پاکستان اور اسرائیل

11 فروری 2018

دنیا کے نقشے پر اس وقت ایک سو اٹھانوے آزاد ممالک ہیں ان سب کا قیام اور بقاء علم سیاسیات اور قانون بین الاقوام وغیرہ کا مرہون منت ہے۔ ان میں ہر ایک اپنے آپ کو ایسی قوم کا مرکز و مسکن سمجھتا ہے جو رنگ ‘ نسل‘ جغرافیہ اور زبان وغیرہ کی یکجائی سے بنی ہے۔ اس اصول سے دو ممالک قدرے مستثنیٰ لگتے ہیں ذیل میں ان دونوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 

1۔ ایک ملک کا نام پاکستان اور دوسرے کا اسرائیل ہے۔
پاک سرزمین کے نام پاکستان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الفاظ پاک اور ستان کو اکٹھا کر کے بنایا گیا ہے۔ پاک کا مطلب ہے‘ مقدس ‘ پاکیزہ اور ستان وہ ظرف مکان ہے جس کا مطلب ہے رہنے کی جگہ‘ یوں پاک + ستان= پاکستان کا مفہوم بنتا ہے‘ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ‘ اسے مسلمانوں کا گھر کہنا بے جا نہ ہو گا۔
دوسرے ملک کا نام اسرائیل ہے جو اسر اور ایل کو جمع کر کے بنایا گیا ہے اسر کا مفہوم ہے عبد یعنی بندہ جبکہ ایل کا مطلب خدا ہے۔ اس لحاظ سے اسر + ایل = اسرائیل کا معنی بنتا ہے خدا کا بندہ‘ اسرائیل کا معنی خدا سے کُشتی لڑنے والا یا وہ جو خدا سے زور آزمائی کرے بھی بیان کیا جاتا ہے۔
2۔ پاکستان کا پورا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے رہنے کی وہ جگہ جس کا نظام حکومت اسلامی ہے اور جمہوری بھی اس نام میں دوسرے سارے مسلم ملکوں کے ناموں کی طرح کسی خاص قسم کی نسل یا علاقے کا کوئی ذکر نہیں یہ بات پاکستان کو دنیا کے دوسرے سارے مسلمان ملکوں سے منفرد و ممتاز بناتی ہے۔
اسرائیل کا عبرانی زبان میں پورا نام ارتزیسرائیل ہے۔ یہ نام ارض اسرائیل کا ہم معنی ہے اس کا مفہوم ہے اسرائیلیوں کی سرزمین۔ یہ نام ایک خاص نسل اور قوم کی طرف واضح اشارہ کر رہا ہے اس کو یہودی ارض موعودہ بھی کہتے ہیں یعنی وہ زمین جس کا یہواہ (یعنی اے وہ جو ہے) نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔
3۔ پاکستان نے جمعتہ الوداع 27 رمضان المبارک 1366ھ بمطابق 14 اگست 1947ء کو برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی تھی۔
اسرائیلیوں نے 12 مئی 1948ء کو خود ہی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔
4۔ کراچی کے بعد پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد (یعنی اسلام کا گھر) ہے۔ تل ابیب کے بعد اب تھوڑا عرصہ پہلے اسرائیل نے یروشلم (بمعنی امن و سلامتی والا شہر) کو اپنا صدر مقام قرار دیا ہے۔
5۔ پاکستان کے جھنڈے میں پانچ کونوں والا تارا ہے یہ پانچ ارکان اسلام اور بلندی کا نشان ہے اس میں سبز رنگ ‘ گنبد خضریٰ کا رنگ بھی سبز ہے۔ مسلمانوں اور امن کا ہے۔ سفید رنگ اقلیتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسرائیلی جھنڈے کے ستارے میں چھ کونے ہیں یہ ستارہ دو تکونوں کے ملاپ سے بنایا گیا ہے اوپر کی طرف جانے والی تکون روحانیت جبکہ نیچے کی طرف رخ رکھنے والی مثلث مادیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ ستارے کے اوپر نیچے دریائے فرات اور دریائے نیل کی نشانی کے طورپر نیلے رنگ کی دو پٹیاں ہیں ان دونوں کے درمیان والے علاقے کو گریٹر اسرائیل (عظیم تر اسرائیل) بنانے کا منصوبہ ہے واضح رہے کہ اس نقشے میں مدینتہ النبیؐ کو بھی (نعوذ باﷲ) شامل کیا گیا ہے۔
6۔ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے مگر دفاتر میں انگریزی استعمال ہوتی ہے۔ اسرائیل کی زبانیں عبرانی اور عربی ہیں۔
7۔ 27 مئی 2017ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ سستر لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو پچاس افراد پر مشتمل ہے۔ 2006ء کے تخمینے کے مطابق اسرائیل کی آبادی چھہتر لاکھ چھبیس ہزار ہے۔
