مجید نظامی آمریت کے سامنے ہمیشہ ڈٹے رہے : مقررین

11 فروری 2018

کراچی( خصوصی رپورٹر) پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہے جو اپنا سفر جاری رکھے گا یہ سرزمین پاک جب قائم ہوئی تو نوائے وقت موجود تھا۔ مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ طلبا کے لئے فخر کا باعثہے ہمیں اپنی پہچان کے ساتھ زندہ رہنا چاہئے آمریت کے سامنے مجید نظامی ہمیشہ ڈٹے رہے، آمریت ہار گئی صحافت جیت گئی۔ ان خیالات کا اظہار19 ویں فرزندان پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ2017 کی تقریب میںمقررین نے کیا۔ تقریب کی صدارت ممتاز اسکالر اور شاعر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کی مہمان خصوصی بابو سرفراز خان جتوئی صدر مسلم لیگ ن تھے۔ تقریب سے پیر منور حسین شاہ جماعتی، امین یوسف ریذیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت کراچی، پروفیسر نوشابہ صدیقی، محمود احمد خان، سابق نائب صدر آرٹس کونسل کے علاوہ چیئرمین فرزندان پاکستان رانا اشفاق رسول طالبہ ایرج سحر نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ پاکستان قائم رہے گا ہمیں اپنی پہچان کے ساتھ زندہ رہنا ہے اگر پہچان بنانی ہے تو ہر صورت میں نالج بیس سوسائٹی بنانا ہوگی۔ پیر منور حسین شاہ جماعتی نے کہاکہ مجھے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے شاہد رشیدنے دعوت دی ۔ا نہوں نے کہا کہ اسلام کی طاقت اور عظمت یہ ہے کہ 1400 سال پہلے آقا نبی کریم نے جو قانون دیا تھا اس میں کسی بھی صورت میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔ امین یوسف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تعلیمی ایوارڈ نوائے وقت کے بانی کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ میں نے رانا اشفاق کے اسکول میں 14 اگست کی تقریب میں دیکھا کہ رانا اشفاق رسول نے نظریہ پاکستان کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ نہ صرف تصاویر بلکہ بایوگرافی بھی موجود ہے ۔ یہ بچوں کی حوصلہ افزائی کا اچھا اور احسن طریقہ ہے۔ تعلیم برائے فروخت ہوگئی ہے کچھ لوگ ابھی ہیں جو نظریہ پاکستان کو آگے لے کر جارہے ہیں۔ طلبا سے کہوں گا کہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔ رانا اشفاق رسول اس مشن کو جاری رکھیں پیرزادہ قاسم جیسے لوگوں کی سرپرستی جاری رہے گی۔ مسلم لیگ ضلع غربی کے صدر امان اللہ آفریدی نے کہا کہ جنہوں نے پاکستان کو دو لخت کرنا تھا کردیا لیکن نئی نسل ا ور ہمارے بچے بچیاں پاکستان کی حفاظت کریں گے ۔ سماجی شخصیت محمود احمد خان نے کہاکہ 19 سال سے ایسا کام کررہے ہیں جو قابل ذکر ہے۔ بچوں نے جو محنتیں کی ہیں اس کو سراہنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔ علامہ اقبال کالج کی سابق پرنسپل اور ماہر تعلیم پروفیسر نوشابہ صدیقی نے کہا کہ مجھے یوم اقبال کے سلسلے میں مجید نظامی کے ساتھ شرکت کا اعزاز حاصل رہا وہ زندگی میں کبھی مایوس اور شکست خوردہ نہیں رہے۔ آج حمید نظامی مرحوم کے چھوٹے بھائی مجید نظامی کی شخصیت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ نوا زشریف نے ایٹمی دھماکے کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو انہوں نے کہاکہ آپ دھماکہ نہیں کریں گے تو قوم آپ کا دھماکہ کردے گی۔ اپنے قلم سے مجید نظامی خوش آمدی نہیں بنے ساری عمر سچ کا کڑوا گھونٹ پیتے رہے۔ مجید نظامی زندگی بھر صرف صحافی رہے سیاست دان بنے اور نہ سیاست دانوں کے پیچھے پھرے۔ انہیں حکومت کے لئے بڑی بڑی پیشکشیں ہوئیں۔ لیکن انہوں نے مدیرنوائے وقت رہنے کو ترجیح دی۔ بابو سرفراز جتوئی نے کہا کہ جب تک پاکستان کو نظریہ پاکستان کے ساتھ چلایا گیا تو وہ دور جمہوری دور تھا پاکستان کو نظریہ پاکستان سے ہٹ کر پاکستان کے مقتدر حلقوں نے چلانے کی کوششیں کیں تو اس کے نتیجے میں بوری بند لاشیں، ٹارگٹ کلنگ ، مارکیٹ کا کرپشن ہونا، بدامنی ملی۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ تنظیمیں بنتی رہتی ہیں لیکن فرزندان پاکستان کا نام قابل تعریف ہے کہ وہ اعلیٰ مقصد کے ساتھ تعلیم تربیت اور ثقافت پر پاکستانیت کو فروغ دے رہی ہے۔ رانا اشفاق رسول نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہ 19 برسوں میں یہ پہلی تقریب ہے جو مختصر وقت پر ختم ہوگئی ہے میں تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ میں نے جوشعبہ اختیار کیا وہ تعلیم ، ایوارڈ اور فرزندان پاکستان ہے نظامی صاحب کے معیار پر پورا اترنا بہت مشکل تھا ۔انہوں نے میری شفقت کی۔ یہ ایوارڈ جس شخصیت کے نام سے جڑا ہے وہ آپ کے لئے باعث فخر ہے کراچی بورڈ اور انٹر بورڈ سے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو ایوارڈ دیئے فرزندان پاکستان ایوارڈ بھی ہم ان شخصیات کو دے رہے ہیں جنہوں نے اپنے وطن میں رہ کر اپنی بے لوث خدمات کو پیش کیا ہے۔19 فرزندان پاکستان ڈاکٹر مجید نظامی تعلیمی ایوارڈ 2017 کی تقریب میںطلبہ و طالبات کے علاوہ مہمانوں اور فعال عہدیداران کو مجید نظامی تعلیمی ایوارڈز دیئے گئے یہ ایوارڈ صدر تقریب پیرزادہ قاسم اور مہمان خاص کے ہاتھوں دیئے گئے اس موقع پر صدر تقریب ، مہمانان خصوصی و مقررین کو اجرکیں پہنائی گئیں پہلے دو رکی نظامت رانا اشفاق رسول نے کی جب کہ دوسرے دو ر کی نظامت شاہد سرور نے کی حافظ شفیق نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی۔ نعت رسول طالب علم محمد نوید نے پیش کی۔ طاہرہ اور کرن نے قومی ترانہ سنایا۔