اشتعال انگیز تقاریر کیس،فاروق ستار و دیگر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

11 فروری 2018

کراچی (وقائع نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اشتعال انگیز تقاریر کے 6 مقدمات کا چالان پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسران کو جیل بھیجنے کا حکم افسران کی جانب سے معافی نامہ جمع کرانے پر واپس لے لیا۔عدالت نے تفتیشی افسران کو آئندہ سماعت پر ہرصورت میں حتمی چالان جمع کرانے ہدایت کردی۔ہفتہ کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کے روبرو اشتعال انگیز تقریر کے 27مقدمات کی سماعت ہوئی۔ 6 سے زائد مقدمات میں چالان پیش نہ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ عدالت کے حکم پر تفتیشی افسران کی بیلٹ اور بیجز اتروا دئیے گئے۔ عدالت نے 5 تفتیشی افسران کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ مقدمات اسٹیل ٹاون ملیر کینٹ، بن قاسم ، سکھن اور سچل تھانے میں درج ہیں۔ تفتیشی افسران میں انسپکٹر حمید گبول، انسپکٹر واسع جوکھیو، ممتاز حسین چانڈیو، نصیر الدین مروت اور مسلم تنیو شامل ہیں۔ تفتیشی افسران نے اپیل کی ہمیں آخری موقع دیا جائے آئندہ سماعت پر حتمی چالان پیش کریں گے۔ عدالت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریماکس دیئے گزشتہ کئی ماہ سے موقع دیا جارہا اب کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ عدالت نے لاک اپ افسر کو حکم دیا انھیں فورا جیل بھیجا جائے۔ عدالت میں موجود 5 تفتیشی افسران کی جانب سے معافی نامہ جمع کرایا گیا جس پر عدالت نے معافی نامہ منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے فاروق ستار عامر خان ویگر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 10 مارچ تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن رئوف صدیقی نے کہا کہ جو ہو رہا ہے اج یہ بھی اچھا سائن ہے۔ الیکشن کے کاغذات جمع ہو رہے ہین ناچ گانا ہو رہا ہے یہ اچھا نہیں ہے۔ پہلے بھی کہا ہے ایم کیو ایم ناٹ فار سیل ہے۔ ایم کیو ایم کو پہلے بھی خریدا نہیں جا سکا تھا اور نہ آج خریدا جا سکے گا۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ میں ثالثی کمیٹی کا رکن ہوں۔ ہم جوڑنے اور ملانا کا کردار ادا کررہے ہیں۔ جیل میں اسیر ساتھی بھی کرب کا شکار ہے۔ میں کارکن کے طور پر اپنے آپ کو تصور کرتا ہوں۔ 

اشتعال انگیز تقاریر کیس