تخت لاہور میں کیا ہو رہا ہے: چیف جسٹس ‘صاف پانی کیس‘ شہباز شریف آج سپریم کورٹ طلب

11 فروری 2018

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ خصوصی رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان نے صاف پانی کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو آج صبح11 بجے ذاتی حیثیت سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کرلیا جبکہ لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس کو مسائل کی رپورٹ 24 فروری تک عدالت میں پیش کر نے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے کہا ریاست کو اپنے ملازمین کیلئے مالک نہیں بننا بلکہ کفالت کرنی ہے۔ چیف سیکرٹری بتائیں کہ کیا آپ 45 ہزار روپے ماہانہ میں گزارا کر سکتے ہیں۔ فاضل عدالت نے برائلر مرغیوں کو دی جانے والی خوراک اور گوشت کے نمونوں کا ٹیسٹ کروانے کا بھی حکم دیدیا۔چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے گزشتہ روز مختلف ازخود نوٹسز پر سماعت کی۔ صاف پانی کیس کی سماعت کا آغاز کیا توایڈووکیٹ عائشہ حامد نے عدالت میں رپورٹ جمع کروائی جس میں انکشاف کیاگیاکہ دریائے راوی میں لاہور کا 540 ملین گیلن گندا پانی پھینکا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاہور تو پنجاب کا دل ہے۔ دل میں کیا پھینکا جا رہا ہے۔ حیرانگی کی بات ہے لاہورکی یہ صورتحال ہے توباقی شہروں کا کیا حال ہوگا۔ چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اس حوالے سے کئے گئے اقدامات کی وضاحت کیلئے فوری طور پرپیش ہونیکا حکم دیا اور ریمارکس دیئے کہ اگرسندھ کا وزیراعلیٰ عدالت پیش ہو سکتا ہے تو پنجاب کا کیوں نہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے عالت کو بتایاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مصروفیات کے باعث آج پیش نہیں ہوسکتے۔ عدالت پیش ہونے کیلئے وقت دے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ اچھا ہوتا اگر وزیراعلیٰ آج پیش ہوتے۔ یہ تخت لاہور ہے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ابھی تک راوی پر فلٹریشن پلانٹ ہی نہیں لگایا گیا۔ مستقبل میں اگر اس پر عمل ہو بھی گیا تو ماضی میں اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اس کا تعین عدالت کریگی۔ فاضل عدالت نے استدعا منظور اور صاف پانی کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو آج دن 11 بجے پیش ہونیکا حکم دیدیا جبکہ چیف سیکرٹری کو حکم دیاکہ صاف پانی سے متعلق سات روز میں رپورٹ جمع کروائیں۔ بعدازاں سپریم کورٹ میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں زائد فیسوں کی وصولی کیخلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت میں ینگ ڈاکٹرز کوسہولیات اور تنخواہوں سے متعلق شکایات کی رپورٹ طلب کر لی۔ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ینگ ڈاکٹرز کو 45 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ادا کیا جاتا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 5 سال تک ایک میڈیکل کا طالب علم ا محنت کرتا ہے اور اسے معاوضہ نہ ہونے کے برابر دیا جاتا ہے۔ جب ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کو اہمیت نہیں دی جائے گی تو وہ کہاں جائیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ اگر ڈاکٹرز کو موقع مل جائے تو وہ یورپ یا امریکہ چلے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہے انہیں علم ہے کہ مسائل کیا ہیں۔ انہوں نے ینگ ڈاکٹرز کو ہدایت کی کہ وہ ہڑتالں بند کریں ‘ اپنی شکایات تحریری طور پر دیں۔ سپریم کورٹ کے حکم کو نہیں مانا جائے گا تو پھر ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر عاصم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بھاگنا نہیں ہے۔ آپ ہمارے لئے بہت اہم ہیں۔ چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹرز کی سہولیات اور تنخواہوں کی شکایات سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت عظمیٰ کے فاضل بنچ نے سرکاری ہسپتالوں کی ناقص صورتحال کے خلاف ازخود نوٹسز کی بھی سماعت کی۔ لاہور کے تمام ہسپتالوں کے ایم ایس پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس جذبے سے سپریم کورٹ نے ان معاملات کو دیکھا، اسی جذبے سے آپ کو بھی کام کرنا ہو گا۔ وہ ہسپتال جس کو میں نے اپنے بچپن اورجوانی میں دیکھا اس کی حالت بھی بہتر کرنا چاہتا ہوں، تمام سرکاری ہسپتالوں میں مجھے بہت اعلیٰ قسم کی ایمرجنسی چاہے۔ ہم سب نے مل کر ایک بہتر نظام تیار کرنا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میو ہسپتال کا جب سے دورہ کیا ہے تب سے دل پر بوجھ لے کے پھر رہا ہوں، مجھے کسی تنقید کی پرواہ نہیں۔ میو ہسپتال دوبارہ جاؤں گا۔ معیاری سٹنٹ کی قیمتوں میں کمی کر کے ڈائیلسز کے شعبے میں اقدامات کرینگے۔ طاقت کے مظاہرے کے لئے نہیں، ذمہ داری کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ عدالت نے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب ڈاکٹروں کا سروس سٹرکچر کیوں نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت تمام اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدلیہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے لاہور میں شاہراؤں پر قائم رکاوٹوں پر لئے گئے از خود نوٹس پر آئی جی کی رپورٹ مسترد کر دی۔ فاضل عدالت نے کہا کہ کینٹ اور ماڈل ٹاؤن میں بھی قائم رکاوٹوں کے بارے میں بتایا جائے۔ آئی جی نے بتایا کہ سکیورٹی کے حوالے سے کچھ جگہوں پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جس کو سکیورٹی کا مسئلہ ہے اس کیلئے جو مرضی اقدامات کریں تاہم شہریوں کیلئے مسائل پیدا نہیں ہونے چاہیں۔استفسار پر بتایا گیا کہ 180 ایچ ماڈل ٹاؤن وزیر اعلیٰ کا کیمپ آفس ہے جبکہ 96 ایچ رہائش گاہ ہے۔ فاضل عدالت نے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا چیف سیکرٹری صاحب ڈاکٹروں کا سروس سٹرکچر کیوں نہیں بنایا گیا؟ ڈاکٹرز جتنی تنخواہ لے رہے ہیں اتنی تو سپریم کورٹ کے ڈرائیور کی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت اپنے دائرہ اختیار سے آگے نہیں جائیگی۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالے نتائج بھگتیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سکیورٹی کے نام پر شہریوں کو گھروں میں محصور کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ آج آپ کے وزیراعلیٰ بھی آئیں گے اور سڑکیں بھی کھلیں گی۔ دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ عورتوں اور بچوں میں چکن کے استعمال سے ہارمونز میں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ عدالت نے فاسٹ فوڈ ہوٹلوں کے استعمال شدہ تیل سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری پنجاب‘ ڈی جی فوڈ‘ اسلام آباد منسٹر فوڈ کو اجینو موٹو درآمد کرنے والی کمپنیوں سے متعلق بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ڈی جی فوڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو کسی اور کو موقع دیں۔ یہ انسانوں کی صحت کا معاملہ ہے، خاموش نہیں رہ سکتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان سب معاملات کی ذمہ دار صوبے کے چیف ایگزیکٹو پر عائد ہوتی ہے۔ وہ عدالت آئیں تو ان سے پوچھیں گے صحت کے معاملے پر کیا اقدامات کئے۔ ایک اور ازخود نوٹس میں ایل ڈی اے سٹی کی ایکوائر کردہ زمین سے متعلق رپورٹ طلب کر لی گئی۔