پانامہ کا شور نواز شریف پر آ کر تھم گیا، سب کا احتساب ہونا چاہیے: اسفند یار

11 فروری 2018

پشاور(بیورورپورٹ+نوائے وقت رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک بھارت افغانستان کے ساتھ تعلقات غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے خراب ہیں ،اور خطے میں امن کیلئے ملک کی خارجہ وداخلہ پالیسیاں نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ملگری وکیلان کے صوبائی کنونشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسفند یار نے ملگری وکیلان کی ضلعی و صوبائی کابینہ کے ارکان سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ خطاب میں انہوں نے کہا کہ پانامہ پر ہونے والا شور صرف نواز شریف پر آ کر تھم گیا ہے حالانکہ پانامہ پیپرز میں اور بھی کئی نام تھے ، انہوں نے کہا کہ احتساب سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں اور سب کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر مجھ پر ایک پیسہ کی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہر قسم کی سزا کیلئے تیار ہوں ، اسفندیار ولی خان نے نقیب اللہ محسود کی شہادت کو پختونوں کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ راؤ انوار نے صرف نقیب اللہ کو نہیں سہراب گوٹھ میں سینکڑوں بے گناہوں کو شہید کیا۔ ملک کی مجموعی صورتحال ٹھیک نہیں حکومت نان سٹیک ایکٹرز کے سامنے بے بس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور جب تک اٹوٹ انگ اور شہ رگ کی ضد ختم نہیں ہو گی یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کچھ لو کچھ دو کے تحت حل کئے جا سکتے ہیں۔ باچا خان نے چالیس برس قبل افغان جہاد کو فساد کانام دیا تھا اس وقت ان پر طرح طرح کے فتوے لگائے گئے، تاہم آج رد الفساد کے بعد ان کی باتوں کی تقلید کی جا رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ پختونوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مشال قتل کیس فیصلہ کے بعد مجمع جمع ہوا۔ زندہ باد، مردہ باد کے نعرے لگے کیا اب ہم مجمع کو یہ اختیار دیں گے کہ وہ خود وکیل اور جج نہیں جہاں پر قانون مجمع کے ہاتھ میں ہو وہاں پر فساد پیدا ہو جاتا ہے۔ 

اسفند یار