مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی افسروں سمیت 4 ہلاک اور 6 اہلکار زخمی ہو گئے

11 فروری 2018

سرینگر(آن لائن‘کے پی آئی‘ اے ایف پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی افسروں سمیت 4 ہلاک اور 6 اہلکار زخمی ہو گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جموں کے علاقے سنجوان میں نامعلوم افراد نے فوجی کیمپ پر اچانک دھاوا بول دیا۔ حملہ جموں کے مضافاتی علاقے سنجوان میں جموں ۔ پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع فوجی کیمپ پرہفتے کی صبح تقریباً 5بجے ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے کیمپ کے باہر سنتری بنکر پر فائرنگ کی۔ فوجی جوانوں نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پورا علاقہ گولیوں کی گنگناہٹ سے لرز اٹھا۔ فورسز نے حملہ آوروں کی تلاش کے لئے گرد ونواح کے ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لے لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین تھی ۔ حکام نے جموں شہر میں ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔پولیس سربراہ ایس پی وید نے کہاحملہ آوروں نے کیمپ کے عقب سے حملہ کیا۔حملے میں فوج کا ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر ، ایک نان کمیشنڈ آفیسر اور دو بچے ہلاک اور 6 فوجی جوان زخمی ہوئے۔باور کیا جاتا ہے کہ حملہ آور فرار ہوگئے ہیں تاہم فوج اور فورسز نے جائے وقوع کے گردو نواح میں ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشیاں شروع کردی ہیں۔جموں میں فوجی کیمپ پر حملے کے حوالے سے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے براہ راست ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید سے فون پر بات کرکے معلومات حاصل کیں۔بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد بھارتی سیکرٹری دفاع ہنگامی دورے پر مقبوضہ کشمیر پہنچ گئے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے سپیکر کیوندر گپتا نے اسمبلی میںیہ کہہ کر ایک تنازع کھڑا کردیا کہ جموں کے سنجوان فوجی کیمپ پر حملہ علاقے میں موجود روہنگیا مسلمانوں کی وجہ سے ہوا ہے۔اپوزیشن ممبران نے سپیکر کے اس بیان پر ہنگامہ کیا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔اپوزیشن نے سپیکر سے اس بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور واک آوٹ بھی کیا۔دوسری جانب شہےد کشمیر محمد مقبول بٹ کی 34 وےںبرسی پر آج ( اتوار) وادی میں ہڑتال کی جائے گی۔ کشمیری عوام کاروبار زندگی معطل رکھ کر بھارت کے خلاف احتجاج کرےں گے۔ ہڑتال کی اپےل مشترکہ مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک نے کی ہے جبکہ سری نگر کے علاقے سونہ وار میں قائم اقوام متحدہ کے مبصرین دفتر کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، مختار احمد وازہ، غلام احمد گلزار، محمد یوسف نقاش، بلال صدیقی، محمد اشرف لایہ، عمر عادل ڈار اور سید امتیاز حیدر کو مارچ کی قیادت سے روکنے کے لیے گھروں، تھانوں اور جیلوں میں نظر بند کر دیا ہے اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے جنوب سے شمال تک اضافی فورسز و پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی پھانسی عدل و انصاف کی تاریخ کا ایک سیاہ باب اوردیگرلاکھوں شہداءکی قربانیاں کشمیریوں کا بیش بہا اثاثہ ہیں اورکشمیری اپنے ان عظیم شہداءکے مقدس مشن کو ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس کی طرف سے دو نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف ضلع شوپیاں میں تیسرے روز بھی ہڑتال رہی۔
مقبوضہ کشمیر