مریم کی نگرانی میں کام کر سکتا ہوں نہ اتنا سیاسی یتیم جونیئر کو سر‘ میڈم کہوں: نثار

11 فروری 2018

ٹیکسلا (قاری ولی الرحمن، نمائندہ نوائے وقت) عدلیہ سمیت اداروں سے محاذآرائی نہ کرنے کی تجویز اور رائے نہ صرف میری ہے بلکہ وزیراعلیٰ شہبازشریف اوروزیراعظم شاہدخاقان عباسی کا موقف بھی یہی ہے،کہ اداروںسے محاذآرائی اور ٹکرائو کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔ میں نوازشریف اور شہباز شریف جوکہ سینئرز ہیں،کے نیچے رہ کر توکام کرسکتا ہوں مگر مریم نواز جو جونیئر ہیں، انکی زیرنگرانی رہ کرکام نہیںکرسکتا، میں منافق ہوں اور نہ اتنا سیاسی یتیم کہ اپنے سے جونیئرکو’’سر اور میڈم‘‘ کہہ کرمخاطب کرتا رہوں، سینیٹر پرویزرشیدکی طرف سے ان کو وزارت سے نکالنے سے متعلق بیان میں جو میرے متعلق ہرزہ سرائی کی گئی، اسکی وضاحت کیلئے میں نے نوازشریف کوخط تحریرکردیا ہے جس کے جواب کا منتظر ہوں، خط میں، میںنے یہ کہاکہ اس نوعیت کے معاملات پبلک فورم پر نہیں پارٹی کے اندرونی فورم پر زیربحث لائے جانے چاہئیں۔ مجھے سنٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس کے انعقادکا انتظارہے، دوران اجلاس میںاپنے موقف کی روشنی میں بات کرونگا اور اگر سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کا اجلاس نہیںبلایا جاتا اورمیرے تحریرکردہ خط کاجواب نہیںدیاجاتا، تو پرویزرشیدکی ہرزہ سرائی کا جواب پبلک فورم پردونگا۔ 2018ء کے انتخابات کے نتائج آنے کے بعدہی فیصلہ کیا جاسکے گاکہ آئندہ پارٹی کیطرف سے وزارت عظمیٰ کاامیدوارکون ہوگا۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے سے قبل جومیرے خدشات اور تحفظات تھے، ان کا میں قیادت کے سامنے برملااظہارکرتارہا،کیونکہ بالاخر ہمیںانصاف عدالتوںسے ہی ملناہے، مگرگزشتہ سات، آٹھ ماہ سے ایسی صورتحال پیداکی گئی،کہ میں نے دلبرداشتہ ہوکر اپنے لئے سائیڈلائن پررہ کرکام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان خیالات کااظہارسابق وفاقی وزیرچوہدری نثار نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ چوہدری نثار نے شیخ رشیدکی طرف سے وزیراعظم شاہدخاقان کے خلاف دائرکی گئی رٹ پٹیشن سماعت کیلئے منظور ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میںکہاکہ الزام، الزام ہی ہوتا ہے۔ ایک اورسوال کے جواب میںانہوںنے کہاکہ میں نے پارٹی سطح پر متحرک کردارادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم فارورڈ بلاک بنانے اورپارٹی سے الگ ہوکرکوئی گروپ تشکیل دینے کاکوئی ارادہ نہیں،بلکہ اس بارے میں تصور بھی نہیںکیا جاسکتا۔ سیاستدان وہ ہوتا ہے کہ جوالیکشن میںحصہ لیتاہے، جوکونسلرکے عہدے کابھی الیکشن نہ لڑاہو، اسے میں سیاست دان تسلیم کرنے کیلئے تیارنہیں، وہ خوشامدی ہوتا ہے۔ ابھی ٹکٹوںکی تقسیم کا مرحلہ نہیںآیا، اور نہ ہی مریم نوازکوکوئی اختیار دیاگیا ہے۔ ٹکٹوںکی تقسیم کے بارے میں پارٹی کے پارلیمانی بورڈزکے فیصلوںکوتسلیم کیا جاتاہے۔ میڈیا مسائل و معاملات کی نشاندہی ضرورکرے مگرججزبننے کے عمل سے اجتناب کیاجائے۔ میڈیا والے اپنے کام سے ہٹ کر سیاست کواپنا لیںگے تو پھر یہ سیاستدانوں اور میڈیا دونوںکیلئے نقصان دہ ہوگا۔ چوہدری نثار علی نے نوازشریف اورپارٹی کے حوالے سے متعدد سوالات کاکھل کرجواب دینے سے احترازکیا۔ انہوںنے کہاکہ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے جوعدالتی بنچ نے مجھے سنے بغیر ایک رپورٹ دی تواس پرمیںنے اپناموقف ضروردیا۔ یہ بات غلط ہے کہ مجھے پارٹی قیادت نے کوئٹہ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے سے منع کیا تھا۔ پرویز رشید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخصیت 90ء کی دہائی میں پارٹی میں آئی ہے اور اب کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ انہیں پارٹی سے نکلوا دیں گے۔ نیوز لیکس کمیٹی نے پرویز رشید کو بحال کیوں نہیں کیا۔ طارق فاطمی کا رپورٹ میں نام نہیں تھا انہیں کس نے نکالا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ نیوز لیکس صرف مسلم لیگ (ن) کا مسئلہ نہیں، یہ ایک بہت سنجیدہ ایشو ہے۔ رائو تحسین کو میں نے نہیں نکالا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی خاندان میں اختلاف شدید ہو جائے تو جرگہ ہوتا ہے،یہاں 8 مہینے ہوگئے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔ میرا کردار نواز شریف کے ناقد کے طور پر رہا ہے، میں نے جو مشورے دیئے وہ کابینہ کی میٹنگ میں دیئے جبکہ پانامہ کیس کی ابتدا سے ہی میرے مشورے ریکارڈ پر ہیں۔ چوہدری نثار نے پارٹی کو چلانے کے حوالے سے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو کتنا نقصان ہوگا چند ماہ میں یہ بات سامنے آ جائے گی۔ مجھے اپنے متعلق پارٹی فیصلے کا انتظار ہے۔ پارٹی کے اندر اور باہر خود کو متحرک رکھوں گا۔ گالی گلوچ روزمرہ کا وطیرہ بن گیا ہے، ہم رول آف لاء کا کہتے ہیں یہ خود پر بھی اسے لاگو کرنا ہو گا۔ پہلے مجھے بتایا جائے کہ مسلم لیگ (ن) کا بیانیہ کیا ہے۔ صباح نیوز کے مطابق چوہدری نثار علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈان لیکس رپورٹ کو پبلک کیا جائے ورنہ میں خود جاری کردوں گا۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کا ہراول دستہ ہوتی ہیں۔کون وزیر اعظم ہو گااس بات کا فیصلہ الیکشن کے بعد ہو گا۔سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان ہے، فی الوقت مسلم لیگ(ن) کے معاملات سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ مریم نوز اور نواز شریف پر کبھی تنقید نہیں کی۔ ایم کیو ایم میں ہونے والی دھڑے بندیوں سے متعلق چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کسی جماعت میں اس طرح کی توڑ پھوڑ تشویش کا باعث ہوتی ہے، ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ معاملات خود حل کر لے گی۔

چوہدری نثار