سربراہ متحدہ کا ناراض ارکان کو شوکاز: فاروق ستار سے ملاقات‘ رابطہ کمیٹی نے مطالبات تسلیم کر لئے

11 فروری 2018

کراچی (خصوصی رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے 33 ارکان کو شوکاز نوٹس بھجوا دیئے۔ شوکاز نوٹسز بہادر آباد میں وصول کرلئے گئے۔ شوکاز نوٹسز میں کہا گیا ہے رابطہ کمیٹی کے ارکان دو دن میں جواب دیں پارٹی سربراہ سے بغاوت کیوں کی۔ الیکشن کمشن کو خط لکھنے کے معاملے کی وضاحت کی جائے۔ کنونیئر کی اجازت کے بغیر اجلاس اور فیصلے غیر آئینی ہیں۔ مزید براں ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنونیئر عامر خان اور کنور نوید جمیل نے پی آئی بی میں فاروق ستار سے ملاقات کی۔ اور رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کے سارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمشن کو لکھا خط بھی واپس لے لیا۔ بعد آزاں کنور نوید نے کہا کارکنوں کی خواہش پر خط واپس لیا۔ پارٹی کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جائینگے۔ خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر کو فاروق ستار نے دوسرے کمرے میں بٹھا دیا۔ فاروق ستار نے عامر خان اور کنور نوید جمیل سے ملاقات کے بعد ساتھیوں سے مشاورت کی۔ رابطہ کمیٹی کا وفد میڈیا سے گفتگو کئے بغیر واپس روانہ ہوگیا۔ فاروق ستار نے کہا عامر خان کی خدمات سے انکار نہیں، آج بھی مجھے مائنس ون کا فارمولہ لگ رہا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے آج پی آئی بی میں جنرل ورکرز اجلاس طلب کر لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا جنرل ورکرز اجلاس کے ایم سی سٹیڈیم میں ہوگا، سب کارکن شرکت کریں۔ گندے بچوں کی طرح لڑائی کرنے کی بجائے اچھے بچے بن کر رہیں۔ ایم کیو ایم بحران سے گزر رہی ہے، مسئلہ کامران ٹیسوری کا نہیں، ٹیسوری کا نام بدھ کو واپس لے لیا تھا۔ سینٹ نشستیں چھوڑنے کی تجویز بھی دی تھی، چار نئے امیدواروں پر اتفاق ہوا تو اگلی فلائٹ سے بہادر آباد جائوں گا۔ کوشش ہے ہر حال میں پارٹی کی تقسیم کو روکا جائے، عامر خان، فیصل سبزواری رو رہے ہیں تو میرا دل بھی رو رہا ہے۔ ثابت کرنا ہے ڈنڈے کے بغیر بھی پارٹی میں کام کیا جاسکتا ہے۔ متحدہ بانی نہیں بنتا تو ممنون حسین بھی نہیں بننا، پہلے ڈائیلاگ چلتا تھا منی بدنام ہوگئی، اب چلتا ہے منا بدنام ہوگیا۔ بغیر ڈنڈے کے بھی پارٹی میںجمہوریت ہے۔ کامران ٹیسوری نے نام نکالنے کیلئے بلینک پیپر دیا ہوا ہے، ہم اس فارمولے پر ہیں کہ چار نئے امیدوار نکالیں، آئندہ ہم اپنی لڑائی اور اختلاف کا حل خود ہی نکالیں گے۔ 17 افراد میں سے نام نکالیں جو متنازعہ نہ ہوں۔ نیٹ نیوز کے مطابق دونوں دھڑوں کے اہم اجلاس آج ہوں گے۔ ایک طرف فاروق ستار اور دوسری طرف عامر خان گروپ کو مائنس کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق سید سردار احمد رابطہ کمیٹی سے مستعفی جبکہ عامرخان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ پی ایس پی کے رہنما سلمان مجاہد بلوچ نے ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت اختیار کرلی۔ ترجمان کے مطابق سلمان مجاہد بلوچ نے فاروق ستار سے ملاقات میں شمولیت اختیار کی۔ سلمان مجاہد بلوچ نے فاروق ستار کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے پی ایس پی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی سینئر رہنما سینیٹر نسرین جلیل نے کہا پہلے کی طرح ون مین شو نہیں چلے گا۔ فاروق ستار کی ضد کی وجہ سے ہزاروں کارکن پریشان ہیں۔ پارٹی میں ہر فیصلہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔نجی ٹی وی کے مطابق عامر خان ایم کیو ایم پاکستان کے سلمان مجاہد بلوچ کی جانب سے سازشی کہنے پر آبدیدہ ہوئے۔ پریس کانفرنس کے دوران فیصل سبزواری بھی آبدیدہ ہوگئے۔ عامر خان نے کہا مجھ پر بے ہودہ الزامات لگائے گئے۔ آج تک پارٹی سربراہی کی خواہش نہیںکی، تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے میری اور فاروق ستار کی لڑائی ہے۔ 22 مئی 2011ء کو ایم کیو ایم میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی، عزت و احترام عہدے سے نہیں ملتا، میرا عزت و احترام کارکن ہیں، ساری زندگی کنوینر نہیں بنوں گا، میں کارکن کی حیثیت سے کام کرنے میں خوش ہوں۔ پی ایس پی چھوڑ کر ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ہونے والے سلمان مجاہد بلوچ نے کہا ہے جھگڑا سینٹ کی نشست کا نہیں مائنس ون کا ہے، انیس قائم خانی سے درخواست ہے وہ بھی آئیں اور فاروق بھائی کے ہاتھ مضبوط کریں۔ عمران فاروق شہید اور دیگر شہداء کے خاندان فاروق ستار کے ساتھ ہیں، آج ہمیں فاروق ستار کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے فاروق ستار ایم کیو ایم کی سربراہی کریں۔ میرے ساتھ ارم عظیم فاروقی کو بھی پارٹی میں آنے سے روکا جاتا رہا، میں ارم سے کہوں گا آئیں فاروق ستار کا ساتھ دیں۔ عامر خان سازشی آدمی ہیں جب تک عامر خان سازش نہ کرلیں تب تک ان کو نیند نہیں آتی۔ ترجمان پی ایس پی نے سلمان مجاہد بلوچ کے ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت پر کہا ہے کسی کے جانے پر کوئی پابندی نہیں، پی ایس پی میں آنے والے کو ویلکم کرتے ہیں۔ پی ایس پی واحد جماعت ہے جہاں زور زبردستی نہیں ہوتی۔