جائیدادیں اور تحقیقات

11 فروری 2018

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اپنے اجلاس میں دوبئی میں کھربوں روپے کی جائیداد خریدنے والوں کیخلاف تحقیقات نیب کے سپرد کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں بعض ارکان کا خیال تھا کہ ایف بی آر اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کر رہا۔ کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ایک صحافی کو جس نے حال ہی میں یہ رپورٹ اپنے اخبار میں فائل کی ہے کہ کم سے کم پانچ ہزار پاکستانیوں نے دوبئی میں کھربوں روپے کی جائیداد خریدی ہے سے پوچھا کہ ان کی خبر کا کیا سورس ہے۔ صحافی نے بتایا کہ 37 ہزار سے زیادہ افراد نے جائیدادیں خریدی ہیں جن میں پانچ ہزار پاکستانی ہیں۔ صحافی نے کہا کہ اس کے پاس پورا سافٹ وئیر ہے جو ان جائیدادوں کے بارے میں ہے۔

ایف بی آر کے نمائندہ نے کمیٹی کے اصرار پر اس حد تک اعتراف کیا کہ ایف بی آر کے پاس کم سے کم 55 ایسے پاکستانیوں کی فہرست ہے جنہوں نے دوبئی میں پراپرٹی خریدی ہے۔ اس فہرست کی تصدیق کرائی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ دوبئی میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی گزشتہ دو سال میں پاکستانیوں نے خریدی ہے۔ عمران خان بھی پاکستان سے باہر کھربوں روپے غیر قانونی طور پر منتقل کرنے اور جائیدادیں خریدنے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
پاکستان سے باہر غیر قانونی طور پر پیسہ بھیجنے اور جائیدادیں خریدنے کا معاملہ بہت پرانا ہے۔ پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو نے بچے کھچے پاکستان میں اقتدار سنبھالا تو مسٹر بھٹو نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان سے بڑے پیمانے پر سرمایہ باہر منتقل کیا گیا ہے۔ مسٹر بھٹو نے اپنے اس خطاب میں پاکستان سے پیسہ باہر بھیجنے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنا پیسہ واپس پاکستان لائیں کیوں کہ ملک کو اس سرمایہ کی ضرورت ہے۔ لیکن مسٹر بھٹو کی اس اپیل پر شاید ہی کوئی پاکستانی باہر سے پیسہ واپس وطن لایا ہو۔ اس کے بعد کئی حکومتیں اپیلیں کرتی رہی ہیں کہ بیرون ملک غیر قانونی طور پر بھیجا جانے والا پیسہ واپس پاکستان لایا جائے۔ اس مقصد کے لئے کئی ایمنسٹی سکیموں کا بھی اعلان کیا گیا لیکن کسی نے ان سکیموں کو اہمیت نہیں دی۔ 28 مئی 1998ء کے ایٹمی دھماکہ کے بعد جب ملک میں ڈالر کا بحران پیدا ہوا تو نواز شریف حکومت نے ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ سکیم کا اعلان کیا۔ اس سکیم کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں سے تین سو ملین ڈالر یا اس سے کچھ زیادہ کی رقم پاکستان بھیجی تھی لیکن اب تک اس رقم کا سراغ نہیں لگ سکا کہ وہ کہاں گئی۔
موجودہ حکومت جب 2013ء میں اقتدار میں آئی تو اسحاق ڈار اس حکومت کے وزیر خزانہ تھے۔ موصوف نے پارلیمنٹ میں کئی مرتبہ اعلان کیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی 200 ارب ڈالر سے زیادہ رقم موجود ہے۔ واپس لانے کیلئے کوشش ہو رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں پڑے اربوں ڈالر واپس لانے کے لئے قانونی اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ مسلم لیگ ن کی دوسری حکومت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کیخلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع کیں۔ اس وقت کے احتساب بیورو نے دعویٰ کیا تھا کہ آصف علی زرداری کے 60 ملین ڈالر کی رقم کا سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں سراغ لگا لیا گیا ہے۔ یہ رقم واپس پاکستان لائی جائے گی۔ لیکن زرداری صاحب کے 60 ملین ڈالر کی رقم بھی پاکستان واپس نہ آ سکی۔ گذشتہ ایک دہائی یا اس سے زیادہ کے عرصہ میں اربوں ڈالر غیر قانونی طور پر پاکستان سے باہر گئے ہیں۔ ان ڈالروں سے دوبئی کے علاوہ لندن‘ امریکہ‘ فرانس اور نہ جانے یورپ کے کن دوسرے شہروں میں جائیدادیں خریدی گئی ہیں جو اربوں ڈالر اس غریب ملک سے باہر گئے ہیں وہ یقیناً غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم ہے۔ یہ رقم سرکاری سودوں اور بڑے بڑے منصوبوں میں کمشن‘ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں سے حاصل کی گئی اربوں روپے کی رقم قومی پیسے کی لوٹ مار سے بنائی گئی ہے۔ یہ پیسہ اگر پاکستان میں انویسٹ ہوتا تو لوگوں کو فائدہ ہو سکتا تھا۔ کم سے کم بے روزگاری تو کم ہو جاتی۔ ملک کے مختلف ادارے جو اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں ان کے مطابق ملک کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمریں سترہ سے تیس برس کے درمیان ہیں۔ خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی اس آبادی کے لئے روزگار ‘ تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی حکومت کو دستیاب وسائل سے ممکن نہیں۔اس کے لئے وسائل درکار ہیں جو بیرون ملک بنکوں میں بڑی رقم واپس لانے سے مل سکتے ہیں۔
جو پاکستانی جن میں سیاستدان‘ بیوروکریٹس (سول اور فوجی) تاجر‘ رئیل سٹیٹ کا کام کرنے والے اپنا پیسہ باہر بھیجتے ہیں۔ ان کی پاکستان کے ساتھ وفاداری کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے۔ غریب پاکستان سے لوٹا ہوا پیسہ باہر لے جانے والی شخصیات پاکستان کے مستقبل پر بھی اعتماد نہیں رکھتیں ورنہ وہ یہ پیسہ کم سے کم اپنے ملک میں رکھتیں۔ ملک سے باہر پیسہ لے جانے والے بڑے بڑے لوگوں سے تو وہ غریب پاکستانی کارکن خراج تحسین کے مستحق ہیں اور قوم کو ان کا ممنون ہونا چاہئے جو بیرون ملک محنت مزدوری کر کے 16 سے 18 ارب ڈالر سالانہ اپنے ملک کو دیتے ہیں۔ یہ خون پسینے کی کمائی اپنے وطن کو دے رہے ہیں۔ دنیا کے کئی دوسرے ممالک بھی ہیں جہاں کی معیشتوں نے اس لئے ترقی کی کہ ان ملکوں کے بیرون ملک کام کرنے والے کارکنوں، اوورسیز ورکرز نے اپنی کمائی سے ان ملکوں کو اقتصادی طور پر عظیم طاقت بنا دیا۔ ایک ہمارا وطن ہے جس کے نام نہاد ’’بڑے لوگ‘‘ جونکوں کی طرح خون چوس رہے ہیں۔ ان پر نہ وطن کے نام پر اپیل اثر کرتی ہے اور نہ قانون ان کو اب تک اپنی گرفت میں لا سکا ہے۔
٭٭٭٭٭