خیبر پی کے حکومت نے بجلی کا پلانٹ لگانے کے لئے گیس مانگی،ہم نے دیدی پر 4 سال گزر گئے بجلی کا کوئی منصوبہ نہیں لگ سکا وزیراعظم شاہدخاقان عباسی

11 فروری 2018

میانوالی ‘ کالاباغ ‘ داﺅدخیل (نامہ نگاران ‘ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے خیبر پی کے حکومت نے بجلی کا پلانٹ لگانے کے لئے گیس مانگی،ہم نے دیدی پر 4 سال گزر گئے بجلی کا کوئی منصوبہ نہیں لگ سکا۔ وزیراعظم نے میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں گیس منصوبے کا افتتاح کیا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا حکومت نے سازشوں کا مقابلہ بھی کیا اور کام بھی کیا۔ ہمارے منصوبے دعوے نہیں عملی کام ہے۔ لوٹ کھسوٹ کی سیاست کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ عوام فیصلہ کریں گالیاں دینے والوں یا کام کرنے والوں کو ووٹ دینا ہے۔ سینٹ الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا ووٹ خریدنے والا سینیٹر پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتا، جو ووٹ خرید کر سینٹ میں آئے گا اسے شرمندہ کریں گے۔ انہوں نے کہا ہارس ٹریڈنگ میں ملوث لوگ نظر آجائیں گے جس کا اسمبلی میں ایک ایم پی اے بھی نہ ہو وہ سینیٹر کیسے بن سکتا ہے۔ لوٹ کھسوٹ اور لوگوں کو خریدنے کی سیاست ختم کرنی ہے۔میانوالی سے نامہ نگار کے مطابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے عیسیٰ خیل، کمرمشانی کو سوئی گیس کی فراہمی کے بڑے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر راجہ مہر اشفاق،صوبائی وزیر امانت اللہ خان اور محکمہ سوئی گیس نادرن کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ سنگ بنیاد رکھنے کے سلسلے میں جناح ہائیڈرو کالونی کالاباغ کے بڑے میدان پر جلسہ ہوا جس میں تحصیل عیسیٰ خیل اور میانوالی اور اردگرد کے شادی خیل گروپ سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسہ سے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ(ن) کی حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرکے عملی کام کر رہی ہے۔ ہم عمل پر‘ عوام کی عملی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نعرے لگانے اور ہلڑ بازی کرنے والے نہیں۔ انہوں نے کہا عبیداللہ شادی خیل ایم این اے آپ کے نمائندہ ہیں، ان کی کامیابی اب 2018ءکے الیکشن میں بھی انشاءاللہ ہوگی۔ انہوں نے صوبہ کے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا پنجاب کی حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے ترقیاتی اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ جلسہ سے عبیداللہ شادی خیل‘ امانت اللہ خان اور دیگر رہنماﺅں نے بھی خطاب کیا۔کالاباغ‘داﺅد خیل سے نمائندگان کے مطابق وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ این اے 71 میں دوار ب تیس کروڑ روپے کی لاگت سے سوئی گیس فراہم کی جائیگی۔ وزیر اعظم نے آبادیوں کو پانچ کلو میٹر ایریا تک گیس فراہم کرنے پر پابندی ختم کرنے کابھی اعلان کیا۔ کھا د فیکٹری کو مارچ سے گیس بحال کردی جائیگی۔ جبکہ سی پیک منصوبے کیلئے مسان اور کلور میں انٹرچینج بنانے کی بھی منظوری کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے سی پیک کے تحت ضلع میانوالی میں انڈسٹریل زون کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا میڈیکل کالج بھی میانوالی کا حق ہے ‘ یہ ضرور بنے گا۔ انہوںنے کہا مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ملک میں ترقی خوشحالی کاراستہ کھول دیاہے۔ میاں نواز شریف کے دور میں جو کام ہوا وہ 65سال میں نہیں ہواتھا۔ پی پی پی کے دور میں دس لاکھ ٹن کھاد باہر سے منگوائی ۔ ہماری حکومت نے چھ لاکھ ٹن دوسرے ممالک کو بھیجی۔ عمران خان کے سارے دعوے جھوٹے تھے۔ کے پی کے میں بجلی کا ایک بھی منصوبہ نہیں بنا۔ گالیاں دینے والے عوام نے دیکھ لئے ہیں اب میانوالی کے لوگ خدمت کرنے والوں کا ساتھ دیں۔وزیر اعظم نے کہا مسلم لیگ کیخلاف ایجنڈا ناکام ہوچکاہے ۔نواز شریف ہی عوام کے وزیر اعظم ہیں مسلم لیگ2018 میں پہلے سے زیادہ اکثریت کےساتھ کامیاب ہوگی۔ ہماری حکومت نے اندھیروں کا خاتمہ کیا انڈسٹری کاپیسہ پھر چلایا ۔آج ملک میں وافر بجلی موجود ہے ۔ لوڈ شیڈنگ ختم ہوگئی ہے جلسے میں لوگ شادی خیل گروپ زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے ۔ عبید اللہ خان شادی خیل، امانت اللہ خان شادی خیل نے وزیر اعظم کا شکریہ اداکیا اور ہیلی پیڈ پر افسران کے ہمراہ رخصت کیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم جب جلسہ گاہ پہنچے تو انکاوالہانہ استقبال کیاگیا۔ وزیراعظم کے ہمراہ مسلم لیگ کے رہنما حنیف عباسی ، راجہ اشفاق سرور وزیر محنت پنجاب ممتاز ٹمن ، ایم این اے صدیق الفاروق، انجم وکیل ودیگر بھی موجود تھے۔ نظامت کے فرائض سینئر صحافی رانا ادریس نے سر انجام دئےے۔ انہوں نے جوش خطابت سے حاضرین کو گرمایا۔ ایم این اے عبید اللہ خان شادی خیل نے سپاسنامے میں وزیر اعظم اور تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ میانوالی سے نامہ نگار کے مطابق پبلک ہیلتھ اور ضلع کونسل میانوالی کے واٹر سپلائی ٹینکوں کے آپریٹر کو ایک سال سے تنخواہیں نہ ملنے پر وزیراعظم کے سامنے اپنے مطالبات کے بینر لہراتے رہے اور مطالبہ کرتے رہے وہ غریب ملازمین ہیں ان کو 12ماہ سے زائد عرصہ ہوچکا ہے تنخواہیں نہیں دی جارہیں۔ ایگری ٹیک فرٹیلائزر فیکٹری لمیٹڈ سکندر آباد (میانوالی) کے افسران‘ ملازمین ‘ اہلکاران اور مزدوروں نے وزیراعظم کے جلسہ کو کامیاب بنانے کیلئے شرکت کی کیونکہ منتظم جلسہ عبداللہ شادی خیل نے فیکٹری کی سوئی گیس جوکہ پانچ ماہ سے بند ہے بحال کرانے کیلئے فیکٹری والوں کو یقین دہائی کرائی ہے۔این این آئی، آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نے کہا لوٹ کھسوٹ، ضمیر فروشی اور ووٹ خریدنے کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں،¾ ایسی سیاست کےخلاف جہاد کرکے اسے ختم کرنا ہوگا،(ن) لیگ ضمیر خرید کر سینٹ میں آنے والے لوگوں کا مقابلہ کرے گی۔خیبرپی کے سمیت چاروں صوبوں کی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کاموں کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔وزیراعظم نے کہا عیسیٰ خیل آمد پر بے حد خوشی ہے، یہاں سوئی گیس کا منصوبہ 230کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ پنجاب کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ یہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ آپ کی ہم سے محبت کے اثرات ہیں۔ سینکڑوں ارب روپے کے موٹروے کا منصوبہ جو عیسیٰ خیل سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جاتا ہے علاقہ کی تقدیر بدل دے گا۔ وزیراعظم نے کہا 2013ءمیں برسراقتدار آنے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ان پانچ برسوں میں اتنے ترقیاتی کام کرائے جتنے 65 سال میں نہیں ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا حکومت نے دھرنوں، مشکل حالات کے باوجود کام کرائے اور سیاسی سازشوں کا مقابلہ کیا۔ شہباز شریف کی کارکردگی کا اعتراف دیگر صوبے کے عوام بھی کررہے ہیں۔ یہ ثمرات جمہوریت کے مرہون منت ہیں۔ مسلم لیگ (ن) شائستگی کی سیاست کرتی ہے۔ باقی صوبوں کے عوام پنجاب کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور شہباز شریف جیسا وزیراعلیٰ چاہتے ہیں۔مسلم لیگ (ن)ضمیر خرید کر سینیٹ میں آنے والے لوگوں کا مقابلہ کرے گی ۔وزیراعظم نے کہا ہماری حکومت مزاحمت کے باوجود کام کرتی رہی۔ جولائی 2018ءکے بعد ہم انشاءاللہ دوبارہ حکومت میں آئیں گے۔ وزیراعظم نے کہا چترال سے گوادر تک منصوبے لگ رہے ہیں۔ گیس، بجلی، ہسپتال، صنعتیں لگ رہی ہیں۔ تمام منصوبے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا تحفہ ہے۔ ایگری ٹیک کو نواز شریف نے مہربانی کرتے ہوئے بحال کیا۔ اگلے ماہ ایگری ٹیک کو گیس ملے گی۔ خیبر پی کے کی حکومت نے بجلی کے کارخانہ لگانے کےلئے ہم سے گیس مانگی، ہم نے 100ملین کیوبک فٹ گیس خیبرپی کے حکومت کو دی، جس سے کئی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے، آج 4سال گزرنے کے باوجود کے پی کے میں ایک بجلی کا منصوبہ شروع نہ کیا جا سکا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے درآمدی گیس سے 3600میگاواٹ کا بجلی کا کارخانہ لگا دیا اور بجلی بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کے پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو خط لکھا آپ کو 100ملین کیوبک فٹ گیس کی فراہمی کے باوجود بجلی پیدا نہیں کر رہے جبکہ دوسری جانب ایگری ٹیک کو 28ملین کیوبک فٹ گیس چاہیے، جب تک آپ کا بجلی کا کارخانہ نہیں لگتا یہ گیس آپ ایگری ٹیک کو دے دیں،مجھے 4سال سے خط کا جواب نہیں آیا۔ مجھے نیب میں گھسیٹے جانے اور عدالت میں لے جانے کی دھمکی دی گئی، یہ گیس مزدوروں کا حق ہے، خیبر پی کے حکومت آج خط لکھ دے جب تک ہمارا منصوبہ نہیں لگتا تب تک یہ گیس ایگری ٹیک کو دے دی جائے، ایگری ٹیک کو گیس ہر قیمت پر ملے گی چاہے کے پی کے حکومت خط لکھے یا نہ لکھے۔ وزیراعظم نے کہا موٹروے کا انٹرچینج ضرور بنے گا، یہ علاقے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری حکومت کی پالیسی ہے جس علاقے سے گیس نکلتی ہے اس کے 5کلو میٹر کے علاقہ میں آبادیوں کو فوری گیس فراہم کی جائے گی، موٹروے میانوالی اور عیسیٰ خیل کی تاریخ کو بدل دے گا۔
شاہد خاقان