ایوانِ قائداعظمؒ…نظریاتی و تعلیمی سرگرمیوں کا گہوارہ

11 فروری 2018
ایوانِ قائداعظمؒ…نظریاتی و تعلیمی سرگرمیوں کا گہوارہ

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کا تصور اتنا شاندار ہے کہ وہ ایامِ تحریک پاکستان کی مانند آج بھی ہمارے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم پر ان کے احسانات اس قدر بے پایاں ہیں کہ وہ تاقیامت بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتی رہے تو ان کا بدلہ نہیں اتار سکتی۔ ایوانِ قائداعظمؒ کارکنانِ تحریک پاکستان کی جانب سے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی ہی ایک کوشش ہے۔ یہ ایوان جزوی طور پر فنکشنل ہوچکا ہے اور ٹھیک ایک برس قبل یہاں پاکستان آگہی پروگرام کے تحت نظریاتی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ایک بے لوث سپاہی آبروئے صحافت محترم مجید نظامی نے 16اپریل 2013ء کو نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے یومِ تاسیس پر اس ایوان میں منعقدہ اوّلین اجلاس میں کہا تھا کہ ’’یہ ایوان یونیورسٹیوں کے جھرمٹ میں واقع ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہاں طلبا و 

طالبات کو وہ تعلیم فراہم کی جائے جو انہیں یونیورسٹیوں میں میسر نہیں ہے۔‘‘ ان کے اس وژن کا ایک پس منظر تھا۔ دراصل صدر جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں طلبہ کی نگاہوں میں مطالعۂ پاکستان کے مضمون کی قدر و قیمت کم کرنے کی غرض سے اس کے مجموعی نمبر گھٹا دیے گئے تھے۔ تعلیمی نصاب میں دو قومی نظریے اور تحریک پاکستان سے متعلقہ مواد کو مختصر کردیا گیا تھا اور اُس میں ایسی تبدیلیاں متعارف کرا دی گئی تھیں کہ طلبہ اعلیٰ اسلامی اقدار و روایات سے تو بے بہرہ رہ جائیں لیکن اغیار کی تاریخ اور مادر پدر آزاد ہندووانہ ثقافت سے روشناس ہوجائیں۔ غرضیکہ روشن خیال اعتدال پسندی کے لبادے میں اس مملکت خداداد کی اسلامی نظریاتی اساس پر ایسے ایسے کاری وار کئے گئے کہ کارکنانِ تحریک پاکستان شدید اذیت میں مبتلا ہوگئے۔ یہ تھا وہ پس منظر جس کی وجہ سے محترم مجید نظامی نے نسل نو کے دل و دماغ میں وطن عزیز کی نظریاتی اساس‘ اس کی مجموعی شخصیت و عظمت اور اس کے ماضی‘ حال اور مستقبل کے بارے میں ایک قابل فخر اور حوصلہ افزاء تصور اجاگر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یوں بھی قوم سازی کے لئے تعلیم سے بہتر کوئی شعبہ نہیں ہے۔ چنانچہ 25دسمبر 2008ء کو ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘لاہور میں پاکستان آگہی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام کی جزئیات نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین اور پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے طے کیں۔ اس پروگرام سے اب تک 30لاکھ سے زائد طلبا و طالبات مستفید ہوچکے ہیں۔ 13فروری2017ء کو ایوانِ قائداعظمؒ میں بھی یہ پروگرام شروع کردیا گیا اور گزشتہ ایک سال کے دوران 270تعلیمی اداروں کے 17,550 طلبا و طالبات اس میں شرکت کرچکے ہیں۔ اس پروگرام کے طفیل نظریۂ پاکستان کی روشنی میں طلبہ کی کردار سازی میں بڑی مدد مل رہی ہے۔ اس کے ذریعے محض دو اڑھائی گھنٹے میں طلبہ کو قیامِ پاکستان کے لئے اسلامیانِ ہند کی بے مثال جدوجہد‘ تحریک پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد‘ بانیان پاکستان کے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی وژن اور آزادی کی بدولت حاصل ہونے والے بیش بہا فوائد سے روشناس کرا دیا جاتا ہے۔ بالخصوص 14اگست 1947ء کو بے سروسامانی کے عالم میں شاہراہِ آزادی پر سفر کے آغاز سے اب تک ہونے والی قابل رشک ترقی سے تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا جاتا ہے۔
پروگرام کے دوران طلبہ کو ملٹی میڈیا کے ذریعے تحریک پاکستان‘ قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی حیات و خدمات پر مبنی دستاویزی فلمیں بھی دکھائی جاتی ہیں اور اُن میں ٹرسٹ کی شائع کردہ مطبوعات بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ المختصر !اس پروگرام کی بدولت طلبا و طالبات میں وہ عقابی روح بیدار ہوجاتی ہے جو تحریک پاکستان کا طرۂ امتیاز تھی۔
نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا یہ پروگرام درحقیقت اس قومی نظریاتی ادارے کی اس عظیم جدوجہد کا ایک جزو ہے جو وہ اس مملکت کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کے عین مطابق ایک جدید اسلامی‘ فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کی خاطر کررہاہے۔ محترم مجید نظامی کے وصال کے بعد یہ جدوجہد تحریک پاکستان ہی کے ایک مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم محمد رفیق تارڑ کی زیر قیادت آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ جدوجہد تحریک پاکستان کا دوسرا مرحلہ ہے۔ پہلا مرحلہ مسلمانانِ برصغیر کے لئے ایک الگ مملکت کا حصول تھا جبکہ دوسرا مرحلہ اس مملکت کو قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات و تصورات سے ہم آہنگ کرکے عالم اسلام کی قوت و شوکت کا مرکز بنانا ہے۔ بدقسمتی سے ایک تو اس نوزائیدہ مملکت کو اپنے قیام کے فوراً بعد گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور دوسرا اسے بانیٔ پاکستان کے انتقال پُر ملال کا صدمۂ جانکاہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ چنانچہ تحریک پاکستان کا دوسرا مرحلہ ابتداء ہی
میں بے پناہ مشکلات کا شکار ہوگیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس مرحلے پر عمل درآمد کی نوبت ہی نہ آسکی تو غلط نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایوانِ قائداعظمؒ اس مرحلے کا نکتۂ آغاز بن رہا ہے۔ گزشتہ روز وہاں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہواجس میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ یہ ایوان ابھی جزوی طور پر فنکشنل ہوا ہے تاہم ایک سال کے دوران یہاں ہونے والی تعلیمی و نظریاتی سرگرمیاں مثلاً خصوصی نشستیں و تقریبات‘ تقریباتِ یومِ قائداعظمؒ اور یومِ اقبالؒ کے سلسلے میں منعقدہ لیکچرز‘ اہم قومی ایام پر آتش بازی و چراغاں‘ طلبا و طالبات کے مابین انعامی مقابلۂ جات‘ مختلف شخصیات اور وفود کے خیرسگالی و مطالعاتی دورے‘ محافل قرآن خوانی اور خصوصی اجلاس اس امر کی گواہ ہیں کہ ہم اپنے رہبر محترم مجید نظامی کے وژن کے مطابق اِس ایوان کو افکار قائداعظمؒ کا عالمی مرکز بنانے کی طرف قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ اُنہوں نے مسلم لیگ کے رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی ذاتی دلچسپی کے طفیل ہی یہ ایوان پایۂ تکمیل کے قریب پہنچ سکا ہے۔اُنہوں نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ ایوانِ قائداعظمؒ کو حقیقی معنوں میں کارکنانِ تحریک پاکستان کے خوابوں کی تعبیر بنانے کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اوروہ دن دور نہیں جب یہ ایوان بابائے قوم کے افکار کی روشنی میں ایک نظریاتی تربیت گاہ بن کر اُبھرے گا۔اجلاس میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ جسٹس(ر)خلیل الرحمن‘میاں فاروق الطاف‘ بیگم مہناز رفیع‘عابد شیروانی‘صاحبزادہ میاں ولید احمد جواد شرقپوری‘مولانا محمد شفیع جوش‘قیوم نظامی‘سلمان عابد‘ ڈاکٹر آغا یعقوب ضیائ‘ حامد ولید‘ ناصر چوہدری‘ پروفیسر رضوان الحق ‘ نواب برکات محمود‘ رحیم خان اور فدا حسین نے شرکت کی اور ایوانِ قائداعظمؒ کے حوالے سے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ شرکاء نے محترم مجید نظامی مرحوم اور غلام حیدر وائیں شہید کو اِس ایوان کی تعمیر اور اراضی کے حصول کیلئے اُن کی کاوشوں پر خراج تحسین پیش کیا۔ اِس موقع پر یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) کے ڈائریکٹر جنرل عابد شیروانی نے ایوانِ قائداعظمؒ میں قائم مادرِ ملتؒ لائبریری کی کمپیوٹر لیب کیلئے چالیس عدد کمپیوٹرز فراہم کرنے جبکہ صاحبزادہ ولید احمد جواد شرقپوری نے اِسی لائبریری
کے اندرمجوزہ سیرت سٹڈی سنٹر کیلئے سیرت النبیؐ اور دیگر دینی موضوعات پر کتب کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ اجلاس کے اختتام پر صاحبزادہ ولید احمد جواد شرقپوری نے ایوانِ قائداعظمؒ کے اغراض و مقاصد میں کامیابی اور تحریک پاکستان کے شہداء اور کارکنان کے بلندیٔ درجات کیلئے دعا کرائی۔
٭٭٭٭٭