اشرافیہ نے شفارش‘ سیاسی رشوت پر کھربوں کے قرضے معاف کرائے: شہباز شریف

11 فروری 2018

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ ’’وزیراعلیٰ خود روزگار سکیم‘‘ حکومت پنجاب کا ایک ایسا انقلابی پروگرام ہے جو ملک سے غربت، بے روزگاری اور امیر و غریب کے درمیان خلیج کم کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت گزشتہ 6 سال میں 40 ارب روپے کے بلاسود قرضے 18 لاکھ 50 ہزار خاندانوں میں تقسیم کئے جاچکے ہیں جن سے سوا کروڑ افراد مستفید ہوئے ہیں۔ ان قرضوں کی واپسی بھی 99.9 فیصد ہے۔ صوبے بھر میں 25 ہزار گھرانوں کو 60 کروڑ روپے سے زائد کے بلاسود قرضے دیئے گئے ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں زندگیاں ایک نئے دور کا آغاز کریں گی۔ پنجاب کے 18 لاکھ 50 ہزارخاندان حکومت کے اس عظیم پروگرام سے بلاسود قرضے حاصل کرکے معاشرے میں باوقار روزگار سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ ایک طرف یہ عظیم پاکستانی ہیں جنہوں نے قرضے حاصل کرکے واپس بھی کئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف وہ بڑے بڑے تمن دار ہیں جنہوں نے مرسڈیز گاڑیاں، فیکٹریاں، عالیشان محلات اور عہدے رکھنے کے باوجود سفارش اور رشوت کے ذریعے سیاسی بنیادوں پر اربوں کھربوں روپے کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ میں سلام پیش کرتا ہوں ان عظیم پاکستانیوں کو جنہوں نے اس سکیم کے تحت بلاسود قرضے حاصل کئے اور امانت اور دیانت کے ساتھ استعمال کرکے واپس کئے ہیں۔ شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار بادشاہی مسجد میں ’’وزیراعلیٰ خودروزگار سکیم‘‘ کے تحت بلاسود قرضوں کی تقسیم کے حوالے سے تقریب سے خطاب میں کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج اس تقریب میں ملک کی عظیم مائیں، بیٹے، جوان اور بزرگ موجود ہیں اور میں ان سب کو اپنی طرف سے اور حکومت پنجاب کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محنت، انکساری اور جفاکشی کے ساتھ باوقار روزگار کے ذریعے زندگی گزرانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی گواہی بادشاہی مسجد کے یہ عظیم مینار بھی دے رہے ہیں۔ اس انقلاب آفرین پروگرام کا خیال مجھے اپنی جلاوطنی کے دوران 2004-5ء میں اس وقت آیا جب میری ملاقات لندن میں ڈاکٹر امجد ثاقب سے ہوئی اور میں ایک موذی مرض کا امریکہ سے علاج کرا کر لندن آیا تھا۔ اس وقت ملک میں ڈکٹیٹر مشرف کی حکومت تھی اور میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ (ن) کو موقع دیا تو ہم بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے ایک ایسے اچھوتے اور منفرد انقلابی پروگرام کا آغاز کریں گے جس سے کروڑوں لوگ اپنے پائوں پر کھڑے ہوں گے۔ اس پروگرام سے ساڑھے 18 لاکھ خاندان باوقار طریقے سے روزی کما رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 40 ارب روپے کے قرضے دیئے جا چکے ہیں اور جن کی واپسی بھی تقریباً سو فیصد ہے۔ سرکاری ملازمتوں سے بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے کے لئے معاشی پہیے کو تیز کرنا ہوگا، زراعت اور صنعت کو فروغ دینا ہوگا اور چھوٹے قرضوں کے پروگراموں کو آگے بڑھانا ہوگا۔ کراچی سے لے کر پشاور تک بڑے بڑے لوگوں نے سیاسی بنیادوں پر اربوں ، کھربوں روپے کے قرضے معاف کرائے اور یہ اشرافیہ کہلاتے ہیں۔ قائد اور اقبال کی یہ سوچ نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں غریب قوم کی محنت کی کمائی پر ہاتھ صاف کئے جائیں۔ پنجاب حکومت نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لئے بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ خدمت کا موقع دیا تو بلاسود قرضوں کا پروگرام پاکستان کی تمام اکائیوں میں شروع کریں گے تاکہ کروڑوں پاکستانی باوقار روزگار کما کر اپنے پائوں پر کھڑے ہوں اور گداگری و بھکاری پن کو دفن کردیں۔ ہم نے آزاد کشمیر کو اس سال اپنے فنڈز سے ڈیڑھ ارب روپے کی گرانٹ دی ہے۔ عالیشان کوٹھیاں اور فیکٹریاں رکھنے والے تمن داروں نے سیاسی بنیادوں پر قرضے معاف کراکے پاکستان کو کنگال کیا۔ یہ کوئی رام کہانی نہیں بلکہ سب کچھ عوام کی آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔ ملک سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے استحکام ضروری ہے۔ پاکستان افراتفری اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انتشار اور افراتفری ملک کے لئے زہر قاتل ہے، اگر اسے آگے بڑھایا گیا تو خدانخواستہ ہر چیز ملیامیٹ ہو جائے گی اور پاکستان اس کا کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں باشعور عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک میں الزامات، جھوٹ، لغو بیانات کے کلچر کو جاری رکھنا ہے یا اسے دفن کرنا ہے۔عوام الزامات کی منفی سیاست کرنے والوں کا فیصلہ 2018ء کے الیکشن میں کریں گے - ان عناصر نے ایسی زبان استعمال کی ہے جو ہم زبان پر نہیں لا سکتے - ایسے لغو کلچر کو فروغ دینا قائد اور اقبال کے افکار کے منافی ہے - قائد و اقبال کے افکار پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو ترقی اور معیشت کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک پربرسوں سے چھائے بجلی کے اندھیرے ختم کئے ہیں۔ 2013 میں ملک میں ہر طرف اندھیرے تھے۔ ہر طرف بے روزگاری اور مایوسی کے سائے منڈلا رہے تھے۔ لوڈ شیڈنگ واپس نہیں آئے گی- ملک میں بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے کرنے والوں نے کے پی کے میں ایک کلوواٹ بجلی بھی پیدا نہیں کی حالانکہ وہاں پانی سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح سندھ میں نوری آباد میں صرف 50 میگاواٹ کا منصوبہ لگایا گیا ہے جو پنجاب میں لگنے والے بجلی کے منصوبوں کے مقابلے میں دوگنی لاگت پر لگا ہے۔ ہم نے ملک و قوم کیلئے اپنا خون پسینہ دیا ہے اور دیانت اور امانت کے ساتھ شفافیت کو فروغ دیا ہے ۔ میری زندگی کھلی کتاب ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کو مستحکم ہونا چاہیے ، تحمل اور صبر کے راستے پر چلنا ہے ۔ آئیے مل کر پاکستان عظیم بنائیں اور اس راستے پر چلیں جس کا درس ہمیں قائد اور اقبال نے دیا ہے - انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ وسائل موجود ہیںلیکن امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ ہمیں مل کر اس فرسودہ نظام کو دفن کرنا ہے اور پاکستان کو عظیم مملکت بنانا ہے۔ آئیں سب ملکر پنجاب، سندھ، خیبر پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ترقی دیں۔ یہ سب اکائیاں ترقی کریں گی تبھی پاکستان آگے بڑھے گا۔ محنت، امانت اور دیانت کو شعار بنا کر پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام دلایا جاسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اشرافیہ ملک کے وسائل لوٹ کر غریب عوام پر ظلم کر رہی ہے ہم نے اس نظام کو 2018 ء میں دفن کرنا ہے۔ وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں آئندہ الیکشن میں عوام کی خدمت کا موقع دیا تو بلا سود قرضوں کیلئے آئندہ مالی سال میں چار ارب روپے کا اضافہ کیا جائیگااور بلا سود قرضے کی زیادہ سے زیادہ حد کو 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کر دیا جائیگا۔ شہباز شریف کی ہدایت پر فیصل آباد میں ڈور گلے پر پھرنے کے باعث 9 سالہ بچے اور نوجوان کے جاں بحق ہونے کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبر کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ چیئرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم انکوائری کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (انوسٹی گیشن) انکوائری کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ 

شہباز شریف