9۔ اخباری ذرائع کے مطابق پاکستان دو قومی نظریے (مسلم و غیر مسلم) کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اسرائیل ایک خون اور ایک نسل کے دعویداروں نے حاصل کیا تھا۔
10۔ پاکستان برصغیر ہی کے مسلمانوں کی انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف چلائی گئی تحریک آزادی کا ثمر ہے۔
اسرائیل ‘ جرمنی روس اور پولینڈ وغیرہ سے لا کر ناجائز طورپر فلسطین میں بسائے گئے یہودیوں کا نتیجہ ہے۔
11۔ پاکستان نسلی برتری کی بجائے ایمان اور تقویٰ کو فضیلت کا معیار سمجھتا ہے۔
اسرائیلیوں کو یقین ہے کہ ’’بنی اسرائیل کو یہواہ (یہودیوں کے خدا کا نام) نے دنیا کی تمام قوموں سے برگذیدہ ٹھہرایا ہے‘‘ اسی لئے وہ دوسری قوموں پر برتری کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
12۔ پاکستانی اﷲ تعالیٰ کو اپنا معبود (یعنی عبادت کے لائق) سمجھتے ہیں اور اسی خالق‘ مالک اور مدبر کے ذاتی نام اﷲ کا ورد اور ذکر کرتے ہیں۔
یہودی اپنے خدا کا نام لینا بے ادبی سمجھتے ہیں اس لئے وہ اسے یہواہ کہتے ہیں۔
13۔ پاکستانی جن ہستیوں کو رسول مانتے ہیں اسرائیلی ان کو بادشاہ کہتے ہیں۔ مگر وہ حضرت عیسیٰ اور محمد رسول اﷲ علیہما السلام کو پیغمبر یا بادشاہ نہیں مانتے۔
14۔ پاکستانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح اﷲ‘ جد الانبیاء ابراہیم علیہ السلام کا بڑا بیٹا اور پیغمبر مانتے ہیں۔
اسرائیلی ان باتوں سے انکاری ہیں۔
15۔ پاکستانیوں کی مسلم اکثریت کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور ان کی لائی ہوئی کتاب تورات کا دور ختم ہو چکا ہے اب آخری رسول محمد کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ و صحابہ وسلم کی رسالت و کتاب (قرآن مجید) کا زمانہ ہے۔
اسرائیلی آج بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور ان کی لائی ہوئی کتاب تورات کو الہامی اور نافذ العمل سمجھتے ہیں۔
16۔ پاکستان کے تین علاقوں کشمیر‘ سیاچن اور سرکریک (اصل نام بال گنگا ہے) پر اسرائیل دوست بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے اپنے قیام کے بعد بھی عربوں کے علاقوں پر ناجائز قبضہ کر کے اپنا رقبہ بڑھایا ہے۔
17۔ پاکستان اکلوتی مسلم ایٹمی طاقت ہے۔
اسرائیل اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اقرار کرتا ہے نہ انکار۔ مشہور یہی ہے کہ اس کے پاس ایٹم بم ہیں۔
18۔ اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن قرار دیا تھا۔ اسرائیل کا دوست بھارت بھی پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔
الکصر ملت واحدہ سے بھی اسرائیل اور بھارت کی پاکستان کے خلاف دشمنی ہی ثابت ہوتی ہے۔
19۔ پاکستان عربوں کا دینی بھائی ہے۔
اسرائیل عربوں کے ساتھ پاکستان کا بھی مخالف ہے۔
20۔ خلافت مسلمانوں کا مذہبی و سیاسی معاملہ ہے۔ اس کا تسلسل خلافت عثمانیہ تک ہے۔ اس کے خاتمے پر ترکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں نے ’’تحریک خلافت‘‘ چلائی مختصر یہ کہ اس تحریک میں ہندو بھی شامل ہو گئے اور موہن داس‘ مہاتما گاندھی نے اس تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ خلافت عثمانیہ ختم کرنے میں یہود کا بھی ہاتھ تھا ان کے ایک رہنما نے امیر المومنین عبدالحمید خان دوم سے ملاقات کر کے فلسطین خریدنے کی درخواست کی تھی مگر آپ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا اس کے بعد جب خلیفتہ المسلمین کو گرفتار کیا گیا تو یہی درخواست کرنے والا بھی موقعہ پر موجود تھا۔ 21 پاکستان امریکی پالیسیوں کا عموماً حامی اور سٹیو‘ سنٹو معاہدوں میں اس کا ساتھی رہا اس کے باوجود اس نے کبھی بھی پاکستان کی ہندوستان کے خلاف مدد نہیں کی۔ اسرائیل نے جب ٹھیک عربوں کے درمیان میں اپنے قیام کا اعلان کیا تو امریکہ نے اسے فوراً تسلیم کر لیا آج تک وہی اس کا دفاع اور مدد کر رہا ہے۔