فاروق ستار کے تمام مطالبات تسلیم‘ رابطہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو لکھا خط بھی واپس لے لیا

11 فروری 2018

کراچی( خصوصی رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کے سارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو لکھا خط بھی واپس لے لیا ہے جس میں کامران ٹیسوری کو رابطہ کمیٹی میں شامل کرنے کی منظوری بھی شامل ہے جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے ہفتے کی رات میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے جفاکش اور محنتی کارکنان جو ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں ایم کیو ایم پاکساتن ایک بحران سے گزر رہی ہے کوشش کی جارہی ہے کہ تنظیم کو تنظیم ہونے سے روگکا جائے کسی بھی صورت چالیس سال کی محنت کو برباد نہ ہونے دیا جائے کامران ٹیسوری بھائی نے مجھ سے کہا کہ آپ جب چاہیں میرا نام ڈراپ کردیں دراصل مسئلہ کامران ٹیسوری بھائی کا نہیں ہے مسئلہ کچھ اسور ہے نہیں پتا کہ اس بار ہم میں سے غلطی کس نے کی اور کیسے کرلی گھر کا مسئلہ گھر کے باہر کیسے آگیا یہ ہماری ضد اور انا کامسئلہ نہیں ہے۔ ہم ایک ہی خاندان کے افراد ہیں یہ مثالی تنظیم ہے جس میں نظم و ضبط ہے ہمیں اپنے اشکوںک ی لاج رکھنی ہے باہم شیر و شکر ہوں گے ہاتھ ملائیں تو دل سے ملائیں لفظ مہاجر پر مظلوم کی شناخت ہے۔ کنور نوید بھائی، خالد مقبول بھئی آئے تھے بات یہ تھی کہ رابطہ کمیٹی کا اجلاس ایسا ہو کہ اس کی صدارت سربراہ کرے۔ مجھے کامران ٹیسوری بھائی نے اختیار دیا ہے کہ الیکشن لڑائیں یا نہ لڑائیں بلینک پیپر دیا ہوا ہے۔ بلینک چیک نہیں بلکہ بلینک پیپر کہنا بہتر ہوگا۔ خوشی ہے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو لکھا جانے والا خط واپس لے لیا ہے بہرحال عوام میں ہمارا تاثر اچھا نہیں جارہا ہے۔ دلوں میں دوری اور کدورت نہیں رہنی چاہئے۔ قبل ازیں بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے ان پروپگنڈوںکہ (عامرخان ایم کیوایم پرقبضہ کرناچاہتاہے)کی سختی سے نفی کرتے ہوئے کہاہے کہ میں ساری زندگی کنوینرنہیںبنونگابلکہ کارکن بن کرکام کرتارہونگا۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ پانچ روزسے ایک تاثردینے کی کوشش کی جارہی ہے ،فاروق بھائی کی جانب ان کے لوگوں کی جانب سے اورکبھی میڈیاکی جانب سے تاثردیاجارہاہے کہ یہ لڑائی عامرخان اورفاروق ستارکے درمیان ہے۔انہوںنے کہاکہ جس دن اس پارٹی میں شمولیت کی تھی آج تک یہ تمنانہیںکی کہ مجھے پارٹی میںکوئی عہدہ دیاجائے ،میری عزت ووقارکارکن میںہے ،میرااحترام عہدے سے نہیںکارکن ہونے سے ملتاہے۔انہوںنے کہاکہ میرے خلاف جوبھی باتیںاورپروپگنڈہ کی جارہی ہے مجھے اس کی قطعی کوئی پروانہیںاورنہ ہی میںکسی کواس کاجواب دونگا۔انہوںنے کہاکہ مجھے کارکن ہونے پرفخرہے میںیہاںبولناچاہونگا کہ 22 مئی 2011ء کومیںنے دوبارہ پارٹی میںشمولیت اختیارکی تھی اس وقت میرے سامنے ایک شرط رکھی گئی کہ میںشہیدوںکی فیملیوںسے معافی مانگوںمیںنے ان سے معافی منانگی ۔ انہوںنے کہاکہ 22مئی 2011ء کومیری ایم کیوایم میںدوبارہ شمولیت کے صرف دوماہ بعدمیرے 28سالہ جوان بیٹے کوقتل کیاگیالیکن میںنے اف تک نہیںکی آج تک اس لڑائی میںمہاجرجوانوں مررہے ہیں۔اس سے قبل ایم کیوایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینرکنورنویدجمیل نے میڈیاکے نمائندوںکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آج اس صورتحال کوچلتے ہوئے ایک ہفتہ ہوگیاہے ہم نے بارہاکوششیںکیںکل بھی اس بارے میںبریف کیاتھاآج ایک کوشش کرنے جارہے ہیںانہوںنے بتایاکہ کل جوساتھی فاروق ستاربھائی سے ملنے کے لئے گئے تھے ان سے فاروق ستاربھائی نے کہاکہ میںبہادرآبادآئونگالیکن پہلے آپ یہ لیٹرواپس لیںجوالیکشن کمیشن کولکھاکیاتھا۔ انہوںنے مزیدبتایاکہ کچھ بزرگ ہمارے پاس آئے تھے جن کی ہم عزت واحترام کرتے ہیںوہ پی آئی بی سے فاروق بھائی سے ملاقات کرکے ہمارے پاس ڈاکٹرمحمدفاروق ستاربھائی کاپیغام لیکرآئے تھے کہ مہاجرقوم،تنظیم کے اتحادکے لئے اور پورے پاکستان خصوصاًکراچی کی تعمیروترقی کے لئے ہم فاروق ستار بھائی کی بات مان لیں۔کنورنویدجمیل نے واشگاف الفاظ میںکہاکہ ہم اس لیٹرکوواپس لینے کااعلان کرتے ہیں۔ انہوںنے مزیدکہاکہ رابطہ کمیٹی کاطویل اجلاس تھاجس میںرابطہ کمیٹی نے باہمی مشاورت سے اس بات کی اپروول دی اورمنظورکیا۔انہوںنے بتایاکہ میرے ساتھ اس وقت رابطہ کمیٹی کے تمام اراکین موجودہیںاورانہوںنے اجلاس میںفیصلہ کیاہے کہ کارکنان ،شہداء کے اہل خانہ کی خواہش کے مطابق اس لیٹرکوواپس لے لیاجائے۔انہوںنے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کوتقسیم سے بچانے کے لئے اورکسی بھی نقصان سے روکنے کے لئے ہم کسی بھی حدتک جائیںگے۔بعدازاںڈپٹی کنوینرڈاکٹرخالدمقبول صدیقی نے کہاکہ بہادرآبادمیںجوآفس ہے یہ ایم کیوایم اورمہاجرقوم کی امیدوںکامرکزہے۔ڈاکٹرمحمد فاروق ستاربھائی یہاں آکر پارٹی چلائیںیہ پارٹی جن اصولوںپرکھڑی ہے اس پرکبھی سمجھوتہ نہیںکیاجائیگا ،پارٹی کوکامیابی کی جانب لیکرجائیںکامیابی یہ نہیں کہ ایک ہفتے پہلے والی پارٹی بن جائے بلکہ کامیابی یہ ہے کہ پارٹی کواس اصولوںپرچلایاجائے۔

خط واپس/ فاروق ستار