سرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر اور عملے کی غفلت سے نوزائیدہ بچہ جاں بحق ہوگیا

11 فروری 2018

مظفرگڑھ(نامہ نگار) سرکاری ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر اور عملے کی غفلت سے نوزائیدہ بچہ جاں بحق ہوگیا ۔گونگی ،بہری بیوی زندگی وموت کی کشمکش میں پرائیویٹ ہسپتال داخل ہے ،پولیس لیڈی ڈاکٹر اور ہسپتال عملے کیخلاف مقدمہ درج کرنے کو تیار نہیں۔ان خیالات کا اظہار بستی جال والا موضع کڑی علی مردان کے رہائشی مزدور غلام مصطفی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔غلام مصطفی کاکہنا تھا کہ 30جنوری کو وُہ قوت سماعت اور گویائی سے محروم اپنی بیوی شہنازمائی کو ڈیلیوری کے لیے دیہی مرکز صحت رنگپور لیکر گیا ،مگرعملے نے اسے واپس گھر بھیج دیا اور 2گھنٹوں بعد واپس آنے کا کہنا ،غلام مصطفی کیمطابق وُہ بعدازاںاسی دن 2مرتبہ پھر بیوی کو لیکر ہسپتال گیا مگر عملے نے داخل کرنے سے انکار کرکے واپس گھر بھجوادیا ۔غلام مصطفی کیمطابق بعدازاں تشویشناک حالت کے پیش نظر وُہ رات 12بجے کے بعد اپنی بیوی کو لیکر ہسپتال پہنچا جہاں لیڈی ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں سٹاف نرس اور عملے نے ڈاکٹر کی غیر موجودگی میںاسکی کی بیوی کاآپریشن شروع کردیا اورفون پر لیڈی ڈاکٹر سے ہدایات لیتے رہے ۔غلام مصطفی کے مطابق اسکا بیٹا پیدا ہوا مگر آکسیجن نہ ملنے اور عملے کی غفلت کے باعث اسکا بیٹا مرگیا ۔غلام مصطفی نے الزام لگایا کہ آپریشن کے بعد لیڈی ڈاکٹر اگلی صبح 11بجے دیہی مرکزصحت رنگپور پہنچیں تو انہوں نے آپریشن کے بعد زخم پر ٹانکے لگائے اس دوران مریضہ تڑپتی رہی ۔غلام مصطفی کیمطابق بعدازاں بیوی کی تشویشناک کی حالت کے پیش نظر اس نے بیوی کو پرائیویٹ ہسپتال داخل کرادیا ۔غلام مصطفی کے مطابق اس نے بعدازاں ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی مگر ابھی تک کوئی شنوائی نہ ہوسکی ،غلام مصطفی کیمطابق اسکی گونگی بہری بیوی زندگی وموت کی کشمکش میں مبتلا ہے ،نوزائیدہ بچہ مرگیا مگر کسی کیخلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔غلام مصطفی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف ،وزیر صحت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے معاملے کانوٹس لینے اور ملوث افراد کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیڈی ڈاکٹر/ بچہ جاں بحق