دست و پا شکستہ جاں

11 فروری 2018
دست و پا شکستہ جاں

اک اشک جگانے بیٹھی تھی اک عکس پڑا تھا سرہانے
وہ قدم قدم پر چھنتا گیا‘بھرے ہم نے بہت ہی ہرجانے
کیا درد بھُلا کے اُگلے ہیں تری آنکھیں ہیں یا پیمانے
دل زخموں سے بھر جائیگا‘ افسانے لگے جو دہرانے
مجھے مشکل رنگ سے نفرت تھی ہر رنگ ہی لگا ہے تڑپانے
مرے اندر ایک اداسی ہے مسکان چلو گے پڑھانے