ملک میں سالانہ 20 ارب روپے کی گیس ضائع

11 فروری 2018

کراچی(کامرس رپورٹر) پاکستان میں گیس کی کھپت 2727 ایم ایم سی ایف ڈی سے بڑھ کر 2915 ایم ایم سی ایف ہومیہ تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں کے لیے آزادانہ گیس درآمد کرنے کی سہولت سے پاور اور فرٹیلائزرز سیکٹرز فائدہ اٹھا رہے ہیں، سال2016-17کے دوران آزاد سسٹم کے ذریعے 1065 ایم ایم سی ایف گیس استعمال کی گئی، سوئی سدرن اور ناردرن گیس کمپنیاں گیس چوری اور لیکیج پر قابو پانے میں بدستور ناکام ہیں۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سوئی سدرن کے سسٹم سے 204 ایم ایم سی ایف جبکہ سوئی ناردرن کے سسٹم سے 170 ایم ایم سی ایف گیس ضائع ہورہی ہے جس کی مالیت بالترتیب 13 ارب اور 7 ارب روپے بنتی ہے، اس طرح ملک میں سالانہ 20 ارب روپے کی گیس ضائع ہو رہی ہے۔گزشتہ سال گیس کی کھپت میں 7 فیصد اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ گیس توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے، مجموعی کھپت میں پاور سیکٹر کا حصہ 32 فیصد تک پہنچ چکا ہے، کھاد بنانے والی فیکٹریوں اورگھریلو صارفین کا حصہ 21/21 فیصد ہے، ٹرانسپورٹ کے لیے 5 فیصد، کیپٹو پاور کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والی صنعتیں 11 فیصد، عام صنعتیں 9 فیصد گیس استعمال کررہی ہیں جبکہ گیس کا کمرشل استعمال 2 فیصد ہے۔