پیپلز پارٹی نے پہلی سہ فریقی لیبر پالیسی کا اعلان کر دیا

11 فروری 2018

کراچی(اسٹاف رپو رٹر) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر او ر سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو اور صوبائی وزیر محنت‘ ٹرانسپورٹ اور اطلاعات سید ناصر حسین شاہ ، جنرل سیکریٹری وقار مہدی، محنت کشوں و مالکان کے نمائندوں کے ساتھ پہلی سہ فریقی لیبر پالیسی 2018 کا نیو سندھ سیکریٹریٹ میں باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد پارٹی ہے، جس نے ہمیشہ محنت کشوں کے حقوق کی پاسداری کے لئے آواز بلند کی اور ٹھوس شکل میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی دفعہ 10 فروری 1972 ءکو اعلان کیا لیکن 1977ءمیں انکی شہادت کے باعث مذکورہ لیبر پالیسی جاری نہ رہ سکی ، جس کو بلاول بھٹو زرداری کی زیرقیادت اسی تاریخی دن 10 فروری 2018ءکو اعلان کرکہ ایک مرتبہ پھر عوامی پارٹی اور ہر طبقے کی پارٹی کے طور پر ثابت کردیا ہے۔پہلی لیبر پالیسی 2018 کو بیان کرتے ہوئے نثار احمد کہوڑو نے کہا کہ عوام خوش ہوگی تو ملک خوشحال ہوگا اور ترقی کریگا۔ لیبر فرینڈلی قانون ہوںگے توصنعتی شعبہ بھی ترقی کرے گا اور ملک مضبوط ہوگا۔سندھ نے سب سے زیادہ قانون سازی کر کے چودہ قوانین لیبر کے پاس کرائے اس لئے محکمہ اور ان کی ٹیم مستحق ہے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ صنعت کاروں اور محنت کشوں کے مشترکہ تعاون سے ایک مضبوط اور مربوط و جامع پالیسی کا اجراءممکن ہوا۔جس میں نہ صرف صنعتی بلکہ زرعی ہوم بیسڈ اور دیگر شعبوں کے محنت کشوں خواتین و مرد کے حقوق کو بغیر کسی تعصب کے تحفظ فراہم کیا گیا۔نثار احمد کہوڑو نے مزید کہا کہ اب اس پالیسی کو مقررہ آٹھہ ہفتوں کے دوراں ترامیم کے ساتھ تیار کرنے اور اسمبلی سے پاس بھی کروانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعاون درکار ہے۔اور سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی ہر وقت تیار ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور سید ناصر شاھ اور محکمہ وانکی پوری ٹیم کے کاوشوں کے نتیجے میںآج ہم سرخرو ہیں کہ اس پالیسی کا اعلان ممکن ہوا۔پاکستان پیپلز پارٹی کا آج مینیفیسٹو عمل میں آیا ہے۔جب پالیسی چلے گی تو حکومت بھی چلے گی اور عوام و دیگر طبقوں کے مسائل و معاملات بھی حل ہونگے۔اسٹیل مل پاکستان کا نشان تھا اور پی آئی اے علامت تھی پاکستان کی لیکن سازشوں اور مخالفت کے باعث ہے ادارے کیا اور کہاں پہنچ گئے پی آئی اے میں لوگ سفر کرکے فخر محسوس کرت تھے اور کہا جاتا تھا کہ گریٹ پیوپل فلائی وتھ پی آئی اے۔جن افراد نے ان اداروں کو بنایا اور جنہوں نے اس کو تباہ کیا وہ سب کے سامنے ہیں۔قبل اذیں صوبائی وزیر محنت و اطلاعات سید ناصر حسین شاھ نے 45 نکات پر پہلی تاریخ ساز سہ فریقی لیبر پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس پالیسی کا اعلان کرکے عوامی پارٹی کی عملی شکل ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہ اکی جامع مربوط اور مضبوط لیبر پالیسی جس میں محنت کشوں اور تمام۔طبقات کے حقوق کا تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اور تمام اسٹیک ہولڈر کے مشترکہ تعاون اور رضامندی سے یہ ایک قابل ضمانت پالیسی کے طور پر عملدرآمد کرائیگی اور اب اسمبلی سے مقررہ وقت کے اندر قانون سازی کا عمل بھی مکمل کرینگے۔آج کا دن تاریخی ہے کہ 10 فروری 2018 کو نیا باب اور نئی تاریخ رقم۔ہوررہی ہے۔اعلان تقریب سے ائی ایل۔او کی کنٹری ڈاریکٹر ان۔گریڈ کرسٹین نے لیبر پالیسی کے اجرا کو کو کامیابی قرار اور سندھ میں اجرا دوسرے صوبوں کے لیے قابل تقلید، معیشت کی ترقی۔کیلیےحکومتی اقدامات کی تعریف اور عملدرآمد اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دھانی ، محنت کشوں ، مالکان کے نمائندوں کرامت علی ، حبیب الدین جنیدی ، مجید عزیز ، سراج قاسم تیلی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے پہلی لیبر پالیسی کو سراھتے ہوئے حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مثبت تبدیلیوں اور معاشی ترقی کے حوالے سے خوش آئند قرار دیا اور امید ظاھر کی کہ اب صنعتی ترقی کا دور دوراں ہوگا اور اور مالکان و محنت کشوں کے درمیان ایک توازن اور پائیدار رشتہ قائم۔ہوگا جو کی ملکی معیشت میں تیزی اور ترقی کی طرف ایک نیا راستہ متعین ہوگا۔تقریب میں سعید غنی،راشد ربانی، سیکریٹری محنت عبدالرشید سولنگی، کمشنر سوشل سیکورٹی نسیمالغنی سھتو، ڈاریکٹر محنت خادم۔بھٹو، ایڈیشنل سیکریٹری بخش علی مھر، لعل بخش کلہوڑو، لیاقت مگسی، ڈاکٹر قیصر بنگالی،زھرہ خان، فرحت پروین اور دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔

لیبر پا لیسی