرح اس زمانے میں بادشاہوں کا طریقہ کار تھا شاید وہ انداز حکمرانی اس سے بہت زیادہ مختلف بھی نہ ہو۔لیکن ایسے کردار کو آج یعنی 7 سو سال بعد بھارت میں کسی خاص مقصد کے لیئے کسی قوم کے خلاف تعصب پھیلانے کے لیئے استعمال کرنا سمجھ سے بالاتر لگتا ہے۔ خاص طور پر جب ایسی تخلیق ایک ممتاز فلمساز کے ہاتھ میں ہو۔ علاﺅالدین خلجی کو ایک وحشی اور درندہ صفت انسان دکھا کر آج کے دور میں کیا حاصل ہوسکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ کمرشل فوائد کے لیئے باکس آفس پر کروڑوں روپے سمیٹے جائیں۔جبکہ بھارت کے خلاف تعصب اور فرقہ واریت ویسے بھی عروج پر ہے۔خود اگر راجپوت اور ہندوں کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس میں ستی کی رسم کو بہت شان و شوکت سے پیش کیا گیا ہے۔ جس میں ایک راجپوت بیوی اپنے شوہر کی موت کے بعد اس کی چتا میں زندہ جل کر ہلاک ہوجاتی ہے۔فلم عجب ،وحشت اور دہشت کی علامت ہے۔ یعنی ستی کی رسم کو شان اور آن کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ جب کہ مسلمانوں کی تہذیب میں تو حلال کر کے پکا کر کھایا جاتا ہے۔ویسے بھی اگراس کو حقیقت مان بھی لیا جائے توکچا گوشت کھانا تو انفرادی فعل ہے، لیکن اصل وحشی پن تو عورتوں کو جلاکر ہلاک کیا جانا ہے۔ شاید ہدایت کار اس فرق کو سمجھنے اور بتانے میں نہا یت کمزور نظر آئے۔آج خود بھارت میں خواتین میں جتنی بیداری پیدا ہوئی ہے ،تعلیم کا جتنا چرچا ہے اس کے بعد اس قسم کی رسم کے حق میں کوئی فلم بنانا حیرت انگیز لگتا ہے۔ خاص طور پر اگر اسے آن اور غیرت کا نمونہ بناکر پیش کیا جائے۔ انسانی حقوق کی جتنی تحریکیں خواتین کے حقوق کے لیئے چل رہی ہیں ان تمام میں عالمی طور پر اس بات کی مذمت کی جاتی ہے کہ اگر ایک عورت کو مرد کے برابر نہ مانا جائے۔آن شان اور غیرت کے نام پر اس پر کسی قسم کا بھی ظلم کرنا یا اسے اپنے آپ کو ہلاک کرنے کی ترغیب دینا اس زمانے میں قبول عام بنانا انسانی فہم کے لیئے بہت مشکل ہے۔عورتوں کو زندہ جلانا ،غیرت کے نام پر قتل کرنا در حقیقت یہ پسماندگی اور جہالت کی نشانی ہے۔ کوئی مذہب کوئی معاشرہ ،کوئی نظریہ اسے ایک اچھا فعل تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے دور میں ستی جیسی غیر انسانی رسموں کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔انگریزوں کے دور میں اس پر قانونی طور پر پابندی لگائی گئی آج کے بھارت میں قانونی طور پر اس بات کی کوئی اجازت نہیں دے گا کہ جس میں عورتوں اور بچوں کو زندہ جلانے کا مطالبہ کیا جائے۔یہ قانون ،جمہوریت اور انسانی حقوق سب ہی کے خلاف ہے۔جس زمانے میں یہ رائج تھیں اس زمانے میں عورتوں کی مجبوری تھی نہ کہ شان ، اور غیرت کی علامتتاریخ میں ہر قسم کے واقعات موجود ہیں جس میں جنگیں بھی ہیں۔امن کے لاجواب دور بھی۔پسماندگی بھی اور تہذیب و تمدن کی بلند روایات بھی موجود ہیں۔دنیا میں قبائلی دور بھی رہے ،معروف بادشاہ بھی رہے۔لیکن آج ارتقاءکی منزلوں سے گزرتے ہوئے انسانیت مجموعی طور پر اپنے آپ کو ایک تہذیب یافتہ دور میں شامل سمجھتی ہے۔ ایسے حالات میں ان پرانی روایات اور رسموں کو پر کشش بنا کر پیش کرنا جن سے آج نفرت پھیلنے کا امکان ہو۔جن سے قوموں کے درمیان خلیج زیادہ وسیع ہوتی ہو۔کیا یہ کسی بھی طرح ایسی فلم کو ایک بڑے آرٹ کے طور پر رکھا جاسکتا ہے۔شاندار تاریخی فلم بنانا ایک بات ہے ،لیکن تاریخی حقائق کو مسخق کرنا اس کا ایک منفی پہلو ہے۔ایک بڑے آرٹس کے لیئے سب سے بڑا چیلنج بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیق میں توازن کیسے برقرار رکھتا ہے۔ یقینن فلم پدماوتی کو بناتے وقت سنجھے بھنسالی کے سامنے یہ چیلنج موجود ہوگا۔